Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Friday, September 30, 2022

پاکستانی جہاز کو کابل میں اترنے کیوں نہیں دیا گیا

قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر کی سربراہی میں افغانستان کا اہم دورہ کرنے والے پاکستانی پارلیمنٹیرینز کے وفد کے جہاز کو گذشتہ روزکابل ایئرپورٹ پر اترنے نہیں دیا گیا جس کے باعث یہ دورہ ملتوی کرنا پڑا۔ تاہم اس معاملے نے جہاں افغان حکومت کے بارے میں متعدد سوالات اٹھا دیئے ہیں وہاں پاکستان کے متعلقہ ریاستی اور سفارتی حلقوں میں کافی ناراضگی اور تشویش کا راستہ بھی ہموار کر دیا ہے۔

یہ دورہ اس حوالے سے غیر معمولی نوعیت کا تھا کہ اس کے لیے اسلام آباد اور کابل میں کئی ہفتوں سے سفارتی تیاریاں جاری تھیں اور پہلی بار کابل میں سرکاری سطح پر پاکستان کے جھنڈے سڑکوں اور چوراہوں پر لگائے گئے تھے ۔وفد نے دوسروں کے علاوہ صدر ڈاکٹر اشرف غنی اور بعض دوسرے اہم حکومتی اور سیاسی قائدین سے بھی ملاقاتیں کرنی تھیں۔ اس وفد میں شامل بعض ممبران اسمبلی اور سرکاری حکام کے علاوہ بعض افغان عہدیداروں کا جو موئقف اور دلائل اب تک سامنے آئے ہیں اس کا خلاصہ یہ ہے کہ پاکستان کے جہازنے جب حامدکرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کابل پر اترنے کی اطلاع دے دی تو مضعکہ خیز طور پر ایئرپورٹ ٹاور سے اس کے عملے کو بتایا گیا کہ بعض سیکیورٹی خدشات کے باعث ایئرپورٹ کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے اس لیے پاکستانی جہاز لینڈنگ نہیں کر سکتا اور وہ واپس چلا جائے۔

ذرائع کے مطابق پاکستانی جہاز پچاس منٹ تک کابل اور گردونواح میں اس لیئے پرواز اور انتظار کرتا رہا کہ یا تو افغان حکومت معاملے کی نزاکت کا ادراک کرتے ہوئے لینڈنگ کی خصوصی اجازت دے دیں گے یا متبادل انتظام کرلیں گے اس کے باوجود خاموشی چھائی رہی کہ افغان پارلیمنٹ کے اسپیکر سمیت متعدد دوسرے اعلیٰ حکام ایئرپورٹ پر استقبال کے لیے موجود تھے۔ کلیئرنس نا ملنے کی وجہ سے اعلی سطح وفد کو ناکام واپس آنا پڑا تاہم سپیکر اسد قیصر کے ساتھ جب ان کے افغان ہم منصب اور دیگر نے اسلام آباد میں لینڈنگ کے بعد رابطے کیے تو انہوں نے کسی شکوے یا منفی رد عمل کی بجائے اسے سکیورٹی مسئلہ سمجھ کر ان کو یہ یقین دہانی کرائی کہ سیکیورٹی کے حالات بہتر ہوں گے تو وہ وفد لے کر پھر آجائیں گے۔ بظاہر تو پاکستان نے اپنی نوعیت کے اس غیر معمولی اور ناقابل یقین واقعہ پر کسی قسم کا منفی ردعمل نہیں دیا

تاہم اس غیر ذمہ دارانہ طرزعمل نے نا صرف پاکستان کے متعلقہ حلقوں کو بلکہ ان افغان قائدین اور عہداداران کو بھی مایوس کردیا ہے جو کہ پاکستان اور افغانستان کے ساتھ بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں اور شاید اسی کا نتیجہ ہے کہ بعض اطلاعات کے مطابق افغان پارلیمنٹ نے اس طرز عمل اور واقعے پر اولسی جرگہ میں بحث کرانے اورتحقیقات کا مطالبہ بھی کر دیا ہے۔

بعض افغان حکام کے مطابق جہاز کو اس لیے اترنے نہیں دیا گیا کہ عین اسی دوران ائیرپورٹ پر کام کرنے والی ترکی کی ایک کمپنی کو کھدائی کے وقت بارودی مواد ملا تھا جس کے باعث ایئرپورٹ کوعارضی طورپر بند کر دیا گیا۔ جبکہ  بعض نے میڈیا کو بتایا کہ چونکہ ایئرپورٹ کے ائیر ٹاور کا نظام اور ڈیلینگ امریکہ اور نیٹو کے پاس ہے اس لئے وہ بے بس اور لاعلم تھے اوراسی وجہ سے جہاز کو اترنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ دوسری طرف بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق اسی دوران بعض جہاز قریبی واقع باگرام ایئربیس پر اتارے گئے جو کہ کابل کے نواح میں واقع ہے اور امریکی حکام اکثر اپنی آمدورفت کے لیے اسی کو استعمال کرتے آئے ہیں۔

پہلی بات تو یہ تھی کہ اگر متعلقہ حکام چاہتے تو اڑان سے قبل پاکستان کو اس صورتحال کی اطلاع  دے کر خود کو اس  انہونی صورت حال اور شرمندگی سے بچا لیتے کیونکہ اسلام آباد اور کابل کے درمیان محض 40 منٹ کا ہوائی سفر یا فاصلہ ہے دوسرا یہ کہ اگر سیکیورٹی مسئلہ واقعی درپیش تھا تو حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ جیسے بڑے احاطے کی کسی محفوظ جگہ پر جہاز کی لینڈنگ کے لیے خصوصی انتظامات کیے جاتے کیونکہ پاکستانی جہاز تقریبا ایک گھنٹے تک کابل کی فضاؤں میں پرواز کرکے متبادل کی تلاش میں لینڈنگ کا انتظار کرتا رہا۔

تیسری بات جس نے افغان انتظامیہ کی ساکھ کو بہت نقصان پہنچایا وہ یہ تھی کہ اس کے سول ایئر پورٹس کا کنٹرول اب بھی امریکہ اور نیٹو کے پاس ہے ایسے معاملات اب بھی غیر ملکی حکام ڈیل کرتے ہیں ۔اسباب اور عوامل جو بھی ہوں تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ اس واقعہ نے افغان حکومت کی مجموعی ساکھ، اختیار،گورننس اور طرزعمل کو بری طرح متاثر کردیا ہے اور پاکستان کے مثبت ردعمل کے باوجود  دونوں ملکوں کی ان کوششوں کو سخت دھچکا لگا دیا ہے جو کہ بہتر تعلقات کے قیام، اعتماد کی بحالی اور تجارت کے فروغ اور آسانیوں کے لیے حکومتی اور پارلیمانی سطح پر کافی عرصےسے کی جا رہی تھیں۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket