Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Tuesday, September 27, 2022

کے پی صحت سہولت پروگرام 2021 کا نمایاں قدم

تحریر :کشمالہ یوسفزئی

سن 2021  اختتام پزیر ہوا چاہتا ہے۔ ایک ایسا سال جس میں ایک طرف کورونا جیسی وباء نے جہاں دنیا کی معیشت کو نقصان پہنچایا، ہزاروں جانیں ضائیع ہوئیں وہیں پاکستان بالخصوص خیبر پختونخواہ کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا۔

صوبے میں کئی دہائیوں تک صحت کی سہولیات ایک بڑا مسئلہ رہی ہیں اور اس قسم کی صحت کی ایمرجنسی صورتحال میں مزید بوجھ برداشت کرنے کے قابل انفراسٹرکچر ہونا لازمی ہے۔ ماضی میں حکومتوں نے اپنی سی کوشش کی کہ صحت و علاج معالجے کی سہولیات کو بہتر کیا جائے تاہم موجودہ حکومت کا صحت کارڈ منصوبہ ایک ایسا قدم ہے جس کو صوبے کے عوام نے کافی سراہا۔

صحت کارڈ پلس خیبرپختونخوا کے تمام شہریوں کے لیے ایک مائیکرو ہیلتھ انشورنس پروگرام ہے۔ یہ خیبرپختونخوا حکومت کے اہم پروگراموں میں سے ایک ہے۔ اس پروگرام کے تحت، کے پی کے 7.2 ملین سے زائد خاندانوں کو مریضوں کی صحت کی دیکھ بھال کی مفت خدمات مل رہی ہیں۔ فائدہ اٹھانے والے خاندانوں کا ڈیٹا نادرا سے حاصل کیا جاتا ہے۔ فائدہ اٹھانے والوں کو خدمات مکمل طور پر مفت دی جاتی ہیں ۔زیادہ سے زیادہ حد تک۔ 10 ملین فی خاندان فی سال۔ پروگرام کی سالانہ لاگت تقریباً 18 ارب ہے۔

یہ سہولیات صوبے بھر میں معاہدہ کے تحت سرکاری اور نجی ہسپتالوں کے پینل کے ذریعے فراہم کی جاتی ہیں۔ تمام ثانوی نگہداشت صحت کی دیکھ بھال کی بیماریاں اور ثانوی نگہداشت کی بیماریاں جیسے حادثے اور ایمرجنسی، ذیابیطس، گردے کی بیماریاں بشمول ڈائیلاسز اور کڈنی ٹرانسپلانٹ، ہیپاٹائٹس بی اور سی، تمام قسم کے کینسر اور دل کےامراض اس پروگرام کے تحت شامل ہیں۔

خیبر پختونخواہ میں 21-2020 کے دوران 70 لاکھ سے زائد صحت کارڈ ہولڈرز کا مفت علاج کیا گیا ہے۔

صحت کارڈ پلس کورونا وائرس اور ڈینگی کے علاج، ڈائیلاسز، کیموتھراپی، انجیو پلاسٹی، جگر اور بون میرو .رانسپلانٹس کو کور کرتا ہے. مختلف پیکیجز مثلا”

1 ترجیحی پیکیج: زیادہ لاگت والے اہم پروک کا احاطہ کرتا ہے، یعنی کینسر، حادثات، وینٹی لیٹرز، جلنے، ڈائیلاسز

 سیکنڈری پیکیج: معمول کی سرجری، سی سیکشن

مریضوں کی اکثریت نجی ہسپتالوں کو ترجیح دیتی ہے اور یہ ہیلتھ کارڈ میں شامل ہیں۔صحت کارڈ سے سرجنوں کو بھی فائدہ ہوتا ہے۔  مثال کے طور پرسرکاری یا پرائیویٹ ہسپتالوں میں لیپروسکوپک سرجری کے لیئے 3000 سے 10,000 بالترتیب سرجن کو بطور بونس دئیے جاتے ہیں۔

صحت کارڈ سے یہ تمام سہولیات مفت فراہم کرنے کے لیئے بنیادی طور پر ٹیکس دہندگان کے پیسے سے استفادہ کیا جاتا ہے یعنی عوام کا پیسہ عوام پر لگایا جارہاہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک  صحت کارڈ کے تحت 7,590,995 خاندانوں کا اندراج ہو چکا ہے۔ اب تک 1,353,691 افراد نے ہسپتالوں کا وزٹ کیا ہے اور 573,956 افراد صوبے کے 679 ہسپتالوں میں علاج کے لیئے داخل کیئے گئے ہیں۔

صحت کارڈ کے پروگرام میں کچھ بے ضابطگیوں کی بھی اطلاعات ہیں۔ بہت سے پرائیویٹ ہسپتال ناقص ہیں اور کم معیاری خدمات فراہم کرتے ہیں، پھر بھی وہ صحت کارڈ کے پینل پر ہیں اور حکومتی فنڈز ادا کررہی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اس اچھے قدم کی جتنی تشہیر کی جائے کم ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ اس کے شفافیت کا خیال رکھنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ امید ہے کہ نئے سال میں صوبے کا صحت کا نظام مزید بہتر ہوگا۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket