Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Tuesday, September 27, 2022

آپریشن ضرب عضب کے چھ سال مکمل

ملکی تاریخ کے سب سے بڑے خطرناک اور لمبے آپریشن یعنی آپریشن ضرب عضب کے چھ سال مکمل ہو گئے ہیں تاہم وزیرستان میں چند ایک علاقے اب بھی ایسے ہیں جہاں وقفے وقفے سے کاروائیاں ہوتی رہتی ہیں جبکہ فورسز کو نہ صرف یہ کہ محدود کیا گیا ہے بلکہ اکثر علاقے سول انتظامیہ اور پولیس کے سپرد کیے گئے ہیں۔ اس مشکل آپریشن کا آغاز 15 جون 2014 کے روز کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد وزیرستان کے دو اضلاع خصوصاً شمالی وزیرستان کو طالبان اور ان کے اتحادی تنظیموں پر قبضے اور غلبے سے آزاد کرا نا ،وہاں امن اور حکومتی رٹ قائم کرنا تھا ۔ سال 2001 کے بعد جب نیٹو اور امریکی فورسز افغانستان میں داخل ہوگئیں اور طالبان کی حکومت کا خاتمہ کیا گیا تو ہزاروں کی تعداد میں جنگجو سابق فاٹا کے مختلف علاقوں خصوصاً وزیرستان چلے آئے جہاں مقامی آبادی کے بعض حلقوں اور ہمدردوں نے ان کو پناہ دی ۔جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ لوگ ان علاقوں میں قیام پذیر ہوئے اور آہستہ آہستہ انھوں نے نہ صرف یہ کہ حکومتی رٹ کو بلکہ حکومت کے حامی ملکان اور پرامن شہریوں کو یرغمال بنایا اور چیلنج کیا جس کے باعث سینکڑوں افراد کو یا تو مارا گیا یا ان کو علاقہ چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ روایتی انتظامی کمزوری سے فائدہ اٹھایا گیا ۔
پاکستان کے اس وقت کی حکومت نے ان عناصر کے خلاف بوجوہ محدود کاروائیاں کیں تاہم علاقے میں ان کا اثر و رسوخ بڑھتا گیا اور جب سال 2007 میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے نام سے پر تشدد تنظیم یا گروہ کا قیام عمل میں لایا گیا تو مسئلہ اور معاملہ صرف وزیرستان یا قبائلی علاقوں تک محدود نہیں رہا بلکہ پورا خیبرپختونخواہ بدترین حملوں کی زد میں آنے لگا اور 2008کے دوران ملاکنڈڈویژن خصوصاً سوات، بونیر اور دیر بھی ریاستی اداروں کے لیے بیک وقت کئی محاذوں پر لڑنا مشکل تھا۔ اس لیے انہوں نے 2009 میں ملاکنڈ ڈویژن میں بڑے آپریشن کا آغاز کردیا مگر وزیرستان کو بوجوہ چھیڑنے سے گریز کی پالیسی اپنا ئی حالانکہ اس دوران عالمی برادری خصوصاً امریکہ نے پاکستان پر شمالی وزیرستان میں کارروائی کے لیے بہت دباؤ ڈالا۔ ایک بڑا مسئلہ یہ درپیش رہا کہ سرحدی اور انتظامی کمزوریوں کے باعث افغانستان سے مقامی طالبان کے علاوہ غیر ملکیوں کی مسلسل آمد اور مسلسل حملوں کا سلسلہ بھی جاری رہا جس کے باعث زیادہ توجہ دوسرے علاقوں خصوصاً ملاکنڈڈویژن و پشاور پر دی گئی اور سوات کو 2010 کے دوران مکمل طور پر صاف کیا گیا۔
2007 کے بعد چونکہ پورا ملک حملوں کی زد میں آیا تھا اس لئے وزیرستان پر زیادہ توجہ نہیں دی جا سکی اور جب 2013 میں حالات نسبتاً قابو میں آنے لگے تو 15 جون 2014 کے دوران آپریشن ضرب عضب کا باقاعدہ آغاز کیا گیا جس کے دوران سینکڑوں جنگجوؤں کو یا تو مارا گیا یا وہ فرار ہوئے یا گرفتار کیے گئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس آپریشن کے دوران 3400 جنگجوؤں کو مارا گیا جبکہ کارروائیوں کے نتیجے میں پاک فوج کے سینکڑوں جوانوں اور درجنوں افسران نے بھی اپنی جانیں قربان کیں۔ عالمی میڈیا نے نہ صرف اس آپریشن کو مشکل ترین کاروائی کا نام دیا بلکہ افغانستان میں جاری امریکی آپریشنز کے مقابلے میں اس کو مؤثر اور کامیاب بھی قرار دیا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج 95 فیصد علاقہ پرامن قرار دیا جا چکا ہے۔ اس آپریشن کے نتیجے میں تقریبا ًپندرہ لاکھ لوگوں نے نقل مکانی کی جبکہ سینکڑوں گھر ، مارکیٹیں اور دوکانیں متاثر ہوئیں۔ پندرہ لاکھ میں سے 97 فیصد واپس اپنے علاقوں میں جا چکے ہیں جبکہ متاثرہ املاک کی بحالی کیلئے متاثرین کو اربوں روپے دیئے جاچکے ہیں اور مزید دیے جا رہے ہیں ۔سول انتظامیہ کو مضبوط بنانے کا عمل اب بھی جاری ہیں جبکہ آباد کاری، تعمیر نو اور ترقی کے متعدد بڑے منصوبے یا تو مکمل کیے جا چکے ہیں یا زیرتکمیل ہیں ۔ اس وقت صورتحال ماضی کے مقابلے میں بہت بہتر ہے اور مستقل امن و استحکام کے لیے کام جاری ہے۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket