Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Monday, September 26, 2022

کشمیرپرپاکستانی قیادت کا حقیقت پسندانہ موقف

 مسئلہ کشمیر پر پائی جانے والی کشیدگی پر جہاں ایک طرف بھارت اور پاکستان کے درمیان تین بڑی جنگیں ہوئی ہیں وہاں یہ تنازعہ علاقائی اور عالمی امن کے لیے بھی بڑا خطرہ اور چیلنج بنا ہوا ہے۔

اس تنازعہ کے تین فریقین ہیں۔ کشمیری عوام، پاکستان اور بھارت تاہم اب یہ مسئلہ صرف ان تک محدود نہیں رہا کیونکہ دو ایٹمی قوتیں کسی بھی وقت اس کشیدگی کے باعث عملی طور پر ایک دوسرے پر حملہ آور ہو سکتی ہیں اور شاید اسی کا نتیجہ ہے کہ عالمی قوتیں اس مسئلہ پرمزید محاذ آرائی کا خاتمہ چاہتی ہیں۔ پانچ فروری کو خیبرپختونخواہ اور پاکستان سمیت متعدد دوسرے ممالک میں بھی یوم اظہار یکجہتی کشمیر منایا گیا جس کا مقصد عالمی برادری کو یہ پیغام دینا تھا کہ پاکستان کشمیر کے مسئلہ سے لاتعلق نہیں رہ سکتا اس موقع پر جہاں حکومت نے اپنی پالیسی اور موئقف کا کھل کر اظہار کیا وہاں اپوزیشن کی تقریبا” تمام پارٹیوں نے  قومی سوچ کے پس منظر میں ریلیوں اور اجتماعات کا انعقاد کر کے بھارتی رویے کی کھل کر مذمت کی۔ قومی قیادت نے  عملا” ثابت کیا کہ ان کے باہمی اختلافات اپنی جگہ مگر کشمیر اور ایسے دوسرے قومی معاملات پر پوری قوم ایک صفحے پر ہے اور یہ کہ کشمیر مسئلہ کا وہاں کی عوام کی خواہشات کے مطابق حل نکالنا ضروری ہوچکا ہے  

اور ایک قابل عمل پیشرفت لازمی ہے۔

خیبرپختونخواکے وزیراعلی کی قیادت میں پشاور میں ایک بڑی ریلی نکالی گئی جبکہ بعض دوسری پارٹیوں نے بھی ریلیوں اور اجتماعات کا انعقاد کیا۔ صوبے کے عوام کا کشمیر اور کشمیریوں کے ساتھ بڑا گہرا تاریخی تعلق رہا ہے پہلا یہ کہ احمد شاہ ابدالی نے جب کشمیر کو فتح کیا تو ان کے دور حکمرانی کے دوران لاتعداد پشتون کشمیر میں آباد ہوئے اور یہ لوگ نہ صرف ایلیٹ کلاس کی فہرست میں ٹاپ پر رہے بلکہ اب سدوزئی، یوسفزئی،خلجی اورمتعدد دوسرے قبیلے وہاں آباد ہیں دوسرا یہ کہ آزادی ہند  کے بعد جب پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی ٹکراؤ اور تصادم کی شکل اختیار کر گئی تو ہزاروں قبائلی پشتون جہاد اور کشمیر کی آزادی کا نعرہ لگا کر سری نگر تک پہنچ گئے انہوں نے جانوں کی قربانیاں دیں اور آج جوعلاقہ آزاد یا پاکستان کا حصہ ہے وہ ان پشتونوں کی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ وابستگی کی تیسری وجہ افغانستان کے حالات ہیں۔

بھارت کشمیر کی جدوجہد سے ہر دور میں بہت خوفزدہ رہا ہے اسی تناظر میں وہ جہاں بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں بعض حلقوں کی کھل کر مدد اور سرپرستی کر رہا ہے وہاں وہ افغان سرزمین کو مسلسل پاکستان کے خلاف بھی استعمال کررہا ہے یہی وجہ ہے کہ بعض صاحب الرائےحلقے  افغان مسئلہ کے حل کو اسی تناظر میں دیکھتے آ رہے ہیں۔ جہاں تک اپوزیشن کے اس الزام کا تعلق ہے کہ موجودہ حکومت کشمیر پر سودے بازی کر رہی ہے اس پر نظر ثانی ہونی چاہیے کیونکہ یہ ایک قومی مسئلہ ہے تاہم بدلتے عالمی حالات اور علاقائی صف بندی کے تناظر میں یہ گنجائش ٖضرور رکھنی چاہیے کہ  جنگ اور تصادم کی بجائے پرامن طریقے سے مذاکرات کا راستہ اپنایا جائے۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket