Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Thursday, December 1, 2022

پاکستان کے خلاف منظم پروپیگنڈہ، زمینی حقائق اور چیلنجز

پاکستان کے خلاف منظم پروپیگنڈہ، زمینی حقائق اور چیلنجز

عقیل یوسفزئی

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستانی ریاست کو بوجوہ متعدد چیلنجز کا سامنا ہے تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ ان چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ہمیں سیاسی اور سماجی سطح پر وہ صف بندی نظر نہیں آتی جس کی ضرورت ہے. ملک کو سیکورٹی، معیشت، گورننس اور سیاسی عدم استحکام کے علاوہ بدترین اندرونی اور بیرونی پروپیگنڈہ کا سامنا ہے جبکہ بعض سیاسی قائدین اقتدار کی حصول کے لئے ہر جائز و ناجائز حربہ استعمال کرکے نئی نسل کو مزاحمت اور بغاوت پر اکسارہے ہیں جس کا بڑا ثبوت مریم اورنگزیب کے ساتھ لندن میں ہونے والی بدتمیزی کا وہ مظاہرہ ہے جس نے پاکستان کو پوری دنیا میں رسوا کیا تاہم بعض لوگ ایسی حرکتوں کا بھی دفاع کرتے نظر آتے ہیں جو کہ انتہائی خطرناک بات ہے. لاہور کی ایک تاریخی تعلیمی درسگاہ میں خطاب کے دوران جو لہجہ اور رویہ اختیار کیا گیا وہ بھی اس حوالے سے تشویش ناک ہے کہ ہم اپنے مستقبل کے معماروں کو کیا کچھ سکھا اور سمجھا رہے ہیں.

اسی طرح جب گزشتہ روز بلوچستان میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر کو حادثہ پیش آیا جس میں 2 میجرز سمیت 6 جوان شھید ہوگئے تو بلوچ لبریشن آرمی نے دعویٰ کیا کہ ہیلی کاپٹر اس نے گرایا تھا. ان کے دعوے ماضی میں بھی غلط ثابت ہوتے رہے ہیں تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ بعض لوگوں نے اس دعوے کو بھی سوشل میڈیا پر شیر کیا جس کا مقصد عوام اور فوجی جوانوں میں ابہام پیدا کرنا تھا.
ایسی ہی ایک مہم سوات کے بارے میں چلائی گئی جب کہا گیا کہ بعض طالبان ایک معاہدہ کے نتیجے میں سوات پہنچ گئے ہیں حالانکہ نہ تو ایسی کوئی بات ہوئی تھی اور نہ ہی وہ مزاکراتی عمل کسی معاہدے کی سطح تک پہنچ گیا تھا.

بات یہاں تک ختم نہیں ہوئی بلکہ اس دوران افغانستان کے دو وزراء نے بیک وقت پاکستان پر نہ صرف سنگین الزامات عائد کئے بلکہ انہوں نے پاکستان نامی اس ملک کو طعنے بھی دیے جس نے امارات اسلامیہ اور ان کی حکومت کی مدد کرکے دنیا کی مخالفت مول لی اور اس مدد کا بنیادی مقصد افغانستان اور خطے میں امن اور استحکام کا راستہ ہموار کرنا ہے.
اس صورت حال کو کسی صورت نہ تو نظر انداز کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس پر مزید خاموش رہا جا سکتا ہے. ہماری قومی قیادت، میڈیا اور متعلقہ اداروں کو اس صورت حال سے نمٹنے کے لئے باہمی اختلافات بھلا کر ایک پیج پر آنا پڑے گا کیونکہ درپیش مسائل اور چیلنجز کی مختلف شکلیں ہیں اور بعض مسائل کے تانے بانے عالمی اور علاقائی کاریڈورز اور پراکسیز سے جاکر ملتے ہیں۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket