Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Friday, October 7, 2022

پشاور کا تاریخی چترالی بازار

خیبر  پختونخوا  کے  دارالحکومت  پشاور  میں  موجود  چترالی  بازار  چترال  کے  ثقافتی  ملبوسات  اور  ریشمی  کپڑوں  سے  تیار  کردہ  کوٹ  واسکٹ،  چوغہ، پکول،  چادر  اور  ایسی  بہت  سی  چترالی  ثقافتی  چیزوں  کیلے  مشہور ہے۔اس  مارکیٹ  سے  نہ  صرف  پاکستان  بلکہ  دوسرے  ممالک  کو  بھی  سامان  بھیجا جاتا  تھا۔

پاکستان کی آزادی سے قبل 1943 میں اس بازار کی بنیاد رکھی گیٔ تھی۔ تاریخ کے اعتبار سے چترالی بازار ایک بین الاقوامی اور منفرد بازارو ں  میں  شمار  ہوتا  ہے ۔ شروع میں، چترالی بازار “حُسن بازار” یا “ٹھٹھی بازار ” کے نام سے جانا جاتا تھا۔ جو کہ آج کل چترالی بازار کے نام سے مشہور ہے۔ چترالی بازار بننے سے پہلے اُس مقام پر ڈھول بجانے  والے  اور  موسیقارآباد تھے۔ پاکستان کی آزادی سے قبل  پشاور  میں  لوگ  کاروبار  کی  غرض  سے  آتے  تھے  جن میں  اس  وقت  سے  چترال کے مقامی لوگ  بھی یہاں  پر  اپنی  تیار کردہ  مصنوعات  بیچتے  تھے۔ بعد  میں  اس  بازار  میں  چترالی  صنعت  کاروں  نے  اپنی  صنعت  لگائی اور  چترال  میں  بنائی  جانے  والی ٹوپی،چوغہ، واسکٹ،  یہاں  پر  بنانا  شروع  کی۔ ابتداء  میں  یہ  کاروبار چھوٹے پیمانے پر تھا اور آج ان  مصنوعات کی وجہ سے   چترالی بازار کی پہچان ہے۔

اس بازار میں تقریباً 750 کے قریب دوکانیں موجود ہیں اور 17 ہزار سے لے کر 18 ہزار کاریگر کام کرتے ہیں۔وقت کے سات ساتھ مختلف براداری کے لوگوں نے یہاں کاروبار شروع کیا۔ لیکن آج بھی اکثریت چترال کے مقامی لوگوں کی ہے۔ چترالیوں کے علاوہ یہاں سوات ،باجوڑ، دیر، افغانستان  اور پشاور کے مقامی لوگ بھی کاروبار کرتے ہیں۔ موجودہ دور میں اگر اس بازار کو کثیرل القوم بازار کہا جاۓ تو غلط نہیں ہوگا۔ شروع میں یہ بازار رقبے  کے  لحاظ  سے محدود تھا۔ لیکن اب اس بازار کا اوسط اور حُجم  بڑھ گیا ہے۔ ان کے ساتھ ساتھ کام کا حجم بھی بڑھ گیا ہے۔

اس بازار کا ‘چوغہ’ سب سے مشہور ملبوسات میں سے ایک ہے۔ چوغہ ریشمی کپڑے سے تیار کیا جاتا ہے ۔ اس کپڑے پر گُلکاری ہاتھوں سے کی جاتی ہے۔پہلے جب باہر سے سیاحت کے لئے لوگ پاکستان آتے تھے تو چوغہ دیکھنے کے لئے چترالی بازار کا رُخ ضرور کرتے تھے۔ اور بہت بڑے پیمانے پر خریداری بھی کرتے تھے۔ لیکن جب سے پاکستان اور خاص کر پشاور دہشت گردی کا نشانہ بنا ہے تو سیاہوں کا رُخ بھی تبدیل ہوا ہے اس سے خریداری  مقامی سطح تک منتقل ہوئی۔ جو بلوچستان، کوئٹہ، پشاور، سوات اور مردان کے مقامی لوگ ہے۔

گرم ٹوپی، واسکٹ اور چوغہ میں جو مٹیریٔل  استعمال ہوتا ہے وہ زیادہ تر چترال سے منگوایا جاتا ہے۔ اب سوات اور زیادہ تر چائنہ کا مٹیریٔل  استعمال ہوتا ہے۔ ایک چوغہ اگر چترالی خالص پٹی سے بنایا جائے تو تقریباً 15000 یا 16000 تک کا خرچہ آتا ہے۔ اگر سواتی پٹی سے بنے تو تقریباً 5000 سے 6000 تک خرچہ آتا ہے۔ چائنہ پٹی سے بنے ہوئے چوغہ پر  2000 سے لے کر 2500 کا خرچہ آتا ہے۔

چترالی بازار کے صدر عبدالرزاق  چترالی  کا کہنا تھا کہ جب افغانستان کے حالات ٹھیک تھے۔ تو ہم زیادہ تر سپلائی پاک افغان بارڈر کے ذریعے  کرتے تھے لیکن جب سے افغانستان کے حالات خراب ہوۓ تو اس سے سپلائی رک گئ اور پاکستان میں مہنگائی کی وجہ سے خریداروں میں کافی کمی آئی ہے اور  کاروبار  متاثر  ہوا  ہے۔

موجودہ  وقت  میں  اس  کاروبار  کا  منافع کم  ہوا  ہے  اسی  وجہ سے اب  یہ ہنرلوگ  نہیں  سیکھ  رہے  نا  موجودہ  کاریگر  اپنے  بچوں  کو   سکھا  رہے  ہیں۔

  عبدالرزاق  نے  مزید  بتایا  کہ  حالات  ایسے  چلتے  رہے  تو  بہت  سے  کاریگر  اس  کاروبار  سے  کنارہ  کشی  اختیار کر لیں گے،  اگر  حکومتی  سطح  پر  اس  کاروبار پر توجہ دی جائے تو تو چترالی  بازار  ملک  کی  معیشت  میں  کلیدی  کردار  ادا  کرسکتا ہے۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket