Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Tuesday, September 27, 2022

کراس بارڈر ٹیرریزم اور افغان سپائلرز

ایک بار پھر گزشتہ روز شمالی وزیرستان میں موجود ایک سرحدی چیک پوسٹ پر سرحد پارسے حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں جھنگ سے تعلق رکھنے والے 32سالہ سپاہی عمردراز شہید ہوگئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج نے حملے کا بھرپور جواب دے کر شر پسندوں کو پسپا کیا جبکہ وزارت خارجہ نے اس واقعے پر متعلقہ افغان حکام کو اپنا احتجاج ریکارڈ کرا کر ایسے واقعات  اور حملوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ یہ اس نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ سرحد پار سے اب تک سینکڑوں بار پاکستان کے سرحدی علاقوں اور چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

کہا جارہا ہے کہ بعض حملے افغانستان میں روپوش طالبان کرتے آئے ہیں جبکہ بعض میں افغان بارڈر فورسز ملوث رہی ہیں جن کی کوشش رہی ہے کہ کراس بارڈر ٹیررازم کے خاتمے کے لیے سرحد پر لگائی جانے والی بار کے اثرات کو ناکام بنایا جائے تاہم پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ باڑ لگانے کا اسی  فیصد کام مکمل کیا جا چکا ہے جبکہ درجنوں چیک پوسٹیں بھی قائم کی گئی ہیں ۔ایک معتبر رپورٹ کے مطابق افغانستان کی سرزمین سے سال 2007 کے بعد اب تک 200 سے زائد حملے کیے جا چکے ہیں اس رپورٹ کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں 31 افسران سمیت 230 سپاہی شہید کیے جا چکے ہیں جن علاقوں میں سرحد پار سے حملے کرائے گئے ہیں ان میں شمالی اور جنوبی وزیرستان چمن، باجوڑ، خیبر اورکرم سرفہرست ہیں یہ حملے نہ صرف یہ کہ فورسز اور ان کی چیک پوسٹوں پر کرائے جاتے ہیں بلکہ درجنوں بار سولینزکو بھی نشانہ بنایا گیا اگرچہ یہ سلسلہ دو ہزار سات سے تواتر کے ساتھ جاری ہے تاہم 2013 کے بعد اس میں اضافہ ہوا۔ یہ وہی سال ہے جب باجوڑ کے ںواحی علاقے میں ایک کانوائے پر حملہ کرکے میجر جنرل ثناء اللہ ، لیفٹینٹ کرنل توصیف کو شہید کیا گیا۔ بی بی سی کی نامہ نگار فرحت جاوید کے مطابق 2013 کے واقعہ بعد اس نوعیت کے 120 حملے کرائے گئے جس کے نتیجے میں 236 سپاہی شہید ہوئے جبکہ 70 سولین بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

  اکثر حملے ان اہلکاروں پر کیئے گئے جو بارڈر فنسنگ کا کام کرتے آ رہے ہیں اور حملوں کے دوران ان کے لیئے سپورٹنگ ٹروپس طلب کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

 رپورٹس کے مطابق متحدد بار افغانستان کی بارڈر فورسز نے براہ راست حملے کیئے جبکہ بعض میں وہ طالبان ملوث رہے ہیں جو کہ افغانستان کی خفیہ ایجنسی کی سرپرستی اور فنڈنگ سے سرحدی علاقوں میں قیام پزیر ہیں۔

اقوام متحدہ کی ایک جاری کردہ رپورٹ میں چند ماہ قبل کہا گیا ہے کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی کے پانچ سے چھ ہزار تک جنگجو رہائش پذیر ہیں جنہوں نے ماضی میں پاکستان کے سرحدی علاقوں کے علاوہ متعدد بڑے شہروں میں دہشت گرد کارروائیاں کیں اور پاکستان کے احتجاج کے باوجود افغان حکومت اور فورسزان عناصر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر پا رہی۔ الجزیرہ ٹیلی ویژن کی ایک رپورٹ کے مطابق ایسے حملوں میں وہ کمانڈر ملوث  ہیں جو کہ فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں قبائلی علاقوں سے افغانستان چلے گئے اور ان میں وہ نصف درجن کمانڈر بھی شامل ہیں جنہوں نے ایک وقت میں دائش کو بھی جوائن کیا تھا اب کہا جا رہا ہے کہ اکثر حملے وہ طالبان کر رہے ہیں جن کے بارے میں پاکستان کا موقف ہے کہ ان کو افغانستان کی حکومت میں شامل پاکستان مخالف حکام اور اداروں کی نہ صرف کھلی سرپرستی حاصل ہے بلکہ ان کو باقاعدہ فنڈنگ بھی کی جاتی ہے۔

 پریس ٹی وی ایران کے مطابق ان پاکستانی طالبان کو بعض فوجی کیمپوں کے قریب بسایا گیا ہے اور یہ وہ علاقے ہیں جہاں افغان  طالبان کا عمل دخل نہ ہونے کے برابر ہے۔ مزکورہ ٹی وی کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ان حملوں کا مقصد جہاں  باڑ لگانے کے عمل کو ناکام بنانا ہے وہاں اس کے ذریعے پاک افغان تعلقات میں تلخی اور کشیدگی کا راستہ بھی ہموار کرنا ہے دوسری طرف سال 2013 کے بعد افغانستان کی پولیس اور دوسری پیرا ملٹری فورسز نے چمن اور دو تین دیگر سرحدی علاقوں میں پاکستانی آبادی اور فورسز پر درجنوں براہ راست حملے کیے جس کے نتیجے میں درجنوں افراد لقمہ اجل بنے مگر پاکستان نے خلاف توقع ایسا کوئی ردعمل نہیں دکھایا جس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہو۔ افغانستان میں ایسے بہت سے شدت پسند قوم پرست موجودہ حکومتی سیٹ اپ میں اعلی عہدوں پر فائز ہیں جو کہ پاک افغان بارڈر پر ہونے والی فنسنگ کے سخت مخالف ہیں اور اس کی تشریح اور مخالفت ڈیورنڈ لائن کے روایتی تنازعے کے پس منظر میں کرتے آئے ہیں ۔

اسباب اور عوامل جو بھی ہوں یہ بات کافی پریشان کن ہے کہ افغان حکومت حالیہ صورتحال کے نتیجے میں دن بدن جتنی کمزور ہوتی جارہی ہے اس میں شامل بعض عناصر حسب سابق اس کا نزلہ پاکستان پر اتار کر اپنی ناکامیوں کو اس کی آڑ میں پاکستان پر ڈالنے میں مصروف ہیں دوسری طرف یہ پروپیگنڈا بھی کیا جا رہا ہے کہ پاکستان امریکہ کو نائن الیون کی طرح پھر سے اڈے اور ٹھکانے فراہم کر رہا ہے۔ حالانکہ بر سر زمین ایسی کوئی پالیسی کسی کو نظر نہیں آرہی ہے بحرحال افغان حکومت کے ذمہ دار حلقوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس لہر اور پروپیگنڈے کے علاوہ  ان عناصر کی بھی حوصلہ شکنی کریں جو کہ پاک افغان تعلقات خراب کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket