Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Wednesday, September 28, 2022

عقیل یوسفزئی

مالاکنڈ ڈویژن خصوصاً وادی سوات میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے بعض کارکنوں کے ہاتھوں سرکاری افسران اور اہلکاروں کو یرغمال بنانے، زخمی کرنے اور ان کی ایک ویڈیو جاری کرنے کے واقعہ پر ملک بھر سے جو ردعمل سامنے آیا وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاستی اور عوامی حلقے امن اور سیکورٹی کے معاملے پر نہ صرف ایک پیج پر ہیں بلکہ تمام تر فاصلوں کے باوجود اس مسئلے پر ملک بھر میں مکمل اتفاق رائے ہے کہ ماضی کی غلطیاں دہرائی نہیں جائے گی.

لوکل اور قومی میڈیا نے اس واقعے اور بعض دیگر اطلاعات کی تفصیلات کو جس ذمہ داری کے ساتھ عوام اور ریاستی اداروں تک پہنچایا وہ قابل تعریف ہے. اگرچہ بعض حلقوں نے سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لیے مبالغے اور پروپیگنڈے سے گریز نہیں کیا تاہم مجموعی طور پر اس معاملے پر ذمہ داری سے کام لیا گیا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ متعلقہ ریاستی اداروں نے وقت ضائع کیے بغیر درکار اقدامات اٹھاکر جھاں عوام کی تشویش کا بروقت ازالہ کیا وہاں سرچ اور ٹار گیٹڈ آپریشن کا آغاز کر کے واضح پیغام دیا کہ عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں کوئی تاخیر نہیں کی جائے گی.

سوات اور دیر میں جمعہ کے روز متعدد مقامات پر امن کے حق میں ریلیاں نکالی گئیں جن میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ عوام امن اور ترقی چاہتے ہیں اور ان کو ریاستی اداروں پر پورا اعتماد ہے.

آگرچہ خطے خصوصاً افغانستان کی صورتحال کے اثرات کو اس تمام منظر نامے میں قطعاً نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور اب بھی پاکستان کے سرحدی علاقوں کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے تاہم یہ بات خوش آئند ہے کہ ہمارے متعلقہ اداروں کو درپیش چیلنجز کا پورا ادراک ہے اور وہ درکار اقدامات اٹھاتے ارہے ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ اداروں پر اعتماد کرکے تعاون کیا جائے اور غیر مصدقہ اطلاعات، افواہوں اور منفی پروپیگنڈہ جیسے عوامل سے گریز کیا جائے.

یہ بات بھی قابل ستائش ہے کہ حکومت نے وزیرستان کے مظاہرین کے مطالبات کے حل کے لیے پارلیمانی قوتوں پر مشتمل ایک جرگہ تشکیل دیا ہے جس نے مظاہرین سے مذاکرات کرکے ان کو مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی اور کافی مثبت نتائج سامنے آئے ہیں.

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket