Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Friday, September 30, 2022

پُرتشدّد افغان تاریخ

ایک عام مگر برخلاف حقائق تاثر یہ ہے کہ افغانستان شاید 80 کی سوویٹ افغان جنگ سے قبل کوئی پرامن ملک تھا ۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ کسی لمبے عرصے تک یہ سرزمین تاریخ میں کبھی بھی پرامن یا مستحکم نہیں رہی اور جنگوں کا سلسلہ دہائیوں سے نہیں بلکہ صدیوں سے بغیر کسی بڑے وقفے کے جاری چلا آ رہا ہے۔ 1010 کے دوران غزنی کے محمود غزنوی اور علاؤالدین غوری کے درمیان ایک جنگ لڑی گئی جس کے دوران نہ صرف ایک دن کے دوران اس زمین میں 25 ہزار افراد لقمہ اجل بن گئے بلکہ علاء الدین غوری) شہاب الدین غوری کے چچا (نے جب محمود غزنوی کے خلاف فتح پائی تو انہوں نے سلاطین غزنوی کی قبروں سے ہڈیاں اور ڈھانچے نکال کر انہیں 600اُن افراد کے ساتھ ایک تالاب میں جلایا جنہوں نے محمود غزنوی کی حمایت کی اور ان افراد میں علماء اور خواتین کی بڑی تعداد بھی شامل تھی ۔ تاریخ میں علاؤالدین دلسوز کے نام سے شہرت پانے والے، اس سپہ سالار نے فتح کے بعد ایک ہفتے تک غزنی کو آگ میں جلائے رکھا اور اس کے بعد اس ریاست کو اپنے بھتیجے غیاث الدین غوری کے سپرد کر کے سنٹرل ایشیا پر حملہ آور ہو گیا۔ بعد میں ان کے دوسرے جاننشین شہاب الدین غوری نے ہندوستان فتح کیا اور تاریخ میں نمایاں مقام پایا۔ ایک دستاویز کے مطابق سال 1919 یعنی موجودہ افغانستان کے جدید ترین قیام تک اس خطے میں 110 سے زیادہ جنگ لڑی گئی اور غالبا ًاپنی جنگوں کا نتیجہ ہے کہ افغانستان کی آبادی اس کی لمبی تاریخ کے تناظر میں خطے کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں بہت کم رہی کیوں کہ لوگوں کی اکثریت جنگوں کا خوراک بنتی رہیں اور یہ سلسلہ 19 ویں اور 20 ویں صدی کے دوران بھی جاری رہا ۔ دستاویز بتاتی ہیں کہ احمد شاہ ابدالی کے ہندوستان پر کرائے گئے حملوں کے دوران ایک لاکھ 45 افراد افغان جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔
افغانستان یا اس سرزمین نے نہ صرف غیر ملکی حملہ آوروں کا مقابلہ کیا بلکہ 70 فیصد جنگیں افغانیوں نے ایک دوسرے کے خلاف لڑیں ۔ یہ الگ بات ہے کہ افغان مؤرخین اور دانشور اس کی جنگوں کی اس پہلو پر بحث نہیں کرتے اور محض غیر ملکی حملہ آوروں کا ذکر کرتے آرہے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمیں صرف غیر ملکی حملہ آوروں کی تاریخ سنائی اور پڑھائی جا رہی ہے۔
افغانستان کے 70فیصد حکمران یا تو جنگوں یا سازشوں کے باعث غیر طبی اموات کا شکار ہوئے یا جلاوطنی کی حالت میں بے بسی کے عالم میں مرتے گئے۔ معاملہ یا مسئلہ محض جنگی جنون، بغاوتوں اور سازشوں تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ روایت بہت عام رہی ہے کہ مخالفین کو بدترین تشدد اور مظالم کا نشانہ بنایا جائے ۔ حکمرانوں اور مخالف سپاہیوں کے جسم کے اعضاء کاٹنا معمول کی بات ہوا کرتی تھی جبکہ لاشوں کی بے حرمتی کرنا اور ان کو لٹکا نہ یا گلی کوچوں میں گھسیٹنا بھی عام روایات یا بات رہی ہے۔
جدید افغانستان کی تاریخ میں کنگ ظاہرشاہ نے نہ صرف لمبے عرصے تک حکمرانی کرنے کا ریکارڈ قائم کیا بلکہ ان کو ایک رحم دل حکمران کی شہرت بھی حاصل رہی ہے۔ ان کے والد کنگ نادر شاہ نے کابل میں اپنے ایک وزیر یا مشیر کو بے وجہ قتل کیا، تو اس کے خاندان والے موت کے خوف سے ننگرہار منتقل ہوگئے اور روپوشی کی زندگی گزارنے لگے۔ مرحوم وزیر یا مشیر کے ایک بیٹے نے ایک امتحان میں پورا صوبہ ٹاپ کیا تو روایت کے مطابق بعض دیگر کامیاب افراد کی طرح بادشاہ نے ایک تقریب میں اس بچے کو بھی گولڈمیڈل یا انعام دینا تھا۔ بچے کی والدہ کو جب اس تقریب کا پتہ چلا تو اس نے بیٹے پر یہ راز افشاء کر کے اسے جانے سے منع کیا کہ اس بادشاہ نے تمہارے باپ کا خون کیا ہے، اس لیے تم اس کے ہاتھ سے انعام نہیں لوگے۔ 13 سالہ کم عمر بچےکو جب اس واقعہ کا علم ہوا تو اس نے تقریب کہ دن ماں کے جاگنے سے قبل گھر سے چھری لی اورجائے تقریب جاپہنچا ، منتظمین نے جب اُس کو انعام لینے کے لیے سٹیج پر بلایا تو اس نے ٹانگ کے ساتھ بندھی چوری نکال کر بادشاہ پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں کنگ نادرشاہ جاں بحق ہوگئے اور ظاہرشاہ نے کابل کے نئے بادشاہ کی حیثیت سے حلف اٹھایا ۔ حلف اٹھاتے ہی انھوں نے پہلا کام یہ کیا کہ اس 13 سالہ بچے کو اپنے محل کے سامنے چوک میں ایک پنجرے میں بند کیا اور ہر دوسرے روز اس کے جسم کا ایک ایک عضو کاٹنے کا حکم صادر کیا ۔ کمال کی بات ہے کہ یہ عمل ایک ہفتے تک جاری رہا اور اس دوران کابل کے شہری ہر روز اس بچے کی بے بسی کا نظارہ کرنے مذکورہ چوک میں جمع ہو کر لطف اٹھاتے رہے۔ یوں ظاہر شاہ جیسے رحم دل بادشاہ نے ایک بچے کو اِسی حالت میں مار ڈالا ۔ مگر مؤرخین اِن کو افغانستان کا نجات دہندہ قرار دیتے رہے۔ بعد میں سردارداؤد نے اور سردارداؤد کے ساتھ نور محمد ترکئی نے جو سلوک کیا وہ تو حالیہ تاریخ کا حصہ ہے اور ڈاکٹر نجیب اللہ کے ساتھ آریانہ چوک میں جو سلوک کیا گیا وہ تو کل کی بات معلوم ہوتی ہے۔ تہذیبی اور تاریخی نرگسیت اور دوسروں کو اپنی تباہی کا ذمہ دار قرار دینے کی روایت اپنی جگہ مگر اس حقیقت کا تاریخی، سیاسی اور معاشرتی جائزہ لینا بہت ضروری ہے کہ افغان معاشرہ ہر دور میں جنگوں کی لپیٹ میں کیوں رہا اور حالیہ تشدد کا خاتمہ کب اور کیسے ممکن ہوسکتا ہے۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket