Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Thursday, October 6, 2022

پری باغ میں موجود خواجہ سراوں کی کہانی

تحریر: ضیااللہ 

یوں تو میں نے کئی خواجہ سراوں کے انٹرویوز کیئے ہیں لیکن بری امام کے قریب پری باغ کی رہائشی خواجہ سرا کمیونٹی سے گفتگو کرنا ایک الگ تجربہ رہا۔پری باغ خواجہ سرا ندیم کشش کا گھر ہے۔ندیم کشش وہ خواجہ سرا ہے جس نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف 2018 میں این اے 53 سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑا تھا اور آج کل ایک ٹی وی چینل میں بطور میک اپ آرٹسٹ کام کررہی ہیں۔ندیم کشش  کا کہنا ہے کہ اپنے گھر کا نام پری باغ اس لیے رکھا ہے کہ جس طرح  پری سے کوئی شادی نہیں کرتا  اسی طرح خواجہ سراء سے بھی اس معاشرے میں کوئی شادی کرنے کو تیار نہیں۔ندیم کشش  کا کہنا تھا کہ پری باغ میں ایسے لوگ زندگی گزار رہے ہیں جنہیں لوگ اس معاشرے کا حصہ ہی نہیں سمجھتے۔

پری باغ دوسرے خواجہ سرواں کے گھروں سے بلکل  مختلف ہے۔ پانچ کمروں،ایک کچن اور ایک واش روم پر مشتمل پری باغ میں ہر چیز ایک مہذب انداز سے اپنی اپنی جگہ پر پڑی ہوئی تھی اور برآمدے کے دیوار پرایک  گڑیا کو فریم کیا گیا ہے جس کے نام سے یہ گھر منسوب ہے۔پری باغ آس پاس رہنے والے خواجہ سراوں کے اکھٹے ہونے اور گپ شپ لگانے کا ایک مرکز ہے۔کورونا وبا کے لاک ڈاون کے دوران ندیم کشش نے اس گھر میں 15 سے 20 خواجہ سراون کے رہنے کا انتظام کرتی رہی جو لاک ڈاون کے دوران اپنے کمروں تک محدود ہوگئیں تھیں۔

 ندیم کشش کا کہنا ہے کہ  خواجہ سرا کو کمتر سمجھنے کا عمل اس کے گھر سے شروع ہوتا ہے جب والدین کو پتہ چلتا ہے کہ ان کی اولاد کو اللہ نے خواجہ سرا پیدا کیا ہے۔پری باغ میں موجود فیصل آباد سے تعلق رکھنے والی گریجویٹ خواجہ سرا جولی کا کنہا ہے کہ مختلف معاشروں میں مختلف اندازوں سے خواجہ سراوں سے برتاو رکھا جاتا ہے اور ہمارے معاشرے میں جس طرح ایک امیر،جاگیردار اور طاقت رکھنے والے لوگوں کی عزت کی جاتی ہے اسی طرح  امیر طبقوں میں پیدا ہونے والے خواجہ سرا بھی میک اپ آرٹسٹ،فیشن ڈیزائنر یا ایکٹر بن جاتی ہے جبکہ درمیانی یا کمزور طبقوں  میں پیدا ہونے والے خواجہ سرا ناچ گانے یا بھیک مانگنے سے اپنا پیٹ پالتے ہیں یا خوشی کے موقع پر گھروں سے بدھائی وغیرہ حاصل کرتی ہیں۔ جولی یہ سمجھتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں انصاف عموماََ صرف غریب کو نہیں ملتا بے شک وہ  مرد،عورت یا خواجہ سرا کیوں نہ ہو۔ اسی طرح ظلم بھی اکثرغریب ہی پر ہوتا ہے اور ظلم کرنے والا جنس، نسل یا لسانیت کی پرواہ کیے بغیر اپنی طاقت کآ استعمال کرتا ہے۔ پاکسان میں خواجہ سرا کو حقوق دلوانے کے حوالے سے جولی کافی پر امید ہیں اور 2018 میں پاس یونے والے خواجہ سرا(حقوق تحفظ) ایکٹ پر انتہائی خوش ہے اور کہتی ہے کہ ایکٹ پاس ہونے کے بعد اب خواجہ سرا مختلف شعبوں میں ڈیوٹیاں سرانجام دے سکتے ہیں اور اس وقت کچھ خواجہ سراء  مختلف محکموں میں ڈیوٹیاں سرانجام دے رہی ہیں۔

جولی نے خواجہ سراء کمیونٹی کو لاحق خطرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ ہم سب کو  معاشرے میں خواجہ سراوں سے متعلق سوچ کو بدلنا ہے جسے انگریزی زبان میں ڈی کنسٹرکشن کہتے ہے۔پری باغ میں موجود ندیم کشش اور جولی کی گورواماں گوری  کا کہنا ہے کہ پچھلے دور کے مقابلے میں موجودہ دور میں  خواجہ سراوں کو کافی آزادی ملی ہیں۔ اماں گوری بتاتی ہے کہ اس  وقت اپنے گھر سے نکلنے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ اور رات کے وقت بھی باہر جانے میں خوف محسوس کرتی تھی۔اماں گوری نے گفتگو کے دوران بتایا کہ ان کے دور میں یعنی 25 سال پہلے خواجہ سراوں پر ایسے تشدد کیا جاتا تھا کہ وہ ناچنے کے قابل نہیں رہتی۔کھبی سر کے بال کاٹ دیے جاتے تو کبھی چہرے پربلیڈ سے گہرے  زخم کا نشان بنایا جاتا تھاجس کا مقصد خواجہ سرا کی حسن کو نقصان پہنچانا تھا۔اکثر پاوں بھی توڑ دیے جاتے تھے تاکہ ناچنے کے قابل نہ رہے۔ اپنی دل کی فریاد بیان کرتے وقت اماں گوری نے مزید بتایا کہ ان کے لیے اس کا حسن ایک امتحان بن گیا تھا اور اکثر اپنے گھر کو باہر سے تالہ لگواتی تھی تاکہ کسی کو یہ پتہ نہ چلے کہ گھر میں کوئی موجود ہے۔ اس وقت خواجہ سراوں پر تشدد کرنے کے لیے اکثر ان کے گھروں کے دروازے تھوڑ دیے جاتے تھے او خواجہ سراوں کو اپنے ساتھ اٹھا کے لے جاتے تھے۔اماں گوری کے کہنے کے مطابق  ان کے دور میں خواجہ سراوں کی تدفین اور جنازہ پڑھنے میں کافی مشکلات پیش آتے تھے۔ایک دفعہ تو ایسا بھی ہوا تھا کہ ایک خواجہ سرا کا جنازہ پڑھنے کے لیے کوئی تیار نہیں تھا تو ایک سید گھرانے نے اس کی تدفین کے لیے حامی بھری اور  آخری رسومات کی بندوبست کرنے کے بعد کے ان کی عورتوں نے اس خواجہ سرا کے لیے وظیفہ بھی کیا۔خواجہ سراوں کے معاشی حالات کا حوالہ دیتے ہوئے اماں گوری نے کہا کہ خان اور نوابوں کے دور میں خواجہ سراوں کی اس طرح عزت کی جاتی تھی کہ  خوشی کے موقعوں پر خواجہ سراوں کو حد نگاہ تک جائیدادیں دی جاتی تھی اور خواجہ سرا ان نواب اور وڈیروں کے گھروں میں خوشی کے لیے دعائیں کرتی تھیں۔ستارہ نے موجودہ وقت میں اپنے کمیونٹی کو حقوق ملنے پر خوشی کا اظہار کیا ہے اور خواجہ سراوں کو وہ تمام حقوق دلوانے کے لیے پرامید نظر آئی جو ہمارے معاشرے میں ایک عام شہری کو حاصل ہیں۔اماں گوری کے کہنے کے مطابق خواجہ سرا پہلے کے مقابلے میں اب زیادہ محفوظ ہیں لیکن غربت نیخواجہ سرا کوناچ گانے اور اس طرح دوسرے کاموں پر مجبور کیا ہے جس طرح ایک عام غریب شہری اپنا پیٹ پالنے کے لیے ہر حد سے گزر جاتا ہے۔

پشاور یونیورسٹی کے سوشیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے لیکچرر ڈاکٹر ظفر خان نے وائس آف کے پی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کیپیٹلزم نظام میں فلاحی ادارے نہ ہونے سے طبقات کے درمیان کافی فاصلہ پایا جاتا ہے۔ اور پسماندہ طبقات معاشی ناانصافی سے متاثر ہوکر اپنے بنیادی حقوق سے محروم رہ جاتے ہیں۔

 ڈاکٹر ظفرکے مطابق صنفی اختلافات اور معاشرے میں موجود عوامی رویے سے خواجہ سرا طبقہ پسماندگی کا شکار ہے۔اگر صنفی اختلافات ختم کی جائے تو یہی خواجہ سراء اپنے گھروں میں دوسرے لوگوں کی طرح ایک نارمل زندگی گزار سکتے ہیں۔ہمارے معاشرے میں جب تک فلاحی ادارے اپنا فعال کردار ادا نہیں کرتے تب تک ان  طبقات کے درمیان فاصلہ موجود رہے گا۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket