Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Friday, September 30, 2022

اے پی ایس از خود کیس سماعت ، وزیراعظم کے دلائل اور تحقیقاتی رپورٹ

وزیراعظم عمران خان نے سانحہ اے پی ایس از خود نوٹس کیس کے دوران طلبی پر سپریم کورٹ میں پیش ہوکر ایک اچھی روایت اور مثال پیش کر لی ہے اور ساتھ میں یہ موقف بھی اپنایا ہے کہ اس ضمن میں مزید تحقیقات یا تلافی کے لئے عدالت جو بھی حکم دے گی اس پر عمل کیا جائے گا اور یہ کہ کوئی بھی مقدس گائے نہیں ہے۔
دوران سماعت سپریم کورٹ کے ججز اور وزیراعظم عمران خان کے درمیان جہاں ایک طرف سوال و جواب کا تبادلہ ہوا وہاں وزیراعظم کو بعض سخت ریمارکس کا بھی سامنا کرنا پڑا جبکہ وزیراعظم نے وار آن ٹیرر کے مختلف اسباب ، پہلوؤں، اثرات اور پالیسیوں کے بارے میں اپنا موقف بھی واضح انداز میں عدالت ،عوام کے سامنے رکھا۔
عدالت نے اپنے ریمارکس میں بعض ایسی باتیں بھی کیں جن کے بارے میں اٹارنی جنرل اور دیگر متعلقہ حکام کو عمران خان کو پیشی سے قبل تفصیلات کی فراہمی کی صورت میں بتانا چاہیے تھا۔ مثال کے طور پر اس سانحہ کی اعلیٰ سطعی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن قائم کیا گیا تھا جو کہ 225 صفحات کی ایک جامع رپورٹ کی شکل میں کافی عرصہ قبل پبلک کی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں پشاورکے سابق کور کمانڈر اور تین حساس اداروں کے اہم ذمہ داران سمیت متعدد دوسرے افسران کے بیانات شامل ہیں جبکہ اس رپورٹ میں یہ بھی شامل ہے کہ سانحہ اے پی ایس کے ذمہ داران کون تھے، پلاننگ کہاں ہوئی، حملہ آوروں کا انجام کیا ہوا اور متاثرین کو انصاف دلانے اور ان کی ذہنی بحالی کے لیے ریاستی سطح پر کون کون سے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ پتہ نہیں اس دوران مذکورہ رپورٹ پر بات کیوں نہیں کی گئی؟

رپورٹ میں سیکیورٹی لیپس کے ایشو پر بھی تفصیلات موجود ہیں جبکہ ان اعلٰی ترین افسران کے خلاف کی گئی ادارہ جاتی کاروائیوں کے نام اور ذکر بھی شامل ہیں جن کو اس واقعے کے بعد محاسبہ اور کارروائی کا سامنا کرنا پڑا ۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ جو ادارہ جاتی کارروائیاں کی گئیں ان میں بعض سیکورٹی اہلکاروں کی برطرفی اور متعدد کو لمبی قید کی سزائیں بھی شامل ہیں۔ مثال کے طور پر پانچ سپاہیوں کو اٹھائیس اٹھائیس برسوں کی سزائے قید ہوئی۔ تو اسی طرح ایک میجر سمیت پانچ اہلکار برطرف کئے گئے جبکہ دوسری طرف دس مزید اہلکاروں سمیت چار اعلیٰ فوجی افسران کو بھی مختلف نوعیت کی سزاؤں کا سامنا کرنا پڑا۔ مذکورہ رپورٹ میں بڑے واضح انداز میں کہا گیا ہے کہ سکول کی انتظامیہ سمیت مذکورہ علاقے کے بعض سیکیورٹی حکام نے بھی حملوں کے تھریٹ کے باوجود درکار حفاظتی اقدامات نہیں کیے۔ تاہم بعد میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت جہاں تمام تعلیمی اداروں اور عمارتوں کے لیے ایک پلان تشکیل دیا گیا وہاں لاتعداد کارروائیاں کرکے اے پی ایس سانحہ کے ماسٹر مائنڈ سمیت سینکڑوں دیگر حملہ آوروں کو ٹھکانے بھی لگایا گیا۔
سپریم کورٹ کو یہ تفصیلات فراہم کرنے کی بھی ضرورت تھی کہ ریاست نے سانحہ اے پی ایس کے بعد متاثرہ خاندانوں کی ذہنی اور معاشی بحالی اور مدد کے سلسلے میں مثالی اقدامات کیے اور شہداء کے ورثا کے لیے تین مختلف قسم کے پیکجز پر عمل درآمد کرکے ان کے زخموں پر مرہم پٹی رکھنے کی کوشش کی گئی۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے علاوہ پاک آرمی نے اپنے طور پر بھی بہت سے ایسے اقدامات کیے جن کو متاثرین کے علاوہ عالمی برادری نے بھی سراہا۔

جہاں تک اس تاثر کا تعلق ہے کہ متاثرین کو انصاف نہیں ملا، اس پر دو سے زائد آراء موجود ہیں اور والدین حسب توقع اب بھی مزید بہت کچھ کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ تاہم یہ کہنا مناسب نہیں ہے کہ ریاست نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں یا ذمہ داران کو درکار سزائیں نہیں دی گئیں۔ یاد رہے کہ سانحہ اے پی ایس کے دوران 3 فیمیل ٹیچرز سمیت فوجی افسران کے 20 سے زائد بچے بھی شہید ہوئے۔ ایسے میں سازشی تھیوریوں یا پولیٹیکل پوائنٹ سکورنگ کی آڑ میں اس قومی سانحے سے سیاسی فائدہ اٹھانے کا رویہ ترک کرنا چاہیے۔
اگر متاثرین کے علاوہ سپریم کورٹ بھی یہ سمجھتی ہے کہ تحقیقات اور دیگر کاروائیاں ناکافی ہیں تو وزیراعظم کی پیشکش اور یقین دہانی کی بنیاد پر اس ضمن میں مزید تسلی کے لیے اقدامات کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ تاہم اس کے لیے شرط یہ ہے کہ نیک نیتی اور میرٹ کی بنیاد پر بعض تلخ حقائق کا ادراک کرتے ہوئے مخالفت برائے مخالفت کے روایتی رویےسے گریز کیا جائے اور بدگمانیاں کم کی جائیں۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket