Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Friday, September 30, 2022

تہکال واقعے کے منفی اثرات اور پولیس فورس کی ساکھ

ان سطور میں بار بار اس جانب توجہ دلانے کی بھرپور کوشش کی جاتی رہی ہےکہ سوشل میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ اور غیر محتاط استعمال سے بہت سے ایسے مسائل اور جھگڑے جنم لے رہے ہیں جو کہ بعد میں پورے معاشرے کو نہ صرف اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں بلکہ وہ نفرت ،مزاحمت اور دشمنی کا سبب بھی بن جاتے ہیں۔ عامر تہکالے کا حالیہ کیس اس کی بڑی مثال ہے جس نے لوگوں کو جہاں ایک طرف خوف زدہ اور مشتعل کیا تو دوسری طرف چند کالی بھیڑوں کی غیر قانونی اور غیر اخلاقی حرکت کے باعث پختونخواہ پولیس کی ساکھ اور وقار کو بھی داؤ پر لگا دیا۔
اس افسوسناک واقعے کے دو پہلو ہیں۔ ایک تو یہ کہ اگر سائبر کرائم ونگ والے عامر تہکالے اور ایسے بے شمار دوسرے افراد کے خلاف غیر اخلاقی مواد شیئر کرنے کا بروقت نوٹس لیتی تو جاری بےچینی اور کشیدگی کی نوبت نہ آتی۔ دوسرا پہلو اس سے بھی افسوسناک ہیں اور وہ یہ کہ پولیس نے تمام تر قوانین ،طریقہ کار اور اخلاقیات کو بالائے طاق رکھ کر رد عمل کے طور پر پشاور جیسے مرکزی شہر میں رات دو بجے عامر تہکالے کے گھر پر لیڈی پولیس کے بغیر دھاوا بول کر نہ صرف ہٹ دھرمی اور قانون شکنی کا راستہ اپنایا بلکہ عامر تہکالے کے ساتھ کئے جانے والے شرمناک سلوک کی خود ویڈیو بنا کر اپنے ہی بعض افسران کے ذریعے یہ سوچے سمجھے بغیر اسے وائرل کر دیا کہ اس کا ردعمل کیا ہوگا اور اس سے مثالی پولیس کے دعوے کو کتنا نقصان پہنچے گا؟
دونوں رویّے افسوسناک اور غیر اخلاقی ہیں دوسرا رویہ یا طریقہ اس لیے زیادہ قابل مذمت ٹھرا کہ یہ کام قانون کے رکھوالوں کے ہاتھوں سر انجام پایا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام مشتعل ہوگئے ،مظاہرے کیے گئے اور اس واقعے کی بازگشت میں میڈیا کے علاوہ سینٹ اور صوبائی اسمبلی میں بھی سنائی دی۔ پورے صوبے میں مظاہرے اب بھی جاری ہیں کیونکہ ہر شخص ذاتی طور پر خوف زدہ اور پریشان ہو گیا ہے اور اس قسم کے واقعات میں پولیس کی ساکھ کو داؤ پر لگا دیا ہے۔
حکومت نے وزیر اعلٰی اور آئی جی کی سطح پر دوسری ویڈیو کا نوٹس لے کر جہاں ایک طرف اعلٰی سطح انکوائری تشکیل دی ہے وہاں فوری طور پر تشدد کرنے اور غیر اخلاقی ویڈیو بنانے کے ذمہ دار پولیس افسر اور بعض دیگر کے خلاف ایکشن بھی لیا ہے۔ اِس اطلاع یا الزام کی بنیاد پر کہ اس کارروائی کا ایس ایس پی آپریشن کو علم تھا۔ ظہور آفریدی کو اُن کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہے اور مزید اُن افسران کے خلاف بھی کاروائی متوقع ہے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اس گھناؤنی اور غیر اخلاقی حرکت میں مبینہ طور پر ملوث ہیں یا انہوں نے ہی جان بوجھ کر مذکورہ ویڈیو وائرل کر کے حکومت اور پولیس فورس کو مشکل میں ڈال دیا ہے ۔
مشاہدے میں آیا ہے کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران خیبرپختونخواہ پولیس پر تشدد ہوگئی ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر یہ فورس کسی نہ کسی تنازعے یا غیر قانونی حرکت کا شکار ہوجاتی ہے۔ اس سے قبل نوشہرہ میں اسی پولیس نے ایک حاملہ خاتون پر ان کے رشتہ داروں سے رشوت لے کر تشدد کیا تو وزیر اعلٰی نے اس کا نوٹس لیا۔ بعض دیگر افسوسناک واقعات بھی سامنے آئے مگر اس کی روک تھام کا سلسلہ اقدامات کی بجائے محض روایتی معطلی یا نام و نہاد انکوائری تک محدود رہا اور شاید اسی نرمی کا نتیجہ حالیہ افسوسناک اور شرمناک واقعہ کی شکل میں نکل آیاجس نے معاشرے کے ہر فرد کے علاوہ پوری فورس اور حکومت تک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
عامر تہکالے کے واقعے کا بنیادی تعلق پولیس کی تربیت، ڈسپلین اور ہماری اجتماعی اخلاقیات سے ہے۔ اس لئے اس کے منفی اثرات لمبے عرصے تک محسوس کیے جائیں گے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس واقعے کو مثال بنا کر معاشرے کو خوف اور عدم تحفظ سے نکالا جائے اور کسی کے ساتھ رعایت نہ برتی جائے۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket