Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Monday, September 26, 2022

پریس فریڈم ڈے اور پختونخوا میں اظہار رائے کی صورت حال

پاکستان بالخصوص خیبرپختونخواہ میں اظہار رائے اور میڈیا کی آزادی کی مجموعی صورتحال مقبول عام تبصروں اور تاثر کے برعکس کافی بہتر اور تسلی بخش رہی ہے جبکہ میڈیا کے ذمہ داروں اور حلقوں نے بھی ہر دور میں کوشش کی کہ ان کی رپورٹنگ اور تجزیوں کی بنیاد درست معلومات اور حقائق پر قائم ہو۔ شاید اسی کا نتیجہ ہے کہ غیر معمولی حالات اور جنگی ماحول کے باوجود اعتماد سازی کا ماحول قائم رہا۔

متعلقہ ریاستی اداروں اور میڈیا کے درمیان ہر دور میں مثبت اور مثالی تعلقات رہے اور ان کی مشترکہ کوشش رہی کہ دوسرے شہروں کے برعکس یہاں پیشہ ورانہ ماحول ہو تاکہ صوبے اور خطے کے عوام کے اظہار رائے اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے علاوہ مسائل کے حل کے امکانات بھی ڈھونڈے جا سکیں۔

خیبر پختونخوا چونکہ تاریخی طور پر قوم پرست اور مذہبی قوتوں کا مرکز رہا ہے اس لیے یہاں پر ان دو مختلف الخیال نظریات کے درمیان ٹکراؤ کی صورتحال رہی جبکہ افغانستان کے حالات بھی صوبے کی سیاست، معاشرت اور معیشت پر اثر انداز ہوتے رہے۔ ان دو عوامل نے عوام کو فطری طور پر تقسیم کیے رکھا مگر یہاں میڈیا متنازعہ معاملات میں کبھی فریق نہیں بنا اور اسی کا نتیجہ ہے کہ صوبے کے عوام میں مخالفانہ اور مزاحمتی قوتوں کو کبھی مقبولیت حاصل نہیں رہی۔

دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی طویل جنگ میں جہاں فورسز، سرکاری ملازمین اور سیاسی کارکنوں نے قربانیاں دیں وہاں صوبے کے میڈیا نے بھی مسلسل دو طرفہ دباؤ کے باوجود امن کے قیام کے لیے بہت ذمہ دارانہ کردار ادا کیا اور بہت سے صحافیوں نے جانوں کی قربانیاں بھی دیں۔ اگرچہ بعض مخصوص سیاسی حلقے ریاستی اداروں کے خلاف عوام کو تصویر کا ایک رخ دکھانے میں مصروف عمل رہے اور بعض برخلاف حقائق نعروں کی آڑ میں عوام کے ذہنوں میں شکوک پیدا کرتے رہے تاہم عوام کی اکثریت میں ان کو کوئی مقبولیت نہیں ملی اور پروپیگنڈہ مہمات کو کبھی سنجیدہ نہیں لیا گیا۔

جہاں تک اظہار رائے کا تعلق ہے اس کی حالت یہی رہی کہ سیاسی مذہبی قوتوں کے علاوہ لاتعداد سرکاری افسران اور ملازمین اس کے باوجود اپنی تحریروں اور تقریروں کے ذریعے ریاست کے حساس معاملات اور پالیسیوں پر سرعام تبصرہ کرتے رہے بلکہ متعدد بیرونی ایجنڈوں کا حصہ بھی بنے رہے مگر ان کو کھلی چھوٹ دی گئی اور کسی کے خلاف بھی کوئی بڑی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی حالانکہ ایسا کرناسروسز  کی خلاف ورزی میں آتا ہے اور اس عمل کی کسی ملک میں اجازت نہیں ہوتی۔

 بعض سنجیدہ حلقوں کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے بےچینی اور منافرت پھیلانے والے عناصر کی سخت حوصلہ شکنی لازمی ہے تاہم ریاستی ادارے اب بھی تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket