Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Saturday, October 1, 2022

کراچی: طالبان کیلئے جعلی شناختی کارڈ بنانے والا گروہ گرفتار

کراچی:شاہراہ نور جہاں پولیس نے سرکاری اداروں اور عدالتوں میں جعلی کاغذات بنانے والے گروہ کے سرغنہ سمیت 3 ملزمان کو گرفتارکرکے پلاٹوں کی جعلی فائلیں اور200سے زائد سرکاری اداروں عدالتوں، بینک،ڈپٹی کمشنر کی مہریں برآمد کرلی ہیں،ملزمان کی مدد سے جیل میں قید طالبان کمانڈرز سے ان کی فیملی کے بجائے جعلی شناختی کارڈ پر طالبان کے لوگ ملنے آتے تھے۔

شاہراہ نورجہاں پولیس نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے ایک گروہ کے سرغنہ خلیل احمد عرف آصف اور اس کے دو کارندوں رئیس احمد اور محمد چاند کو گرفتارکرلیا۔پولیس کا دعوی ہے کہ گروہ کا سرغنہ خلیل ڈکیتی کی متعدد وارداتوں سمیت قتل کے مقدمے میں جیل جاچکا ہے،ملزم خلیل گرفتار ملزمان کی ضمانت سمیت جعلی شیورٹی جعلی بائیو میٹرک کے کاغذات بھی تیار کرتا ہے،ملزم سرکاری افسران کے گھروں کی ریکی کرکے دیگر ساتھیوں کی مدد سے ڈکیتی کرواتا تھا،ڈکیتی کی منصوبہ بندی سٹی کورٹ کی کینٹین میں کی جاتی تھی۔

ملزم نے انکشاف کیا کہ اینٹی وہیکل لفٹنگ سیل کا ایک افسر خضر حیات بھی ڈکیتی کی واردات میں ملزم اور دیگر ڈکیتوں کی معاونت کرتا تھا اور اسلحہ و گاڑیاں مہیا کرتا تھا۔خضر حیات نے چند ججز کی ریکی بھی کروائی تھی جن پر اسے سزا دینے پر غصہ تھا،سٹی کورٹ کے متعدد پیشکار بھی ملزم کی معاونت کرتے ہیں اور اپنا حصہ یعنی آدھا پیسہ لیتے ہیں،معاون پیشکار میں آفاق، امجد، سلمان، اللہ بخش، منیر اور سلیم بیگ وغیرہ شامل ہیں۔

ملزم خلیل جیل میں موجود طالبان کمانڈرز کے بارے میں بھی اہم انکشافات کیے۔طالبان کمانڈرز سے ملنے انکی فیملی نہیں بلکہ طالبان کے لوگ جیل میں جعلی شناختی کارڈ کی مدد سے ملنے آتے ہیں،وہ لوگ کوڈ ورڈ میں احکامات اور نیا ٹارگٹ بھی دیتے ہیں،شہر میں دہشت گردی کب اور کہاں کرنی ہے جیل سے احکامات دیئے جاتے ہیں،جبکہ ملزم رئیس شہرقائد میں پلاٹوں کی جعلی فائلیں بناکر فروخت کرتا اور قبضہ مافیہ، پورشن مافیا کے سہولت کار بنا ہوا تھا۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket