Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Monday, September 26, 2022

یونیورسٹیوں کا مالی بحران اور ڈریس کوڈ

سیاسی علمی اور عوامی حلقوں میں ہزارہ یونیورسٹی کی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کافی دنوں سے زیر بحث ہے جس میں فیکلٹی ممبران طلباء و طالبات کے لئے لباس سے متعلق بعض شرائط کا تعین کیا گیا ہے۔ دوسری طرف باچاخان یونیورسٹی اور چارسدہ نے بھی ایک اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں سکیورٹی خدشات کی آڑ میں چادر پہننے اور سگریٹ نوشی پر پابندی لگائی گئی ہے۔ پشاور یونیورسٹی کا ایک فیصلہ بھی سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مالی بحران کے پیش نظر نئے بھرتی ہونے والے ملازمین کو پنشن کی سہولت نہیں دی جائے گی۔ اکثر ملازمین سٹوڈنٹس اور تجزیہ کاروں نے ان تینوں فیصلوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسی طرح تناظر میں ایک نئی بحث بھی شروع ہو گئی ہے۔

جہاں تک ہزارہ یونیورسٹی کے ڈریس کوڈ کے اعلامیہ کا تعلق ہے اس بارے میں انتظامیہ کا کہنا ہے کہ علاقے کی مخصوص ثقافتی اقدار کے علاوہ بعض طالبات اور اُن کے والدین کی شکایات، تجاویز کے تناظر میں یہ اقدام اٹھایا گیا ہے کیونکہ یونیورسٹی کسی بڑے یا جدید شہر کی بجائے مانسہرہ جیسے پہاڑی اور دور افتادہ علاقے میں واقع ہے اور مقامی آبادی کے علاوہ مقامی طالبات اور ان کے والدین کی مسلسل شکایات بھی موصول ہو رہی تھیں۔ حکومتی ترجمان کے مطابق اس انتظامی فیصلے پر نظر ثانی کی جاسکتی ہے اور یہ تاثر غلط ہے کہ اس کا مقصد ڈریس کوڈ کی آڑ میں تنگ نظری کو فروغ دینا ہے۔

 

روشن خیال حلقوں کا موقف ہے کہ یونیورسٹی لیول پر اس قسم کی پابندیوں کا اطلاق معاشرے اور اسٹوڈنٹس کو ذہنی گھٹن سے دوچار کرنے کے مترادف ہے اس لئے یہ فیصلہ واپس لیا جائے جبکہ اکثریت اس معاملے پر بحث کو غیرضروری معاملہ اور نان ایشو قرار دے کر کہتے ہیں کہ مخصوص ثقافتی حالات کے تناظر میں اگر یہ اقدام اٹھایا گیا ہے تو اس پر اعتراضات کا کوئی جواز نہیں اور یہ کہ فیکلٹی کو اس علاقے کے عوام اور روایات کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ جہاں کوئی یونیورسٹی یا ایسا کوئی دوسرا ادارہ موجود ہو۔

باچاخان یونیورسٹی پر اس سے قبل بدترین دہشت گرد حملہ کرایا جا چکا ہے اس لیے وہاں کے فیصلے کو سیکورٹی پائنٹ اف ویو کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

 

جہاں تک پشاور یونیورسٹی کا تعلق ہے یہ بھرپور حکومتی توجہ کا حامل مسئلہ ہے کیونکہ اس ادارے کو تمام یونیورسٹیوں کی مادر علمی کا مقام حاصل ہے اور اس کے مالی بحران اور مسائل کو مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پینشن کے مسئلے اور فیصلے کی وضاحت اور اس پر

نظر ثانی کی بھی اشد ضرورت ہے کیونکہ یہ صوبے اور ملک کے مروجہ اور مقبول طریقہ کار اور فارمولے سے متصادم ہے۔ اگر یونیورسٹی میں غیر ضروری بھرتیاں کی گئی ہیں تو پیوٹا کو اعتماد میں لے کر اس کا سدباب کیا جائے کیونکہ حکومت اور بعض متعلقہ حلقوں کا کہنا ہے کہ تمام ایسی یونیورسٹیوں میں سیاسی بنیادوں پر غیر ضروری بھرتیاں کی گئی ہیں جس کے باعث یہ ادارے مالی اور انتظامی بحرانوں کا شکار ہوگئے ہیں۔ ایسے ہی بحران کا گومل یونیورسٹی اور عبدالولی خان یونیورسٹی مردان سمیت بعض دیگر یونیورسٹیوں کو بھی سامنا ہے۔

 

پیوٹا کے صدر پروفیسر ڈاکٹر فضل ناصر نے حال ہی میں انکشاف کیا ہے کہ فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث پشاور یونیورسٹی میں تحقیق کی مد میں ایک پائی بھی خرچ نہیں ہوئی ہے حالانکہ ریسرچ ورک کے بغیر کسی فعال یونیورسٹی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا اور اگر پشاور یونیورسٹی جیسے تاریخی اور قدیم ادارے کا یہ حال ہے تو یہ نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ قابل افسوس بھی ہے۔

 

یونیورسٹیوں کی سطح پر جنسی ہراسگی اور منشیات کے استعمال کی اطلاع اور واقعات کا بھی سخت نوٹس لینے کی ضرورت ہے کیونکہ اس رجحان سے طالبات اور ان کے والدین میں بہت تشویش پائی جاتی ہے اور ان مسائل کا مستقل حل ناگزیر ہے۔ حکومتی حلقوں کے مطابق کافی عرصے سے تعلیمی اداروں خصوصاً یونیورسٹیوں میں تعلیمی اور انتظامی اصلاحات کی مختلف تجاویز پر کام جاری ہے تاکہ بعض بنیادی نقائص، کمزوریوں اور شکایات کا مستقل بنیادوں پر حل نکالا جاسکے اور اس ضمن میں بعض فیصلوں پر عملی اقدامات کا باقاعدہ آغاز ہو بھی چکا ہے

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket