پشاور:پاک فوج اور فرنٹیر کور کے جوانوں نے وادی تیراہ میں تمام راستوں سے برف ہٹا کر شاہراہوں کو ٹریفک کیلئے بحال کردیا۔
ضلع خیبرکی وادی تیر ا ہ میں شدید بارشوں اور برفانی طوفان کی وجہ سے علاقے میں بڑی تعداد میں کچے مکانات کو نقصانات کے ساتھ ساتھ رابطہ سڑکیں بند ہونے سے علاقہ مکینوں کو شدید مشکلات کا سامناتھا۔متاثرہ مکینوں کی مدد کے لیے پاک فوج اور ایف سی کے جوانوں نے ریسکیو آپریشن کرتے ہوئے تمام راستوں سے برف ہٹا کر ٹریفک کی آمدورفت بحال کر دی۔
تیراہ وادی میں حالیہ برف باری سے 20سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا،سکیورٹی فورسز کے جوانوں نے برف میں پھنسے افراد کو دشوار گزار راستوں سے نکالا اور150سے زائد خاندانوں کو ریسکیو کیا اور ان کو کھانے پینے کی اشیاء بھی فراہم کیں۔
محکمہ آبنوشی خیبرپختونخوا اور واپڈا کے مابین مفاہمتی یاداشت پر دستخط
پشاور:محکمہ آبنوشی خیبرپختونخوا اور واپڈا کے مابین پشاور کی مختلف واٹر سپلائی سکیموں کی بحالی اور سولرآئزیشن منصوبے کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب پیر کے روز منعقد ہوئی۔
یورپی یونین گرانٹ کمیونٹی ڈویلپمنٹ پراجیکٹ ورسک ڈیم 2 منصوبے کے تحت پشاور کی مختلف یونین کونسلز میں موجود واٹرسپلائی سکیموں کو سولرائز اوراپ گریڈ کیا جائیگاجو کہ بعد از تکمیل محکمہ آبنوشی کے حوالے کی جائے گی۔
مفاہمتی یاداشت کے موقع پر سیکرٹری محکمہ آبنوشی ادریس خان، چیف انجینئر سنٹرل پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ، چیف انجینئر واپڈا، ڈائریکٹر ٹیکنیکل پبلک ہیلتھ انجینئرنگ وسیم مروت اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔ اس منصوبے کے تحت واٹر سپلائی سکیموں کی اپ گریڈیشن اور فعالی یقینی ہوجائے گی اور ان کی فعالیت میں حائل انرجی کے مسائل پر قابو پا کر عوام کو ہمہ وقت پینے کا صاف پانی فراہم کیا جائیگا۔
معاشرتی برائیوں اور جرائم کیخلاف ”خیبرپختونخوا قومی جرگہ تشکیل“
مردان: امن و امان کو بحال رکھنے، منشیات، سود، انڈر پلے اور قبضہ مافیا کے خلاف خیبر پختونخوا قومی جرگہ کے پلیٹ فارم سے مختلف سیاسی و سماجی شخصیات نے مشن کا آغاز کردیا۔
پہلے مشاورتی گرینڈ جرگہ میں 11 اضلاع سے مختلف اصلاحی تنظیموں کے نامور جرگہ ممبران نے شرکت کی۔اس موقع پر سہراب علی،اسرار خان غالہ، جہانزیب خان، عنایت خان،مولانا انور السلام،شیخ الحدیث مولانا قاسم، مفتی حماد اللہ، زرقند خان و دیگر اجلاس میں شریک ہوئے۔
شرکاء نے میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا کہ اجلاس میں جرگہ سسٹم کی آفادیت اور معاشرے میں امن و امان قائم کرنے پر بات کی گئی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ معاشرے سے ہر قسم کی برائیوں کا خاتمہ کریں گے،ریاست کے تمام سرکاری اداروں کے ساتھ مل کر ملک دشمن عناصر کے خلاف علم بلند کریں گے۔اس مشن میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔
ضم اضلاع میں نرسز بھرتیوں پر انکوائری آئندہ ہفتے مکمل ہوجائیگی
وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے اسمبلی فلور پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ قبائلی اضلاع کیلئےفکس پے پر 481 نرسز کی بھرتیوں پر تحفظات اور سوشل میڈیا پر اُٹھائے گئے سوالات سے متعلق انکوائرئ جاری ہے ۔ انکوائرئ کمیٹی اپنی رپورٹ آئندہ ہفتے پیش کریگی جسے میڈیا کے سامنے پیش کیا جائیگا۔ سب کچھ میرٹ کی بنیاد پر ہی ہوا ہے۔۔
انہوں نے بتایا کہ ان آسامیوں کیلئے قبائلی اضلاع کے امیدوار پہلی ترجیح تھے اور حکومت چاہتی ہے کہ قبائلی اضلاع کے تعلیم یافتہ اور ہنر مند افراد کو برسر روزگار لائے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بھرتیاں نہ کرانے سے قبائلی اضلاع کے عوام کا نقصان ہوگا اور صحت کا ڈھانچہ مفلوج ہوجائے گا۔ ہم نے آج بھی قبائلی اضلاع سمیت صوبے کے دور دراز علاقوں کے عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لئےہیلتھ فاونڈیشن کے ذریعے صوبے کے مختلف اضلاع کے 10 طبی مراکز کے انتظام و انصرام کی آوٹ سورسنگ کے معاہدوں پر دستخط کئے ہیں تاکہ قبائلی کو گھر کی دہلیز پر علاج معالجے کی بہترین سہولیات مہیا ہو۔
ان طبی مراکز میں کٹیگری اے ہسپتال وانا، کٹیگری سی ہسپتال مشتی میلہ، کٹیگری ڈی ہسپتال کوہستان، کٹیگری ڈی ہسپتال بازار ذخہ خیل، کٹیگری ڈی ہسپتال رزمک اور دیگر شامل ہیں۔
خیبرپختونخوا میں بارشوں اور برف باری سے نقصانات کی رپورٹ جاری
خیبرپختونخوا میں حالیہ بارشوں اور برف باری سے مجموعی طور پر 18افراد جاں بحق، 46 زخمی جبکہ 146 کے قریب مویشی ہلاک ہوگئے اس کے علاوہ 113 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا۔
پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) ترجمان کے مطابق اپر دیر میں 2خواتین اور 7بچوں سمیت 10افراد جاں بحق، 7 زخمی اور 140 مویشی ہلاک ہوئے، اسی طرح 25عمارتوں کو نقصان پہنچا۔خیبر میں 2خواتین اور 3بچوں سمیت 7 افراد جاں بحق جبکہ 30گھروں کو نقصان پہنچا۔مردان میں ایک بچہ جاں بحق، 5افراد زخمی اور ایک مکان کو نقصان پہنچا۔کرک میں 5افراد زخمی ہوئے اور 3گھروں کو نقصان پہنچا۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق چارسدہ میں 4افراد زخمی ہوئے اور 13گھروں کو نقصان پہنچا۔ڈیرہ اسماعیل خان میں 4افراد زخمی ہوئے اور 2گھروں کو نقصان پہنچا۔مالاکنڈ میں 2افراد زخمی ہوئے اور 4گھروں کو نقصان پہنچا۔لوئر کوہستان میں ایک شخص جاں بحق اور ایک زخمی ہوا۔پشاور میں ایک شخص زخمی ہوا اور 4عمارتوں کو نقصان پہنچا۔نوشہرہ میں ایک شخص زخمی اور 9گھروں کو نقصان پہنچا۔لوئردیر،بونیر، تورغراورشانگلہ میں ایک/ ایک گھر کو جزوی نقصان پہنچا،سوات میں 2گھروں کو نقصان پہنچا اور2مویشی ہلاک ہوئے۔مہمند میں 4مویشی ہلاک ہوئے اور 14گھروں کو نقصان پہنچا،ہنگو میں 3اورکوہاٹ میں 2گھروں کو نقصان پہنچا۔
ترجمان نے بتایا کہ چارسدہ،کرک،خیبر،مہمند،نوشہرہ،اور دیراپر میں متاثرہ خاندانوں میں امدادی سامان تقسیم کر دیا گیاہے، وزیراعلی خیبر پختونخوا کی ہدایت پرمتعلقہ ضلعی انتظامیہ کی امدادی کاروائیاں جاری ہیں،گلیات میں توحید آباداور کنڈلہ سے سنو سلائیڈنگ ہٹا دی گئی ہیں،سلائیڈذ کی اونچائی 40 فٹ تک ہے۔
انہوں نے بتایا کہ متاثرہ خاندانوں کو پالیسی کے مطابق معاوضے کی ادائیگی کی جائے گی،پی ڈی ایم اے تمام اضلاع کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے،ضلعی انتظامیہ،ریسکیو 1122 اور جی ڈی اے کے اہلکار بھاری مشینری کے ساتھ فیلڈ میں موجود ہیں۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے سعودی وزیر دفاع کی ملاقات
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے سعودی عرب کے وزیر دفاع میجر جنرل طلال عبد اللہ نے ملاقات کی۔دونوں رہنماؤں کے درمیان پاک سعودیہ دو طرفہ تعلقات، علاقائی امور، افغان صورت حال پر بات چیت کی گئی۔
ترجمان آئی ایس پی آر کے مطابق سعودی وزیر دفاع نے جی ایچ کیو کا دورہ کیا اور آرمی چیف جنرل قمر جاوبد باجوہ سے ملاقات کی۔آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے،افغانستان میں استحکام کی مشترکہ کوششوں میں تیزی کی ضرورت پر زوردیتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ افغانستان میں انسانی المیہ سے نمٹنے کے لیے امن اور مفاہمت کی ضرورت ہے، سعودی وزیر دفاع نے افغان امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔
خیبر پختونخواہ:صحت کی سہولیات کے لیے 10 طبی مراکز آوٹ سورسنگ معائدہ
خیبر پختونخوا کے دور دراز علاقوں کے عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی ہیلتھ فاونڈیشن کے ذریعے صوبے کے مختلف اضلاع کے 10 طبی مراکز کے انتظام و انصرام کی آوٹ سورسنگ کے معاہدوں پر دستخط۔
معاہدوں پر دستخط کرنے کی تقریب وزیر اعلی ہاوس میں منعقد ہوئی۔ وزیر اعلی کی موجودگی میں خیبر پختونخوا ہیلتھ فاونڈیشن اور سماجی تنظیموں کے درمیان معاہدوں پر دستخط۔
ان طبی مراکز میں کٹیگری اے ہسپتال وانا، کٹیگری سی ہسپتال مشتی میلہ، کٹیگری ڈی ہسپتال کوہستان، کٹیگری ڈی ہسپتال بازار ذخہ خیل، کٹیگری ڈی ہسپتال رزمک اور دیگر شامل ہیں۔
ان ہسپتالوں کے انتظام و انصرام کی آوٹ سورسنگ سے یہ ہسپتال دن میں 24 گھنٹے فعال ہو جائیں گے۔دور دراز علاقوں کے ان مراکز صحت میں طبی عملے، آلات اور ادویات کی ہمہ وقت دستیابی یقینی بنائی جائے گی۔اس موقع پر وزیراعلیٰ محمود خان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے دور دراز علاقوں کے لوگوں کو علاج معالجے کی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم ہونگی۔
ملک بھر میں 24 گھنٹوں میں، ایک ہزار 649 کورونا کیسز رپورٹ
ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے مزید ایک ہزار 649 کیسز سامنے، کیسز مثبت آنے کی شرح 3.66 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 45 ہزار 2 ٹیسٹ کیے گئے۔
اس وقت ملک بھر میں کورونا وائرس کے 17 ہزار 748 فعال کیسز موجود ہیں جن میں سے 617 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سندھ میں 928 کیسز، پنجاب میں 561 کیسز جبکہ ایک ہلاک، خیبر پختونخواہ میں 42 جبکی ایک جانبحق، بلوچستان میں ایک کیس جبکہ اسلام آباد میں 113 اور گلگت بلتستان میں دو کیسز جبکہ آزاد کشمیر میں دو کیسز اور ایک موت واقعہ ہوئی۔
اب تک پاکستان میں کورونا وائرس کے 13 لاکھ 5 ہزار 707 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں جن میں 12 لاکھ 58 ہزار 987 مریض صحتیاب ہوئے جبکہ 28 ہزار 972 مریض لقمہ اجل بن گئے۔
این سی اوسی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 7 لاکھ 6 ہزار 192 افراد کو وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لگائی گئی۔ اب تک ملک میں 7 کروڑ 38 لاکھ 62 ہزار 234 مکمل ویکسینیٹڈ ہوچکے ہیں ۔
خیبرپختونخوا اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں دھند کے باعث اہم شاہراہیں بند
خیبرپختونخوا اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں دھند کے باعث اہم شاہراہیں بند رہیں گی اس کے علاہ پروازوں کا شیڈول بھی متاثر ۔موٹروے ایم ون
پشاور سے صوابی تک دھند کے باعث بند ہے۔ ۔موٹروے ایم ون رشکئی انٹرچینج سے پشاور ٹول پلازہ
موٹروے ایم تھری فیض پور انٹر چینج سے درخانہ انٹر چینج تک، موٹر وے ایم فور شام کوٹ سے عبدالحکیم تک، موٹروے ایم فور شیر شاہ سے شام کوٹ تک، موٹروے ایم 5 شیر شاہ سے ظاہر پیر موٹروے ایم 5 اقبال آباد انٹر چینج سے روہڑی ٹال پلازہ تک بند ہے
موٹروے ایم ون، ایم ٹو، ایم تھری، ایم فور اور فائیو کئی مقامات پر بند ہوگئی۔ علامہ اقبال انٹرنیشل ایئرپورٹ پر دھند کے باعث فلائٹ آپریشن متاثر ہے۔دھند کے باعث 6 پروازیں تاخیر کا شکار جبکہ دو منسوخ کر دی گئیں۔
بد احتیاطی، نااہلی کے نتائج اور خیبر پختونخوا
پاکستان کے سیاحتی مرکز مری میں گزشتہ دنوں روڈ بلاک اور بدترین ٹھنڈ کے باعث دو درجن کے قریب سیاحوں کی اموات نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا ہے۔ جاں بحق ہونے والوں میں ضلع مردان کے چار دوستوں کے علاوہ ضلع تلہ گنگ سے تعلق رکھنے والے ایک پولیس آفیسر سمیت ان کے چار بچے اور بچیاں بھی شامل ہیں۔
مری ایک تنگ وادی اور محدود علاقہ ہے اور اس کے انتظامات کبھی بھی مثالی نہیں رہے۔ ماضی میں سیاح مقامی انتظامیہ، ہوٹل مالکان کے منفی رویہ کے بارے میں نہ صرف مسلسل شکایات کرتے دیکھے گئے بلکہ یہاں مختلف مواقعوں پر بعض تلخ واقعات بھی تواتر کیساتھ ہوتے رہے ہیں۔ اس کے باوجود سیاحوں کی بڑی تعداد یہاں کا رخ اس لئے کرتے ہیں کہ یہ اسلام آباد سے صرف ایک دو گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔
اب کے بار کہا جا رہا ہے کہ برفباری سے لطف اندوز ہونے کے لئے تقریباً تین لاکھ افراد نے مری کا رخ کیا جبکہ برفانی طوفان نے وادی اور اس کے نظام کے علاوہ سیاحوں کی تعداد کے باعث بہت سی مشکلات پیدا کیں اور حالات قابو سے باہر ہو گئے۔ انتظامیہ نے اس کے باوجود لاتعداد گاڑیوں کو مری میں داخل ہونے دیا کہ ان کو وادی کی کھپت اور غیر معمولی برفباری کے نتائج کا علم تھا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگ ماہرین اور سیاسی رہنما اس سانحے کی ذمہ داری حکومت پر ڈال رہے ہیں اور اسی تناظر میں وزیراعظم نے ایک اعلی سطحی تحقیقاتی کمیشن کے قیام کا اعلان بھی کردیا ہے۔ دوسری کوتاہی یہ ہوئی کہ مقامی انتظامیہ اور اسلام آباد کے متعلقہ حکام نے بعض سیاحوں اور ان کے رشتے داروں کے مسلسل رابطے کے باوجود پھنسے ہوئے سیاحوں کو نکالنے کے لیے ہنگامی اقدامات نہیں کیے اور یہ لوگ صبح کا انتظار کرتے رہے۔ مقامی آبادی بھی حسب سابق اس صورتحال میں سیاحوں کی مدد سے لاتعلق رہے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 25 افراد انتہائی بےبسی کی حالت میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور سیاحت کو سخت دھچکا لگا۔ اس کے علاوہ گورننس کا ایشو اور متعلقہ اداروں کی نااہلی اور کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے جانے لگے۔
اس سانحہ کے دوران جہاں سیاحوں نے بد احتیاطی کا مظاہرہ کیا اور انتظامیہ نے غفلت برتی وہاں بعض وزراء کے بیانات اور رویے نے بھی متاثرین اور عوام کے زخموں پر نمک پاشی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جس کے باعث ایک قومی سانحے نے سیاسی ایشو کی صورت اختیار کی جبکہ بعض حلقوں نے اس کے باوجود پاک فوج کو بحث میں گھسیٹنے کی کوشش کی کہ فوج نے ہی امدادی سرگرمیوں میں بنیادی کردار ادا کرکے مزید نقصان کا راستہ روکا۔
واقعات، حادثات اور سانحات ہوتے رہتے ہیں تاہم غفلت اور اداروں کی نااہلی کو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے لازمی ہے کہ تحقیقاتی رپورٹ کے بعد غفلت برتنے والے اداروں یا افراد کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے۔ اس کے علاوہ جن ہوٹل مالکان نے اس سانحہ اور صورتحال کے دوران لالچ میں آکر مدد کرنے کی بجائے مصیبت زدہ سیاحوں کو لوٹنے کی بدترین مثالیں قائم کیں ان کی ہوٹل اور گیسٹ ہاؤسز کو سیل کیا جائے جبکہ متاثرین کے لیے شہداء پیکج کے طرز پر امدادی پیکج کا فوری اعلان کیا جائے۔
جس وقت مری میں صورتحال بڑے سانحات کو جنم دے رہی تھی اسی دوران ایسے ہی حالات کا قریبی علاقے گلیات میں خیبرپختونخوا کی انتظامیہ، ہوٹل مالکان اور سیاحوں کو بھی سامنا تھا۔ دونوں علاقے چند ہی کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہیں اور گلیات میں بھی سیاحوں کی بڑی تعداد نہ صرف موجود ہے بلکہ سینکڑوں گاڑیاں بھی پھنسی ہوئی تھی تاہم حیرت انگیز طور پر وہاں کی انتظامیہ، ہوٹل مالکان اور مقامی آبادی کا رویہ، کردار اور طرز عمل بالکل مختلف، ذمہ دارانہ اور مشفقانہ رہا۔ حکومت خیبر پختونخوا بہت الرٹ رہی، گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے حکام جاگتے رہے جبکہ 1122 کے اہلکاروں سمیت پولیس اور دیگر ادارے متحرک رہے ۔ ہوٹل مالکان اور مقامی آبادی نے بھی مری والوں کے برعکس یکسر مختلف رویہ اپنایا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہاں پر کوئی بڑا جانی نقصان یا سانحہ سامنے نہیں آیا۔ اس کو سراہا جانا چاہیے کیونکہ خیبرپختونخوا کا حکومتی، سیاسی اور سماجی کلچر ہر دور اور ہر جگہ دوسرے صوبوں اور علاقوں کے مقابلے میں مختلف رہا ہے اور اس کی ستائش کے علاوہ اس کی تقلید بھی ہونی چاہیے۔ ایسے ہی مثبت طرز عمل کے عملی مظاہرےہم سوات، دیر، چترال اور وزیرستان کے سیاحتی مراکز میں بھی وقتاً فوقتاً دیکھتے آئے ہیں۔