Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Saturday, October 1, 2022

پشاور میں اسٹوڈنٹس کا احتجاجی مظاہرہ اور درکار اقدامات

پشاور یونیورسٹی کیمپس میں گزشتہ روز امن وامان کی مبینہ بگڑتی صورتحال، منشیات کے استعمال، طالبات، طلباء کو ہراساں کرنے اور سرکاری عمارات کو ماڈلنگ اور ٹک ٹاک کے لئے استعمال کرنے کے خلاف ایک پرامن احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں طالبات کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ مظاہرین نے جاری صورتحال اور بعض واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ سے سخت ایکشن لینے، تحفظ فراہم کرنے اور کیمپس کے ماحول کو پر امن بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے اس رجحان پر سخت ردعمل دکھایا کہ تعلیمی اداروں کو بقول ان کے غیر اخلاقی سرگرمیوں کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔
پشاور یونیورسٹی سمیت لاتعداد دیگر تعلیمی اداروں سے وقتاً فوقتاً یہ شکایات آتی رہتی ہیں کہ بعض عناصر نہ صرف منشیات فروشی کی سرپرستی کر رہے ہیں بلکہ ہراسائی کے واقعات بھی بڑھتے جا رہے ہیں جس کے باعث طالبات خود کو غیر محفوظ سمجھتی ہیں اور ان کے والدین بھی خوفزدہ ہو کر پریشان ہو جاتے ہیں۔ متعدد بار انتظامیہ کے بعض اہلکاروں کے بارے میں آن دی ریکارڈ ر ہراسائی کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں تاہم اس کے سدباب اور طالبات کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کے مطالبات پورا کرنے کے لیے بدقسمتی سے ٹھوس اقدامات نہیں کیے جا رہے ہیں جو کہ واقعتا تشویش کی بات ہے۔

گزشتہ روز کے مظاہرے کے دوران بعض طالبات نے الزام لگایا کہ کیمپس اور ڈیپارٹمنٹ کے ذمہ داران کو باقاعدہ شکایات اور تجاویز کا نوٹس بھی نہیں لیتے جس کا منفی عناصر مزید فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اُن کے مطابق آؤٹ سائیڈرز پر کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے جبکہ اب تو حالت یہ ہوئی ہے کہ کیمپس کے اندر موجود تاریخی عمارات کو ٹک ٹاک اور دیگر مشکوک شوٹس کیلئے کھلے عام استعمال ہونے دیا جارہا ہے جس سے یونیورسٹیوں کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے اور روایتی والدین اپنے بچوں کے بارے میں تشویش اور خوف کا سامنا کرنے لگے ہیں۔ اس موقع پر کہا گیا کہ یونیورسٹی میں قائم ایک کاؤنٹر ہراسمنٹ کمیٹی شکایات کے ازالہ کے لیے موجود ہیں مگر اس کی کارکردگی عملاً نہ ہونے کے برابر ہے۔
یہ الزام بھی بعض طالبات کی جانب سے لگایا گیا کہ بعض اوقات سیکورٹی اہلکار بھی ہراسائی میں ملوث ہوتے ہیں مگر ان سے کوئی باز پرس نہیں کی جاتی۔ اس موقع پر طلبا ءتنظیم کے میل سٹوڈنٹس نے بھی جاری صورتحال کو ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر انتظامیہ نے اب کے بار اس پر امن احتجاج اور شکایات کا نوٹس لے کر سدباب نہیں کیا تو وہ معاملات کو اپنے ہاتھ میں لے کر سٹوڈنٹس کو خود تحفظ فراہم کرنے پر مجبور ہوں گے۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہراسائی کے واقعات کی شرح ،تعداد اور ڑجحان کے متعلقہ معاملات میں پاکستان بالخصوص خیبر پختونخواہ اور بلوچستان دوسرے صوبوں اور شہروں کے مقابلے میں بہت بہتر ہیں جبکہ عالمی انڈیکس کے مطابق اس مسئلہ کی شدت ترقی پذیر ممالک کے مقابلے میں ترقی یافتہ معاشروں اور ممالک میں کئی گنا زیادہ ہے۔ تاہم اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ ہمارے معاشرے، روایات اور کلچر کے پس منظر میں اس قسم کے رویوں کو نہ صرف بہت برا اور معیوب سمجھا جاتا ہے بلکہ خطے کے مخصوص حالات اور درپیش چیلنجز کے باعث یہ ہماری نئی نسل خاص کر سٹوڈنٹس اور ملازمت پیشہ خواتین کے حال اور مستقبل کے تناظر میں بہت خطرناک بھی ہے۔ اس قسم کے رویوں اور حرکتوں کا سخت نوٹس لینا چاہیے تاکہ ہم اپنی نئی نسل کو تحفظ فراہم کرنے میں کامیاب ہو اور وہ خود کو محفوظ سمجھ کر معاشرے کی ترقی اور امن کے قیام میں اپنا فعال کردار ادا کر سکے۔
ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ ہم ڈیجیٹلائزیشن کے اس دور میں اپنی نئی نسل کو جدید ٹیکنالوجی کے بامقصد استعمال کے علاوہ اپنی روایات اور ثقافت سے جڑے رہنے کی ترغیب بھی دے تاکہ ہمارا معاشرہ بگاڑ کی بجائے ایک ارتقائی عمل سے گزر کر ترقی کر سکے۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket