Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Monday, September 26, 2022

پختونخوا میں جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح

یہ امرکافی تشویش ناک ہے کہ پشاور سمیت صوبہ خیبر پختونخواہ میں حکومتی دعوؤں اور اقدامات کے باوجود جرائم کی تعداد مسلسل بڑھتی جا رہی ہے جبکہ اعلیٰ پولیس حکام کو عملی کارگردگی کی بجائے ذاتی پبلسٹی کے شوق نے گھیر رکھا ہے۔ دوسری طرف اعلیٰ سطح کے پولیس افسران لابنگ اور گروپنگ کے مرض یا شوق میں ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کی روایتی عادت سے بھی باز نہیں آ رہے۔

جماعت اسلامی کے پختونخوا اسمبلی کے پارلیمانی لیڈر عنایت اللہ خان نے گزشتہ روز اسمبلی سیکرٹریٹ میں صورتحال کا جائزہ لینے کےلئے ایک تحریک التوا جمع کرائی ہے جسے بحث کیلئے منظور کیا گیا ہے۔  اس تحریک التوا میں انہوں نے موقف اپنایا ہے کہ پشاور میں ایک ماہ کے دوران 55 افراد قتل کیے گئے جبکہ جرائم کی 62 دوسری وارداتیں رپورٹ ہوئیں۔ کہا گیا ہے کہ اس شہر میں ایک مہینے کے دوران اغوا برائے تاوان کے 14 واقعات رونما ہوئے جبکہ خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے 34 مقدمات درج ہوئے۔  انہوں نے موقف اپنایا ہے کہ اس بڑھتی ہوئی شرح پر ناصرف اسمبلی میں بحث کرائی جائے بلکہ حکومت اپنی وضاحت بھی پیش کرے۔

 تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ پشاور جیسا مرکز شہر قتل،  ہراسگی،  بھتہ خوری،  اغوا برائے تاوان اور دیگر سنگین جرائم کے علاوہ منشیات کے عام استعمال کا بھی گڑھ بن چکا ہے اور اب تو حالت یہ ہو گئی ہے کہ تعلیمی ادارے منشیات کے مراکز میں تبدیل ہو کر رہ گئے ہیں۔  وہ ادارے جنہوں نے اس صوبے اور ملک کو چلانے کے لئے نئی نسل کی تعلیم و تربیت کے فرائض سرانجام دینے ہیں وہاں کئی برسوں سے نہ صرف ہراسانی کے واقعات معمول بن گیے ہیں  بلکہ 30فیصد طلبہ اور نوجوانوں منشیات بھی استعمال کر رہے ہیں جو کہ ہمارے متعلقہ ارباب اختیار طبقے کے علاوہ تعلیمی اداروں کے سربراہان کے لئے بھی لمحہ فکریہ ہے۔

 یہ بات بھی بہت خطرناک ہے کہ گزشتہ چند برسوں سے اخلاقی جرائم میں بے تحاشہ اضافہ ہو چکا ہے اور رشتے داروں کے ہاتھوں دوسرے قریبی رشتہ داروں کی مسلسل ہلاکتوں کا خطرناک رجحان اب ہمارے خاندانی نظام کے لیے چیلنج کی شکل اختیار کر گیا ہے۔  یہ رجحان پاکستان کے کسی بھی دوسرے صوبے یا علاقے سے زیادہ ہے تاہم کوئی بھی متعلقہ ادارہ یا طبقہ اس کا نوٹس نہیں لے رہا جبکہ بچوں اور خواتین پر تشدد کی شرح بھی بڑھتی جا رہی ہے جو کہ اس صوبے کے کلچر میں ایک زمانے میں بہت معیوب سمجھا جاتا تھا۔  دوسری طرف پولیس کے اعلی ٰحکام یا تو لابنگ میں مصروف رہتے ہیں یا سلف پبلسٹی میں۔  وقت کا تقاضا ہے کہ جرائم کے اس سلسلے کا سخت نوٹس لے کر پشاور سمیت پورے صوبے کی ابتر صورتحال کا نوٹس لیا جائے اور اعلیٰ حکام کی غیر پیشہ ورانہ سرگرمیوں کا نوٹس لے کر شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket