Screenshot-2023-09-29-at-2-26-51-PM1695979969-0-400x230

ستمبر میں حملوں کی تعداد میں اضافہ اور ریاستی ردعمل

عقیل یوسفزئی
ستمبر 2023 کا آخری ہفتہ پاکستان کی سکیورٹی کے تناظر میں غیر معمولی طور پر بہت بھاری ثابت ہوا اور پاکستان کے مختلف علاقوں میں اس ہفتے کے دوران تقریباً 9 حملے کئے گئے. بعض متوقع حملوں کو فورسز اور انٹیلی جنس اداروں نے ناکام بنایا تو متعدد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن بھی کئے گئے.
29 ستمبر کو حملہ آوروں نے پاکستان کے دو صوبوں خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں تین حملے کئے جس کے نتیجے میں تقریباً 62 افراد جاں بحق ہوگئے. سب سے بڑا حملہ بلوچستان کے علاقے مستونگ میں عید میلاد النبی کے ایک جلوس میں کرایا گیا جو کہ ایک خودکش حملہ تھا. اس کے نتیجے میں 55 افراد شہید جبکہ 20 کے لگ بھگ زخمی ہوگئے.
اسی روز پختون خوا کے شورش زدہ علاقے ضلع ہنگو میں ایک پولیس اسٹیشن کی حدود میں واقع ایک مسجد پر اسی طرز کا ایک حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں تقریباً نصف درجن افراد نشانہ بنے. اگر ایک پولیس اہلکار نے جرآت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک خودکش کو مسجد میں داخل ہونے سے قبل مارا نہیں ہوتا تو مستونگ کی طرح یہاں بھی کافی تباہی ہوجاتی کیونکہ حملے کے وقت مسجد میں تقریباً 35 افراد موجود تھے. فائرنگ کی آوازیں سن کر وہ سب مسجد سے باہر نکل آئے جس کے باعث کئی جانیں محفوظ رہیں.
اسی صبح بلوچستان کے سرحدی علاقے ژوب میں سیکیورٹی فورسز نے ایک مسلح گروپ کو سرحد پار سے داخل ہونے سے روکنے کے لیے ایک کارروائی کی جس کے نتیجے میں چار سیکورٹی اہلکار شہید ہوگئے اور دوسری جانب سے بھی کئ اموات ہوئی.
یہ تمام کارروائیاں 36 گھنٹوں کے دوران ہوئیں اور وہ بھی عید میلاد النبی کے موقع پر.
قبل ازیں پشاور میں ایک مجوزہ حملے کو اسی مبارک موقع پر ناکام بناتے ہوئے دو خودکش حملہ آوروں کو ٹارگٹ تک پہنچنے سے قبل ٹھکانے لگانے کی اطلاعات موصول ہوئیں.
مستونگ کے حملے سے تحریک طالبان پاکستان نے رسمی طور پر ماضی کے بعض دیگر واقعات کی طرح لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ وہ اس طرح کے حملوں پر یقین نہیں رکھتی تاہم سیکیورٹی حکام کا کہنا تھا کہ یہ حملہ ٹی ٹی پی ہی نے کیا ہے اور اس سے لاتعلقی اس لیے ظاہر کی گئی کہ ایسے واقعات پر عوامی ردعمل اور مخالفت سے خود کو بچایا جاسکے. اس ضمن میں جنوری 2023 کو پولیس لائن پشاور کی ایک مسجد کی مثال دی گئی جس سے ٹی ٹی پی نے لاتعلقی ظاہر کی تھی تاہم بعد میں جب گرفتاریاں اور تحقیقات ہوئیں تو اس میں حکام کے مطابق ٹی ٹی پی ہی کا ایک گروپ ملوث نکلا. کورکمانڈر پشاور اور دیگر اعلیٰ حکام ہنگو واقعہ کے بعد ہنگو گئے جہاں سیکورٹی کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور اہم ہدایات جاری کی گئیں.
دوسری جانب آرمی چیف جنرل عاصم منیر اپنی ٹیم کے ہمراہ کویٹہ گئے. انہوں نے زخمیوں کی عیادت کی اور کویٹہ میں صوبائی اپیکس کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں شرکت کی. اس موقع پر بلوچستان کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور حکمت عملی وضع کی گئی. آرمی چیف نے کہا کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رکھیں جائیں گے اور یہ کہ ان حملوں میں دوسروں کے علاوہ وہ بعض پڑوسی ممالک بھی شامل ہیں جو پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتے ہیں تاہم ان سب کے عزائم کو ہر قیمت پر ناکام بنایا جائے گا.
نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے پریس بریفنگ کے دوران براہ راست بھارتی ایجنسی را پر بلوچستان کے حالات خراب کرنے کی ذمہ داری ڈال دی.جبکہ دیگر متعلقہ حکام بھی یہ کہتے پائے گئے کہ را حملہ آور گروپوں کی سرپرستی کررہی ہے.
دوسری جانب 30 ستمبر اور یکم اکتوبر کی درمیانی شب تقریباً ایک درجن افراد نے صوبہ پنجاب کے سرحدی علاقے ضلع میانوالی میں واقع ایک پولیس پوسٹ پر دو اطراف سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں دو طرفہ فائرنگ کے تبادلے میں دو سے تین حملہ آور مارے گئے اور ایک پولیس اہلکار جاں بحق ہوا. ستمبر میں اس ڈسٹرکٹ میں ہونے والا یہ تیسرا حملہ تھا جبکہ پنجاب کے دو دیگر علاقوں کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی.
اس صورتحال سے یہ خدشہ ظاہر کیا جانے لگا کہ شاید اب جنوبی پنجاب کو بھی نشانہ بنانے کی پلاننگ کی جارہی ہے. اس سے قبل پنجاب میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ہوتے رہتے تھے مگر اس نوعیت کے حملوں سے پنجاب محفوظ رہا. بعض صحافیوں کے مطابق عید الاضحٰی کے دنوں میں ٹی ٹی پی کے افغانستان میں منعقدہ ایک اجلاس کے دوران طے پایا تھا کہ پنجاب پر حملوں کی ابتداء کی جائے تاکہ ریاست پر دباؤ بڑھایا جاسکے. جس کے بعد پنجاب کے لیے شیڈو گورنر اور دیگر عہدیداروں کے ناموں کا باقاعدہ اعلان کیا گیا تھا. میانوالی اور بعض دیگر علاقوں میں ہونے والے ان حملوں کو اسی فیصلہ کے تناظر میں دیکھا گیا.
جن دنوں یہ سب کچھ ہوتا رہا اس سے قبل دنوں دو اہم خبریں سامنے آئیں. ایک پشاور میں ہونے والے صوبائی اپیکس کمیٹی کے اس اجلاس کا انعقاد جس میں دوسروں کے علاوہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل ندیم انجم نے بھی شرکت کی اور دوسری یہ خبر کہ افغانستان کی عبوری حکومت نے مولوی ہیبت اللہ کے حکم پر چترال پر ہونے والے حملے میں ملوث ہونے پر تحریک طالبان پاکستان کے 200 افراد کو گرفتار کیا ہے. اس خبر کی تصدیق نہ ہو سکی تاہم یہ اطلاعات زیرِ گردش کرتی رہیں کہ افغان طالبان کی جانب سے ٹی ٹی پی کی ایسی سرگرمیوں پر واقعتاً ناراضگی کا اظہار کیا گیا تھا.اسی پس منظر میں یہ اطلاعات بھی موصول ہوتی رہیں کہ ٹی ٹی پی پاکستان کے سرحدی علاقوں میں واپس آنے پر مجبور کی گئی ہے. اس لئے ایک نتیجہ یہ اخذ کیا گیا کہ یہ حملے اس پیشرفت کا نتیجہ ہیں. پشاور میں اپیکس کمیٹی کا جو اجلاس ہوا تھا اس میں آرمی چیف کی ہدایات حسبِ معمول بہت واضح تھیں. اسکا نتیجہ یہ نکلا کہ سی ٹی ڈی نے اس کے فوراً بعد تقریباً 50 حملہ آوروں کی ایک لسٹ پبلک کی جو کہ مختلف کارروائیوں میں ملوث رہے. ان کی ہیڈ منی بھی بڑھادی گئ جبکہ فورسز کی کارروائیاں بھی مزید تیز کردی گئیں. ایسی ہی ایک کارروائی کے دوران پشاور کے ایک علاقے سے بڑی مقدار میں 28 یا 29 ستمبر کو راکٹ برآمد کیے گئے.
اس سے قبل اسی ھفتے پختون خوا کے علاقے لکی مروت میں بیک وقت پولیس کی ایک چیک پوسٹ، جیل اور پولیس اسٹیشن پر رات کے وقت حملے کئے گئے جن کو ناکام بنایا گیا تاہم اس سے یہ تاثر لیا گیا کہ شاید کوئی بڑا کچھ ہونیوالا ہے.
اس تمام صورتحال نے خیبر پختون خوا کی سیاسی قوتوں کو کافی پریشان کیا کیونکہ ملکی سطح پر جنوری یا فروری میں عام انتخابات کی تیاری دکھائی دی . اسی پس منظر میں جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے 30 ستمبر کو اپنے ایک تفصیلی بیان میں کہا کہ بلوچستان اور پختون خوا میں ان حملوں کے باعث الیکشن کے لئے ماحول بلکل سازگار نہیں ہے اور یہ کہ دوسرے تو ایک طرف وہ بذات خود بھی کسی الیکشن مہم میں حصہ نہیں لے سکتے.
اسی روز افغانستان کے لیے امریکہ کے نمایندہ خصوصی تھامس نے ایک انٹرویو میں کہا کہ پاکستان پر ہونے والے حملوں پر عالمی برادری کو تشویش ہے. انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے معاملے میں افغان اور پاکستانی طالبان ایک پیج پر ہیں.
مستونگ اور ہنگو کے حملوں پر جہاں پاکستان کے اہم علماء نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان میں ایسے حملوں کو خلاف شریعت قرار دیا وہاں ان حملوں پر اقوام متحدہ، امریکہ، برطانیہ، چین، سعودی عرب،کویت اور ترکی سمیت متعدد دیگر ممالک نے بھی شدید ردعمل کا اظہار کیا.
ماہرین کے مطابق پاکستان ان حملوں پر مزید خاموش نہیں رہے گا کیونکہ افغانستان کی حکومت کا رویہ ٹی ٹی پی کے معاملے پر پاکستان کے مطالبات اور خواہشات کے مطابق درست نہیں رہا اور شاید کہ پاکستان مزید سخت اقدامات پر مجبور ہوجائے کیونکہ پاکستان میں ستمبر کے مہینے میں متعدد اہم اقدامات دیکھے گئے اور موجودہ عسکری قیادت سیکورٹی کے معاملے پر سابق قیادت کے بر عکس کوئی کمپرومائز کرتی دکھائی نہیں دے رہی.

afgha

پاکستان میں افغان مہاجرین کاطویل قیام اور اقوام متحدہ کی رپورٹ

پاکستان میں افغان مہاجرین کا طویل قیام اور اقوام متحدہ کی رپورٹ
عقیل یوسفزئی
اقوام متحدہ نے جون 2023 کی جاری کردہ اپنی ایک تفصیلی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں 3.7 ملین (37 لاکھ) افغان مہاجرین قیام پذیر ہیں اور یہ کہ ان کے قیام کو تقریباً 40 سال مکمل ہونے کو ہے. رپورٹ کے مطابق 3.7 ملین مہاجرین میں رجسٹرڈ افراد یا خاندانوں کی تعداد صرف 1.33 ہے باقی غیر قانونی طور پر پاکستان میں قیام پذیر ہیں.
کہا گیا کہ 68. 8 فی صد افغان شہری پاکستان کے شہری یا نیم شہری علاقوں میں جبکہ 31.2 فیصد ملک کے دیگر علاقوں یعنی دیہی علاقوں میں قیام پذیر ہیں.
رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ افغان مہاجرین خیبر پختون خوا میں قیام پذیر ہیں جو کہ 24 فی صد ہیں. بلوچستان 14.3 فی صد کے تناسب سے ان کو پناہ دینے والا دوسرا بڑا مرکز ہے. پنجاب میں 5.5 فی صد جبکہ سندھ میں 3.1 اور اسلام آباد، کشمیر میں تقریباً ایک ایک فیصد مہاجرین آباد ہیں.
یہ بھی بتایا گیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران پاکستان میں 6 لاکھ مزید افغان مہاجرین پاکستان میں آئے ہیں.
اگر اس رپورٹ کا جائزہ لیا جائے تو ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان میں اس کے باوجود افغانستان کے مہاجرین کی تعداد اور آمد میں کمی واقع نہیں ہوئی کہ سال 2002 سے لیکر سال 2021 تک وہاں نہ صرف یہ کہ امن و امان اور گورننس کے معاملات کافی بہتر رہے بلکہ عالمی برادری کی بے پناہ سرمایہ کاری کے باعث روزگار اور ملازمتوں کے مواقع بھی بڑھ گئے تھے. پاکستان میں مہاجرین کی آمد کا سلسلہ 1980 کے بعد اس وقت شروع ہوگیا تھا جب سردار داود خان کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد اس وقت کی کمیونسٹ حکومت نے اپنے مخالفین کے خلاف کارروائیاں شروع کیں اور محض ابتدائی ایک مہینے کے دوران تقریباً25 سے 35 ہزار افراد قتل کئے گئے. (سابق افغان صدر ببرک کارمل کی حکومت کی ایک رپورٹ).
بعد ازاں پاکستان، سعودی عرب، امریکہ اور بعض عالمی اداروں نے خطے میں سوویت یونین کی مہم جوئی کی آڑ میں ان مہاجرین کو بعض مجاہدین گروپوں کے لیے “دستیاب یا مہیا” کرنے کی پالیسی اختیار کی تو ان کی آمد میں مزید اضافہ ہوا. ابتدا میں ان کو کیمپوں میں رکھا گیا اور پختون خوا میں ان کے لیے تقریباً 11 جبکہ بلوچستان میں 9 بڑے کیمپس قائم کئے گئے تاہم چند برسوں بعد ان کو غیر معمولی آزادی اور سہولیات دی گئیں اور یہ پشاور اور کوئٹہ سمیت بڑے شہروں میں نہ صرف رہائش پذیر ہوگئے بلکہ ان کو روزگار اور جائیدادیں خریدنے کی اجازت بھی حاصل رہی. اس کام کے دوران پاکستان کے متعلقہ حکام نے بے پناہ دولت کمائی اور یہ ایک منافع بخش کاروبار کی شکل اختیار کرگئ.
سال 2022 کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں افغان مہاجرین نے تقریباً 20 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کی تھی. مذکورہ رپورٹ کے مطابق آف دی ریکارڈ سرمایہ کاری ایک ٹریلین ڈالر تک کہی جارہی تھی.
پشاور اور کوئٹہ کے علاوہ افغان مہاجرین اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں بھی نہ صرف آباد ہوئے بلکہ وہ کاروبار اور ٹرانسپورٹ کے مختلف شعبوں میں بھی بہت بڑی سرمایہ کاری کرتے نظر آئیں.
پاکستان میں یہ تاثر بہت عام رہا کہ بدامنی اور جرائم میں افغان مہاجرین کا بڑا ہاتھ رہا ہے اور اس کی بنیاد پر مختلف حلقوں اور حکومتوں نے مختلف اوقات میں نہ صرف افغان مخالف مہم چلائی بلکہ کارروائیوں سے بھی گریز نہیں کیا تاہم اس بات کا کوئی نوٹس نہیں لے رہا کہ ان کو غیر قانونی قیام کی اجازت دینے والے اداروں کا کوئی محاسبہ کیوں نہیں دیکھنے کو ملا اور نادرا سمیت بعض دیگر اداروں کا اس تمام صورتحال میں کتنا منفی اور غیر ذمہ دارانہ کردار رہا؟
6 ستمبر2023 کو جب ٹی پی نے چترال اور افغان فورسز نے طورخم پر حملے کیے تو پاکستان میں پھر سے یہ بحث چل نکلی کہ افغانستان کے مہاجرین کو ملک سے نکال دیا جائے اور عام مہاجرین کے علاوہ مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے علاوہ اسمگلنگ، دیگر سرگرمیوں میں ملوث مہاجرین کے خلاف کارروائی بھی شروع کی گئی تاہم اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ مہاجرین کے بارے میں عملاً پاکستان کے متعلقہ اداروں کا کوئی جامع پالیسی سرے سے ہے ہی نہیں اس لئے ان اقدامات کو بھی محض ایک وقتی ردعمل کے طور پر دیکھا گیا.

b1e22ac0-fac7-445f-94c2-688275fd4d24

بھارت پر بڑھتا عالمی دباؤ، را کی کارکردگی اور پاکستان کا مقدمہ

بھارت پر بڑھتا عالمی دباؤ، را کی کارکردگی اور پاکستان کا مقدمہ
عقیل یوسفزئی
بھارت کی انٹیلی جنس ایجنسی را کے ہاتھوں کینیڈا میں ایک سکھ رہنما ہردیپ سنگھ کے قتل پر عالمی کاریڈورز اور میڈیا میں شدید نوعیت کا ردعمل سامنے آرہا ہے اور بھارت کی مودی سرکار سخت دباؤ سے دوچار ہے. ایک ایسے وقت میں جبکہ بی جے پی کو پانچ ریاستوں میں ہونے والے انتخابات میں ناکامی کا سامنا ہے اور مودی انتخابات جیتنے کے لیے حسب معمول اینٹی پاکستان کارڈ استعمال کررہے ہیں کینیڈا کے وزیراعظم کی جانب سے بذات خود اتنا سخت اور واضح سٹینڈ نے بی جے پی کے علاوہ پورے بھارت کو کٹہرے میں لا کھڑا کردیا ہے.
پوری دنیا میں را کی ایسی سرگرمیوں اور اقدامات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور ردعمل اتنا شدید رہا کہ واقعہ میں مبینہ طور پر ملوث آفیسر کو کینیڈا سے بے دخل کردیا گیا جس پر دوسروں کے علاوہ کانگریس پارٹی نے بھی مودی سرکار پر سخت الزامات لگائے ہیں.
کینیڈا کا یہ ایکشن ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب بھارت کی موجودہ حکومت اور بی جے پی دہشتگردی کے نام پر پاکستان کو نہ صرف بدنام کرنے کی مہم پر تھی بلکہ ایک فیک انٹیلی جنس اور ملٹری آپریشن کی اطلاعات بھی زیرِ گردش تھیں اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اور صف بندی عروج پر تھی.
اس واقعے نے پاکستان کے اس بیانیہ کو تقویت دی کہ بھارت عملی طور پر ویسا ہے نہیں جیسا کہ دکھائی دیتا ہے. کشمیر کے ایشو کے علاوہ بھارت میں اقلیتوں کے حقوق کی بحث بھی عالمی برادری اور میڈیا میں شدت کے ساتھ چل نکلی ہے اور ایک ممتاز امریکی اخبار نے اپنے اداریہ میں لکھا کہ امریکہ سمیت تمام بڑی طاقتوں کو بھارتی پالیسیوں اور رویوں کا سخت نوٹس لینا چاہیے.
اس واقعہ کے خلاف پاکستانی دفتر خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ بھارت پاکستان کے خلاف بھی ایسی کارروائیاں کرتا رہا ہے اور علاقائی بدامنی اور دہشت گردی کا سبب بنا ہوا ہے. دوسری جانب پشاور میں سکھ برادری نے بھارت کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ کیا جس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ پاکستان کی اقلیتیں بھارت کی اقلیتوں کے مقابلے میں زیادہ محفوظ ہیں اور عالمی برادری بھارت کا راستہ روکنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں.
بھارت کی ایسی کارروائیاں خود بھارت کے اندر بھی شدید تنقید کا نشانہ بنتی رہی ہیں. مثال کے طور پر کانگریس کے سربراہ راھول گاندھی نے گزشتہ سال پارلیمنٹ میں اپنے خطاب کے دوران کہا کہ مودی اور ان کی پارٹی نے نہ صرف یہ کہ کشمیر کو جیل خانہ میں تبدیل کردیا ہے بلکہ تمام اقلیتوں کو شدید ریاستی دباؤ کا بھی سامنا ہے جس کے باعث بھارت کا جمہوری چہرہ داغدار ہوگیا ہے.
اس سے قبل سال 2014 کے دوران منظر عام پر پر انیوالی مشہور زمانہ کتاب “مشن را” کے مصنف آر کے یادو(RK Yadav) کے مطابق را نہ صرف پنجاب میں 80 کی دھائی کے دوران دہشت گردی اور سکھوں کی نسل کشی ملوث رہی اور اس کے نتیجے میں 1984 میں اندرا گاندھی قتل ہوئی بلکہ را کا 1971 کی پاک بھارت کشیدگی اور جنگ کے دوران بھی بہت منفی کردار رہا.
مصنف کے مطابق را روز اول سے افغانستان کو پاکستان کے خلاف پراکسی کے طور پر استعمال کرتی رہی اور پاکستان کی بعض سیاسی قوتوں کو بھی سپانسر کرتی رہی ہے جس کے باعث پاکستان مختلف مواقع پر بھارت کو “ٹف ٹائم” دیتا رہا اور علاقائی امن خطرے سے دوچار ہوتا رہا.
552 صفحات پر مشتمل اس کتاب میں را کو ایک بے رحم مگر ناکام ادارے کا نام دیا گیا ہے حالانکہ آر کے یادو اس ادارے کے اہم آفیسر رہے ہیں اور وہ بعد میں اہم بھارتی اداروں اور تھنک ٹینکس کا حصہ بھی رہے ہیں.
ایک جگہ پر وہ لکھتے ہیں کہ سال 1968 میں را کے افسران اور اہلکاروں کی تعداد 250 تھی جو کہ 2000 میں 5000 سے زائد ہوگئی. ان کے مطابق اس ایجنسی کی ڈیزایننگ امریکی سی آئی اے کے طرز پر کی گئی تھی یہی وجہ ہے کہ یہ دیگر ممالک میں کھلے عام مداخلت کرتی رہی. ان کے مطابق 1999 میں طیارہ ہائی جیکنگ کا شرمناک واقعہ را کی نااہلی کے باعث ہوا تھا جس کو عالمی سطح پر آئی ایس آئی کی کامیابی کا نام دیا گیا. اسی طرح پارلیمنٹ پر ہونے والے حملے اور ممبئی اٹیک روکنے کی ناکامی سمیت کشمیر، تامل ناڈو اور بنگال میں علیحدگی کی تحریک بھی را کی ناکام اور جارحانہ پالیسیوں کا نتیجہ ہیں.
حالیہ عالمی دباؤ نے بلاشبہ بھارت کی ساکھ کو بہت نقصان پہنچایا ہے ایسے میں پاکستان کو ایک بہترین موقع ملا ہے کہ بھارت کے خلاف اپنا “مقدمہ” سفارتی اور سیاسی سطح پر موثر انداز میں پیش کریں کیونکہ خطے میں بھارت کی بعض پالیسیوں سے پاکستان کے علاوہ چین، سری لنکا، بنگلہ دیش اور بعض دیگر ممالک بھی تنگ اور شاکی ہیں.

apx

سوات اور پشاور میں فورسز کی کارروائیاں اور چترال حملے کا ردعمل

سوات اور پشاور میں فورسز کی کارروائیاں اور چترال حملے کا ردعمل

عقیل یوسفزئ
پاکستان میں دہشت گردی کی جاری لہر پر قابو پانے کیلئے سیکورٹی فورسز کی کارروائیوں اور حکومت کے اقدامات میں تیزی واقع ہوگئی ہے. گزشتہ ہفتے پشاور میں اپیکس کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں متعلقہ حکام کے علاوہ وزیر اعلیٰ اور کور کمانڈر پشاور نے بھی شرکت کی. اجلاس میں سیکورٹی کے مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور کاونٹر سٹریٹجی پر بریفنگ اور مشاورت کی گئی۔
اس کے بعد سی ٹی ڈی اور دیگر متعلقہ اداروں نے پشاور کے علاقہ خزانہ میں ایک کامیاب کارروائی کرتے ہوئے داعش خراسان کے 3 حملہ آوروں کو ہلاک کردیا جو کہ مبینہ طور پر پشاور میں کارروائی کرنے والے تھے.
7 ستمبر کو سیکورٹی فورسز نے سوات کے سیاحتی مرکز فضا گٹ میں ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سابق امیر مولوی فضل اللہ کے قریبی ساتھی کمانڈر نیک محمد کو ہلاک کردیا جو کہ افغانستان میں لمبے عرصے تک قیام کے بعد اس برس سوات واپس آیا تھا. واپسی پر انہوں نے نہ صرف پرانے ساتھیوں کو اکٹھا کیا بلکہ انہوں نے پولیس پر متعدد حملے بھی کئے اور اب کے بار وہ ڈی پی او سمیت کسی اہم عہدیدار کو نشانہ بنانے کی پلاننگ کررہا تھا کہ مارا گیا. وہ بھتہ خوری میں بھی ملوث رہا جبکہ ماضی میں وہ فضل اللہ کے قائم کردہ اس سکواڈ کا سربراہ رہا جو کہ خواتین سمیت دیگر مخالفین کو کوڑے مارنے کے لیے مختص تھا.
دوسری جانب 6 ستمبر کو چترال پر ہونے والے حملے کے بعد علاقے کو کلییر کیا گیا ہے بلکہ اس طرح کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ ٹی ٹی پی کی اس مہم جوئی کا بعض دیگر کے علاوہ افغان طالبان کے سربراہ مولوی ہیبت اللہ اخوند نے بھی نوٹس لیتے ہوئے اس پر نہ صرف ناراضگی کا اظہار کیا ہے بلکہ کنڑ (افغان صوبہ) کو واپس پہنچے والے ٹی ٹی پی کے بعض جنگجوؤں کی گرفتاری کا حکم بھی دے رکھا ہے.
ان تمام اقدامات سے حملہ آور تنظیموں کی سرگرمیاں کافی متاثر ہوگئی ہیں تاہم خطرات تاحال موجود ہیں اور لوگوں میں تشویش بھی موجود ہے. اس تمام منظر نامے میں ایک اچھا اقدام طورخم بارڈر کو آمدورفت اور تجارتی سرگرمیوں کے لئے کھولنے کا فیصلہ ہے جس کا عوامی اور سیاسی سطح پر خیر مقدم کیا گیا ہے. تاہم متعلقہ حکام کا دعویٰ ہے کہ وفاقی حکومت کی سطح پر غیر قانونی ٹریڈ کی روک تھام اور ڈالرز کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لئے ایک جامع پالیسی پر کام جاری ہے تاکہ معاملات کو درست کیا جائے۔

مولانا فضل الرحمان کی ٹی ٹی پی اور امارات اسلامیہ پر تنقید کیوں؟

مولانا فضل الرحمان کی ٹی ٹی پی اور امارات اسلامیہ پر تنقید کیوں؟
عقیل یوسفزئی
پی ڈی ایم کے سربراہ اور جے یو آئی کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد پاکستان بالخصوص خیبر پختون خوا پر ہونے والے حملوں کی تعداد میں اضافہ ہوا جبکہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات بھی بڑھ گئے ہیں تاہم اس صورتحال کا راستہ روکنے کے لیے لازمی ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک مشترکہ کمیشن قائم ہو اور امارات اسلامیہ سمیت بعض دیگر فریقین بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کریں. اگر حملوں کی یہ لہر جاری رہی تو پختون خوا میں الیکشن کا انعقاد خطرے سے دوچار ہوجائے گا.
نامور صحافی اور اینکر پرسن حامد میر کو ایک انٹرویو میں مولانا نے کہا کہ خطے میں امریکی انخلاء کے بعد جنگ تو ختم ہوگئی ہے مگر جنگجو ختم نہیں ہوئے اور انہوں نے اپنے لیے نیا محاذ کھول دیا ہے. اسلام کا دفاع کرنا علماء کرام کا کام ہے بندوق بردار جنگجوؤں کا نہیں تاہم گزشتہ دو ڈھائی برسوں کے دوران بدامنی اور حملوں میں اضافہ ہوا ہے جس کا پاکستان کے اداروں، قایدین اور علماء کے علاوہ امارات اسلامیہ (افغان عبوری حکومت) کو بھی نوٹس لینا چاہئے.
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ “ٹانک سے لیکر باجوڑ اور چترال تک پختون خوا کے بہت سے علاقوں میں نہ صرف حملے جاری ہیں بلکہ ٹارگٹ کلنگ بھی روزانہ کی بنیاد پر ہورہی ہے. گزشتہ کچھ عرصے میں جہاں ہماری پارٹی پر باجوڑ میں حملہ کیا گیا جس میں 73 کارکن اور لوگ شہید ہوئے وہاں اس عرصے میں ہمارے 19 رہنماؤں اور کارکنوں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا. یہ صورت حال اس قدر خطرناک ہے کہ سیاسی قوتوں کو صوبے میں اگلے الیکشن کے انعقاد پر بھی تشویش لاحق ہوگئ ہے. ہم کھل کر الیکشن کی مخالفت اس لیے نہیں کررہے کہ بعض لوگ اس سے یہ تاثر لیں گے کہ ہم اس بہانے الیکشن سے بھاگ رہے ہیں”
ایک اور سوال کے جواب میں مولانا نے کہا کہ کوشش کی جارہی ہے کہ اس صورت حال سے دنیا کو یہ تاثر دیا جائے کہ پاکستان الیکشن کے انعقاد کے علاوہ تجارت، سرمایہ کاری، پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات اور سیکورٹی کے معاملات سلجھانے اور نمٹانے کا بھی قابل نہیں ہے اس لیے لازمی ہے کہ دونوں ممالک ایک مشترکہ کمیشن قائم کرکے اس صورتحال کا کوئی مستقل حل نکال لیں اور تنازعات کے حل کیلئے بھی کوئی راستہ ڈھونڈنے کی کوشش کی جائے۔

911

ناین الیون کا حملہ، 22 سالہ تجربہ اور دنیا پر اس کے اثرات

ناین الیون کا حملہ، 22 سالہ تجربہ اور دنیا پر اس کے اثرات
عقیل یوسفزئی

9 الیون کو وقوع پذیر ہوئے 22 برس گزر گئے ہیں. امریکی اور نیٹو فورسز نے اس حملے کو بنیاد بنا کر افغانستان پر حملہ کیا اور طالبان حکومت کا تختہ الٹ دیا. امریکہ پر ہونے والے حملوں میں کوئی ایک بھی افغان شامل نہیں تھا بلکہ حملہ آوروں کی اکثریت عربوں کی تھی تاہم افغانستان پر حملے کے لئے دو جواز ڈھونڈے گئے. ایک یہ کہ القاعدہ نے اس کی پلاننگ افغانستان میں کی اور دوسرا یہ کہ طالبان حکومت القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی حوالگی سے انکاری ہے. دستیاب معلومات کے مطابق امریکہ ناین الیون کے واقعہ سے قبل افغانستان پر حملہ کرنے کی پلاننگ کرچکا تھا اور یہ اطلاع امریکہ نے سعودی عرب کے ایک اہم ترین وزیر ترکی الفیصل کے ذریعے ملاعمر اور ان کے ساتھیوں کو پہنچا دی تھی. ترکی الفیصل نے اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں اس کا اعتراف کرتے ہوئے جو تفصیل بیان کی ہے اس کے مطابق امریکہ ہر صورت میں اسامہ بن لادن کی گرفتاری چاہتا تھا اور اس مقصد کے لیے پاکستان پر نہ صرف دباؤ تھا بلکہ پاکستان کے بعض اہم عہدے داروں نے عملی کوشش بھی کی تھی جن کو ملا عمر، ٹیم نے “ناں” کہا تھا.
ترکی الفیصل کے علاوہ ملاعمر کے بعض ساتھیوں اور متعدد اہم علماء نے بھی مشورہ دیا تھا کہ اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کرکے مجوزہ حملے سے افغانستان کو بچایا جائے مگر ملا عمر نے دو دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اگر اسامہ بن لادن خود افغانستان سے چلا جانا چاہے تو وہ ان کو نہیں روکیں گے مگر ان کو نکالنے کا اقدام نہیں اٹھائیں گے کیونکہ ان کے بقول اسامہ بن لادن نے افغانستان میں پناہ لے رکھی تھی اور اسلام کے علاوہ پشتونولی کی رو سے بھی پناہ لینے والے کو دشمن کے حوالے نہیں کیا جاتا.یہی بات انہوں نے قندھار میں ہونے والی ملاقات میں ترکی الفیصل کو بھی بتادی.
اس سے قبل امریکہ میں “تہذیبوں کے تصادم” کی تھیوری پیش کی جاچکی تھی جس کی بنیاد یہ تھی کہ سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد امریکہ کو مسلمانوں یا مسلم ممالک کے خلاف جنگ یا مزاحمت کرنی چاہیئے.
ناین الیون کے واقعات نے امریکہ کو یہ موقع فراہم کردیا اور اس نے نہ صرف افغانستان، عراق اور شام پر چڑھائی کی بلکہ پاکستان اور چند دیگر ممالک بھی اس لہر اور جنگ کی لپیٹ میں آنے لگے. اس صورتحال نے علاقائی سطح پر شدید بدامنی اور کشیدگی کو جنم دیا جس کے منفی اثرات اب بھی پوری شدت کے ساتھ موجود ہیں.
امریکہ نے 20 برسوں تک یہ جنگ لڑی جس کے بدلے میں اسے 4 سے 6 ٹریلین ڈالرز کا مالی نقصان اٹھانا پڑا بلکہ اس کے تقریباً 9000 فوجی بھی نشانہ بنے. اس کے بدلے میں کہا گیا کہ اس جنگ کے باعث امریکہ نے القاعدہ کو کمزور کرکے لاحق ممکنہ خطرات کو ختم کیا. تاہم عجیب صورتحال اس وقت بنی جب اسی امریکہ نے سال 2020 کے دوران افغان طالبان سے مذاکرات شروع کیے اور ایک لمبی پراسیس کے ذریعے دوسرے فریق (طالبان) کی شرائط پر افغانستان ان کے سپرد کردیا.
اگست 2021 میں طالبان پھر سے اسی افغانستان پر پھر سے قابض ہوگئے جن کی حکومت امریکہ نے 22 برس قبل بہت بڑی قیمت ادا کرکے ختم کی تھی.
اس تمام صورتحال کا ایک پہلو تو یہ سامنے آئی کہ القاعدہ کمزور ہوگئی تاہم اس حقیقت کو بھی نہیں جھٹلایا جاسکتا کہ ردعمل میں داعش جیسی ایک اور خطرناک، طاقتور اور شدت پسند قوت سامنے آئی جبکہ دوسری طرف افغانستان میں طالبان کے برسرِ اقتدار آنے کے علاوہ تحریک طالبان پاکستان کی قوت میں بھی اضافہ ہوا جس نے 15 اگست 2021 کے بعد پاکستان پر تقریباً 4000 حملے کئے اور حملوں کی یہ لہر 2023 کے دوران بھی جاری رہی.
اگر چہ امریکہ کے مطابق القاعدہ ختم یا کمزور ہوچکی تاہم ایک سابق اہم امریکی عہدیدار جنرل مکینزی نے 11 ستمبر 2023 کو ایک انٹرویو میں بعض دوسرے انکشافات کے علاوہ القاعدہ کے مستقبل اور کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ القاعدہ ختم نہیں ہوئی بلکہ اس کی نئی صف بندی تیزی سے جاری ہے اور یہ کہ افغان طالبان اور ان کی حکومت کے ساتھ القاعدہ کے نہ صرف یہ کہ قریبی روابط قائم ہیں بلکہ فریقین کے درمیان نظریاتی اور تنظیمی ہم آہنگی کے علاوہ “خاندانی” تعلقات بھی موجود ہیں. جنرل مکینزی کے مطابق افغانستان میں طالبان کی حکومت کی موجودگی اور طوالت القاعدہ سمیت بعض دیگر تنظیموں کے لیے بھی مددگار ثابت ہوگی.
تلخ حقائق تو یہ بھی ہیں کہ ان 22 برسوں کے تجربات اور سرمایہ کاری کے باوجود جہاں امریکی مفادات اس اہم خطے میں محفوظ نہیں کہلائے جاسکتے وہاں اس نے بعض اہم اتحادیوں کو بھی بدگمان کردیا ہے اور بہت سے اتحادی چین اور روس کے قریب ہونے لگے جن میں پاکستان بھی شامل ہے حالانکہ پاکستان سال 1979 سے لیکر فروری 2020 کے دوحہ ایگریمنٹ تک نہ صرف امریکہ کا مستقل اتحادی بن کر اس کے ساتھ مل کر افغانستان کے معاملات میں براہ راست امریکہ کا پارٹنر بنا رہا بلکہ ناین الیون کے بعد یہ بوجوہ مسلسل حالت جنگ سے بھی دوچار رہا.
، اقدامات، اثرات اور نتائج جو بھی ہو اس تمام دور کا خلاصہ کچھ یوں بنتا ہے کہ ان 22 برسوں کے نتیجے میں نہ تو علاقائی بدامنی میں کمی واقع ہوئی، نہ امریکہ کے توسیع تر مفادات حاصل ہوسکے اور نہ ہی عالمی امن کو یقینی بنایا جاسکا.بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ علاقائی اور عالمی امن کو درپیش چیلنجز اور خطرات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے تو غلط نہیں ہوگا

yo

ایک پیچیدہ، صبر آزما ریسکیو آپریشن اور قومی یکجہتی کا عملی مظاہرہ

ایک پیچیدہ، صبر آزما ریسکیو آپریشن اور قومی یکجہتی کا عملی مظاہرہ
عقیل یوسفزئی
منگل کی صبح تقریباً 8 بجے پورا ملک اس وقت سکتے کے عالم سے دوچار ہوا جب یہ خبر سامنے آئی کہ خیبر پختون خوا کے دور افتادہ علاقے بٹگرام کے تحصیل آلائ میں 6 بچوں سمیت 8 افراد ایک چیر لفٹ (ڈولی) کی ایک رسی ٹوٹنے کے باعث دو پہاڑوں کے درمیان پھنس گئی ہے. وزیراعظم نے ذاتی طور پر فوری طور پر ریسکیو آپریشن کے احکامات جاری کئے تاہم ناقابل رسائی اور پیچیدہ علاقہ ہونے کے باعث جائے وقوعہ پر پہنچنے میں متعلقہ اداروں کو کافی وقت لگ گیا. اس دوران معاملے کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے آرمی چیف نے بھی عسکری اداروں کو تمام درکار اقدامات اٹھانے اور وسائل بروئے کار لانے کی ہدایات دیں جس کے نتیجے میں تین چار ہیلی کاپٹروں سمیت ایس ایس جی کو بھی علاقے میں پہنچا دیا گیا اور اس آپریشن کی نگرانی جی او سی نے خود کی.
آپریشن کے دوران تمام خدشات اور امکانات کا بغور جائزہ لیا گیا کیونکہ بعض بنیادی تکنیکی اور موسمی مسائل آڑے آرہے تھے اور اداروں کی کوشش رہی کہ اس آپریشن کو کسی جانی نقصان یا رسک کے بغیر سرانجام دیا جائے.
تقریباً 13 گھنٹے کی اس مشکل پراسیس کے دوران جہاں متعلقہ ادارے خصوصاً پاک فوج مشکل صورتحال سے دوچار رہے اور مختلف آپشنز پر پلاننگ ہوتی رہی وہاں پاکستان کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے عوام متاثرین اور حکومتی اداروں کی خیریت اور کامیابی کے لیے دعائیں کرتے رہے. اگر یہ کہا جائے کہ عرصہ دراز کے بعد پہلی دفعہ کسی واقعے نے پوری قوم کو متحد کردیا تھا تو غلط نہیں ہوگا.
اگر چہ آپریشن کی کامیابی کے بعد بعض ریاست بیزار سیاسی حلقوں نے سول ملٹری کریڈٹ کی آڑ میں حسبِ معمول پولیٹیکل پوائنٹ سکورنگ کرتے ہوئے پروپیگنڈا مہم چلانے کی کوشش کی تاہم ان کی تعداد بہت کم رہی اور عوام کی اکثریت نے اپنے اداروں کی کارکردگی کو خراج تحسین پیش کی.
بعض لوگوں نے لا علمی میں یا جان بوجھ کر اس آپریشن کی تکنیکی مشکلات اور مجوزہ خطرات کو سمجھے بغیر سوشل میڈیا پر منفی مہم چلائی تاہم مجموعی طور پر عوام کا اعتماد بحال رہا اور اسی کا نتیجہ ہے کہ آئی ایس پی آر نے جو اعلامیہ جاری کیا اس میں تمام متعلقہ سول اداروں اور انتظامیہ کے علاوہ مقامی لوگوں کے کردار کو بطور خاص سراہا گیا.
اس موقع پر بعض سنجیدہ سیاسی اور صحافتی حلقوں نے بجا طور پر نگران صوبائی حکومت کی لاتعلقی پر مبنی رویہ کو تنقید کا نشانہ بنایا کیونکہ جس وقت پوری قوم دعائیں مانگ رہی تھی، سکتے کے عالم میں تھی اور درست معلومات کی تلاش میں تھی اس وقت پشاور کے “حکمران” ایک روٹین کی تقریب کے انعقاد میں مصروف عمل تھے.
حالت یہ تھی کہ کوئی بھی صوبائی عہدے دار تفصیلات بتانے کے لیے بھی میڈیا کو دستیاب نہیں تھا. دوسری جانب جے یو آئی (ف) سے تعلق رکھنے والے بٹگرام کے بعض اہم عہدیداروں نے نہ صرف میڈیا کو منفی اور مایوس کن اطلاعات پہنچانے کا سلسلہ جاری رکھا بلکہ گورنر موصوف بھی پورے منظر نامہ سے غائب رہے حالانکہ ایسے مواقع پر اداروں اور متاثرین کو اخلاقی سپورٹ فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہوتی ہے.
شکر ہے کہ کسی نقصان کے بغیر یہ آزمائش گزر گئی اب ضرورت اس بات کی ہے کہ آیندہ کے لیے ایسے کسی اور واقعہ سے بچنے کے لیے ان لوکل چیئر لفٹس (ڈولی) کی نہ صرف سخت مانیٹرنگ کی جائے بلکہ ان کو محفوظ بنانے کیلئے سہولیات بھی فراہم کی جائیں کیونکہ مالاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن کے علاوہ کشمیر اور گلگت بلتستان میں لاکھوں لوگ اس سسٹم کے ذریعے روزانہ کی بنیاد پر آمدورفت کرتے ہیں اور ان کی آمدورفت کو محفوظ بنانا حکومت کے بنیادی فرائض میں آتا ہے۔

edi

پبلسٹی کا شوق، نظریات کی لڑائی یا کچھ اور؟

پبلسٹی کا شوق، نظریات کی لڑائی یا کچھ اور؟
عقیل یوسفزئی

اس میں کوئی دو آراء نہیں کہ پاکستان کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے اور بعض بنیادی مسائل کو ماضی کی دو طرفہ پالیسیوں اور غلطیوں کے تناظر میں نہ صرف دیکھنا چاہیے بلکہ بعض حلقوں کے رویوں کا بھی اس پس منظر میں دیکھنے کی اشد ضرورت ہے کہ وہ جو بات کررہے ہیں یا جو حرکت کررہے ہیں وہ ان کی اپنی سوچ اور اپروچ کا نتیجہ ہے یا وہ چند مبینہ مقاصد یا ایجنڈے کی حصول کیلئے ایسا کرتے رہتے ہیں؟
ہر ملک اور ہر سوسائٹی میں مختلف ایشوز کو مختلف زاویوں سے دیکھنے اور پرکھنے کی سوچ موجود ہوتی ہے اور یہ ایک فطری عمل ہے تاہم بعض معاشروں میں بعض لوگ مسائل اور تلخیاں کم کرنے کی بجائے ان میں مزید اضافے کا راستہ اپناتے ہیں اور پاکستان کو کافی عرصہ سے ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہے.
سوشل میڈیا کی بے لگام گھوڑے نے سیاست، ریاست، صحافت اور معاشرے کے بعض دیگر اہم شعبوں کو نہ صرف مذاق بناکر رکھ دیا ہے بلکہ ہر دوسرے بندے کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنی رائے کو زبردستی دوسروں پر مسلط کرکے اپنی آنا کو تسکین پہنچائیں. ہم سیاسی مخالفت میں ذاتیات پر اترنے کے عادی ہوگئے ہیں اور بعض حساس معاملات کی نزاکت کو سمجھے بغیر پوائنٹ سکورنگ اور سیلف پبلسٹی کے ایسے “خطرناک شوق” میں مبتلا ہوچکے ہیں کہ اب ہر کوئی نہ صرف دوسروں کو آذیت دینے کی ایک مشین کی شکل اختیار کرچکا ہے بلکہ اکثر خودپسندی اور نرگسیت جیسے مسائل کا شکار ہوکر دوسروں کے علاوہ خود کو بھی تکلیف دینے کا سبب بنتے دکھائی دینے لگے ہیں۔
چند روز سے ایلیٹ کلاس سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کی گرفتاری سے یہ تاثر دیا جارہا ہے جیسے پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہو حالانکہ ایسی گرفتاریاں ہوتی رہتی ہیں اور بعد میں نہ صرف اکثر لوگ بعض درکار تقاضوں کے بعد رہا ہوجاتے ہیں بلکہ چند دنوں بعد وہ واقعہ عوام کے علاوہ مدعیان کو بھی یاد نہیں رہتا. ایسا ہوتا رہا ہے اور ہوتا رہے گا تاہم ایسے واقعات کے دوران ہم جذبات میں آکر سیاسی ورکرز اور عوام میں بدگمانی اور نفرت پھیلانے کا راستہ ہموار کردیتے ہیں اور اس کا نقصان سب کو اٹھانا پڑتا ہے.
جس موصوفہ کی گرفتاری پر آسمان سر پر اٹھایا گیا اس کی جب 9 مئی کے بعد اپنے گھر پر “بات” آئی تو انہوں نے اپنی والدہ کو سیاست سے دستبردار کرادیا تاہم دوسروں نے بوجوہ ان کو بات کرنے کا ایک سٹیج اور موقع فراہم کیا تو انہوں نے پوائنٹ سکورنگ کرتے ہوئے ایسے نعرے لگائے اور لگوائے جن کی نہ تو بظاہر کوئی ضرورت تھی اور نہ ہی کوئی فائدہ.
پاکستان میں انسانی حقوق اور اظہار رائے کی بے شمار دکانیں کھلی ہوئی ہیں اور اکثر دکانیں وہ لوگ چلارہے ہیں جن کا عوام کے ساتھ کوئی تعلق اور رابطہ ہی نہیں ہوتا شاید اسی تناظر میں اقوام متحدہ نے چند برس قبل ایک پڑوسی جنگ زدہ ملک کی این جی اوز کو دنیا کے کرپٹ ترین اداروں کے نام سے مخاطب کیا تھا. حالیہ مہم میں بھی اکثریت اشرافیہ پر مشتمل ان حلقوں کی رہی جن میں 80 فی صد اس ملک کے عوام کے درمیان رہنا بھی اپنے شان اور پروٹوکول کے منافی سمجھ کر بیرون ملک مقیم ہیں. یہ ایسے واقعات اور نعروں کی آڑ میں بعض تلخ زمینی حقائق کو مسخ کرکے پروپیگنڈا مہم کا حصہ بنتے ہیں اور عوام کو متنفر اور مایوس کرنے کا سبب بنتے ہیں.
اس میں کوئی شک نہیں کہ پختون خوا اور بلوچستان کو نہ صرف متعدد ذیادتیوں اور نامساعد حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ادارہ جاتی مسائل بھی موجود ہیں تاہم مسائل کے حل کی بجائے مسائل کو مزید پیچیدہ بنانے والے بھی جنگ زدہ عوام کے ساتھ عملی طور پر کوئی اچھائی نہیں کررہے۔
جدید ریاستیں بہت طاقتور ہوا کرتی ہیں. جو حلقے عوام کا نام لیکر عام ورکرز اور عوام کو ریاست کے ساتھ لڑانا چاہتے ہیں اور خود تکلیف آنے پر شیشوں کے گھروں میں بیٹھ کر تماشہ دیکھ رہے ہوتے ہیں وہ عوام اور اپنے ملک کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں رکھتے. ضرورت اس بات کی ہے کہ جاری حالات اور بعض سنگین نوعیت کے چیلنجز کو مدنظر رکھ کر ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کی جائے اور ریاست بھی کھلے دل سے کام لے کر درگزر کی پالیسی اختیار کریں تاکہ ایسے عناصر کو غیر ضروری اہمیت اور پبلسٹی نہ ملے۔

edi

ایک مفرور سابق وزیر کی غلط بیانی

ایک مفرور سابق وزیر کی غلط بیانی
عقیل یوسفزئی
سوات سے تعلق رکھنے والے ایک سابق وفاقی وزیر نے اپنی ایک ٹویٹ میں حقائق کو مسخ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سوات اور بعض دیگر علاقوں میں پاکستان کے ریاستی ادارے ایک سازش کی تحت طالبان وغیرہ کو اس لیے دوبارہ لے آئے کہ ان کی پارٹی کو ناکام اور بدنام کیا جاسکے. مذکورہ مفرور رہنما نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ اس لیے کافی عرصہ سے روپوش ہیں کہ ایک کالعدم تنظیم ان کو ہلاک کرنا چاہتی ہے وغیرہ وغیرہ
پہلی بات تو یہ ہے کہ طالبان کے ساتھ کسی اور نے نہیں بلکہ ان کے لیڈر اور ان کے سابق وزیراعظم نے مذاکرات کا آغاز کیا تھا اور آن دی ریکارڈ موصوف کے علاوہ ان کے صدر نے بھی یہ کہا تھا کہ وہ اتنے ہزار طالبان کو افغانستان سے پاکستان لاکر بسانا چاہتے ہیں اور اسی پلان کے تحت انہی کے صدر مملکت نے 100 سے زائد طالبان کو رہا کروا دیا تھا.
دوسری بات یہ کہ شاید موصوف یہ بھول گئے ہیں کہ جس وقت سواتی طالبان نے تحصیل مٹہ میں ایک پولیس پارٹی پر حملہ کیا اور ایک فوجی افسر کو یرغمال بنایا اس وقت خیبر پختون خوا میں کسی اور کی نہیں بلکہ انہی کی پارٹی کی حکومت تھی اور یہ پہلی کارروائی ان کے وزیراعلیٰ کے آبائی حلقے میں کی گئی تھی. یہ انہی کی حکومت تھی جن کے وزراء پر طالبان کو بھتہ دینے کے سنجیدہ الزامات لگتے جارہے تھے. اس لئے وہ حقائق مسخ کرنی کی بجائے اس وقت کی اپنی صوبائی حکومت کو اس کا ذمہ دار قرار دیں تو زیادہ بہتر ہوگا.
یہ بات بھی ریکارڈ پر موجود ہے کہ اسی حکومت کے ترجمان نے ایک بار کہا تھا کہ کچھ طالبان اپنے ایک رشتہ دار کی عیادت کرنے سوات آئے تھے. سابق وفاقی وزیر کو یہ یاددہانی بھی کرائی جائے کہ اے پی ایس کا افسوس ناک واقعہ بھی انہی کی صوبائی حکومت کے دور اقتدار میں وقوع پذیر ہوا تھا. ساتھ میں یہ بھی کہ جاری جنگ میں اب کے بار 95 فی صد حملے فورسز خصوصاً کے پی پولیس پر کرائے گئے ہیں اس لیے یہ منطق سمجھ سے بالاتر ہے کہ ریاستی اداروں کو اس صورت حال کا ذمہ دار قرار دیا جائے. ان کی صوبائی حکومت میں تو وزراء پولیس افسران اور جوانوں کی جنازے میں شرکت کرنے سے بھی گریز کرتے رہے.
جہاں تک موصوف کی روپوشی کا تعلق ہے اس کا پس منظر ایک معروف اینکر پرسن کو پشاور کے راستے دبئی بھیجنے، ان کی لیپ ٹاپ کی موصوف کے ساتھ موجودگی کی اطلاعات اور اس کے بعد 9 مئ کے واقعات سے ہے نا کہ طالبان کی ان کی مخالفت سے.
پاکستان بالخصوص خیبر پختون خوا میں درجنوں سیاسی رہنماؤں، مشران اور افسران،جوانوں نے اس جنگ میں نہ صرف جانیں قربان کی ہیں بلکہ سنگین خطرات کے باوجود اب بھی لاتعداد لوگ ڈٹے ہوئے ہیں. ان میں سے کتنے موصوف کی طرح روپوش ہوگئے ہیں وہ اس کا بھی ایک جائزہ لیں۔

کی بورڈ واریرز سے نجات حاصل کرنے کی ضرورت

کی بورڈ واریرز سے نجات حاصل کرنے کی ضرورت
عقیل یوسفزئی
یہ بہت بڑا مسئلہ اور المیہ ہے کہ ایک مخصوص پارٹی نے گزشتہ 10 برسوں کے دوران نہ صرف پاکستانی معاشرے کو ہر سطح پر تقسیم کرنے کی شعوری کوشش کی بلکہ نام ونہاد سوشل میڈیا نیٹ ورکس کا انتہائی غیرذمہ دارانہ استعمال کرکے اس پارٹی نے نئی نسل، خواتین کے ذہنوں میں نفرت کا ایسا بیج بو ڈالا جس سے اگنے والے پودے اب تناور درخت بن چکے ہیں. ان میں سے اکثر نے2017 سے لیکر 2022 تک اس پارٹی کی حکومت کے دوران پاکستانی سیاست اور معاشرت کو لامحدود سرکاری وسائل کے ذریعے بدترین منفی پروپیگنڈا کا نشانہ بناکر دشمنوں سے بھی بڑھ کر اس ملک کا نقصان کیا اور اب بیرون ممالک میں بیٹھ کر اسی مہم کو آگے بڑھانے میں مصروف عمل ہیں.

شہباز شریف کی زیرقیادت پی ڈی ایم اور اس کے اتحادیوں کی جو حکومت برسرِ اقتدار آئی وہ اس “مخلوق” کا راستہ روکنے میں بوجوہ ناکام رہی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انہی حرکتوں کے باعث 9 مئی کے واقعات کا راستہ ہموار کیا گیا جس کو عالمی میڈیا نے پاکستان کے اندر خانہ جنگی اور بغاوت کا نام دیا. جو لوگ 9 مئی کے واقعات میں ملوث پائے گئے ان میں سے اکثریت کو “آزادعدلیہ” نے ریکارڈ تعداد میں سہولیات سے نوازا جس سے ریاست کے خلاف کارروائیاں کرنے والوں کو مذید حوصلہ ملا اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے.
خیبر پختون خوا کی تو حالت یہ رہی کہ یہاں سرکاری سرپرستی میں ریاست اور سیاسی مخالفین کو گالیاں دینے اور ان کی کردار کشی کے لیے تنخواہوں پر 300 سے زائد افراد پر مشتمل ایک ٹیم بنائی گئی.
9 مئ کے واقعات اس کے پس پردہ طاقتور حلقوں کی تحقیقات کا جب پاکستان کے سیکورٹی اداروں نے نوٹس لینا شروع کیا اور ملک گیر کریک ڈاؤن کا آغاز کیا گیا تو ان کی بورڈ واریرز کی سرگرمیوں میں کمی واقع ہوئی تاہم ان کا زہر معاشرے میں اتنا پھیل چکا ہے کہ اس کے خاتمے کیلئے مزید بہت کچھ کرنا باقی ہے.
اسی طرز عمل کا ادراک کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے 14 اگست کی اپنی حالیہ تقریر کے دوران بطور خاص ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور اس کے اداروں کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی.
مسئلہ یہ ہے کہ مذکورہ پارٹی کی دیکھا دیکھی بعض دیگر ایسے گروپوں نے بھی یہی راستہ اختیار کیا اس لیے بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان کو اس مخلوق سے نمٹنے کیلئے اب ایک جامع اور سنجیدہ پالیسی اپنانے کی اشد ضرورت ہے. سوشل میڈیا کی سخت مانیٹرنگ سے متعلقہ سول ادارے اپنے فرائض موجود چیلنجز کے تناظر میں سرانجام دینے میں ناکام دکھائی دے رہے ہیں اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ جھوٹ اور کردار کشی کی ان فیکٹریوں کا بلاتاخیر خاتمہ کیا جائے اور جو قوتیں ان فیکٹریوں کی سرپرستی کررہی ہیں ان کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے.