Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Thursday, December 1, 2022

پشاور: ٹائیفائیڈ سے بچاؤ کے ٹیکے لگانے کی مہم کا آغاز

صوبائی دارلحکومت پشاور سے ٹائیفائیڈ سے بچاؤ کے ٹیکے  لگانے کی مہم کا آغاز۔  ڈپٹی کمشنر شفیع اللہ خان نے اپنے بچوں کو ٹائیفائیڈ سے بچاؤ کے ٹیکے لگوا کر مہم کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔

ڈپٹی کمشنر پشاور نے مہم کے حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ٹائیفائیڈ مہم تین اکتوبر سے پندرہ اکتوبر تک جاری رہے گی اور مہم کے حوالے سے تمام ضروری اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ کہ ٹائیفائیڈ ایک خطرناک بیماری ہے جو کہ جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ بیماری گندے پانی اورخوراک میں موجود ایک بیکٹیریا کے ذریعے بچوں کے جسم میں داخل ہوتی ہے اوران کی آنتوں پہ اثر انداز ہوتی ہے۔ اس بیماری کی تشویشناک صورت میں آنتوں میں سوراخ ہو جاتے ہیں جس سے موت واقع ہو سکتی ہے۔ یہ بیکٹیریا ہمارے ماحول میں انتہائی کثرت سے پایا جاتا ہے۔

پچھلے پانچ سالوں میں اس بیکٹیریا نے ایسی خطرناک صورت اختیار کر لی ہے کہ جس کی وجہ سے عام دوائیا ں، جن کو ہم عرف عام میں انٹی بائیوٹکس کہتے ہیں، اس بیکٹیریا کے خاتمے میں ناکام ہوچکی ہیں۔ اس وقت ہمارے پاس جتنی بھی اینٹی بائیو ٹیکس ہیں ان میں سے صرف دو دوائیاں ایسی ہیں جو اس طاقتور بیکٹیریا کو مار سکتی ہیں مگر یہ دونوں دوائیاں انتہائی مہنگی ہیں۔ ٹائیفائیڈ بخار کم از کم پانچ سے سات دن چلتا ہے۔ اس کی شرح بچوں میں خاص طور پر 9 مہینے سے 15 سال تک کے بچوں میں بہت زیادہ ہے۔ ہمارے ملک میں ہر سال لاکھوں بچے ٹائیفائیڈ کا شکار ہوتے ہیں۔

بارہ روزہ مہم کے دوران پشاور کے 52 شہری یونین کونسلوں میں 9 ماہ سے 15 سال تک کے 896724 بچوں کو ٹائفائیڈ سے بچاؤ کے ٹیکے لگائیں جائیں گے۔ اس مہم کیلئے 633 آؤٹ ریچ ٹیمیں، 82 فکسڈ ٹیم اور 30 موبائیل ٹیم کو تشکیل دیا گیا ہے اور اس مہم کی نگرانی 144 فرسٹ لیول سپروایئزر اور 51 میڈیکل آفیسر کریں گے جبکہ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے اہلکار بھی اس مہم کی روزانہ کی بنیاد پر نگرانی کریں گے۔

ڈپٹی کمشنر پشاور شفیع اللہ خان نے والدین سے اپیل کی ہے کہ آج انھوں نے اپنے بچوں کو ٹائیفائیڈ سے بچاؤ کے ٹیکے لگوا کا مہم کا آغاز کر دیا ہے اس لیے والدین اپنے بچوں کو مہم کے دوران ٹایئفائیڈ سے بچاؤ کا ٹیکہ ضرور لگوائیں اور محکمہ صحت کی ٹیموں کے ساتھ تعاون کریں تاکہ پشاور سے ٹائیفائیڈ کا مکمل خاتمہ ممکن ہو سکے۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket