Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Monday, September 26, 2022

نسل پرستی اور قوم پرستی کا پس منظر اور پاکستان

دنیا میں سب سے زیادہ جنگیں مذہب کے بعد قوم پرستی اور نسل پرستی کے نام پر لڑی گئی ہیں اور شاید اسی کا نتیجہ ہے کہ امریکہ جیسا جدید ملک بھی اتنی ترقی اور ٹیکنالوجی کے باوجود نسل پرستی کو اپنے لئے نہ صرف یہ کہ خطرہ سمجھتا ہے بلکہ یہ اس مسئلہ کے حل میں ناکام بھی رہا ہے۔  اس کی تازہ مثال گزشتہ برس چند سفید فام پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں ایک سیاہ فام شہری کی ہلاکت کا وہ واقعہ ہے جس نے جہاں امریکہ کو اخلاقی طور پر ہلا کر رکھ دیا وہاں کئی ہفتوں تک پرتشدد مظاہرے ہوئے جن کے دوران ایک رپورٹ کے مطابق 19 افراد ہلاک اور  180 زخمی ہوئے۔

نسل پرستی اور قوم پرستی کو کتنا خطرناک طرز عمل سمجھا جاتا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پہلی اور دوسری جنگ عظیم جیسے انسانیت کُش واقعات نے اسی سے جنم لیا۔

 بعض حلقوں کا خیال ہے کہ مذہب ہی زیادہ تر جنگوں کا سبب بنتا ہے تاہم اس حقیقت کو تاریخی حقائق کے تناظر میں قطعاً نہیں جھٹلایا جا سکتا کہ معلوم تاریخ میں انسانی ہلاکتوں کی تعداد کے تناظر میں قوم پرستی یا تنگ نظری ہی وہ واحد ہتھیار رہا ہے جس نے دنیا کے ہر خطے میں لاکھوں انسانوں کو زندگی اور امن سے محروم کیا۔ اس ضمن میں ایرانی، عربی اور افغان قوم پرستی کی مثالیں دی جا سکتی ہیں جن کے دوران مختلف قوموں یا قومیتوں نے ہم مذہب ہو کر بھی لاکھوں انسانوں کا خون بہایا اور مختلف یورپی اور اسلامی ممالک میں یہ سلسلہ اب بھی موجود ہے اور جاری ہے۔  ایران اور سعودی عرب یا ان سے قبل عراق اور ایران کشیدگی کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔  ان جنگوں یا کشیدگی کی بنیاد نسل پرستی اور قوم پرستی پر قائم تھی حالانکہ فریقین بظاہر ایک ہی مذہب سے تعلق رکھتے تھے یا تعلق رکھتے ہیں۔ جرمن قوم ہٹلر کی قیادت میں ان طبقوں اور ممالک پر بھی چڑھ دوڑی جو کہ ان کے ہم مذہب تھے۔  بنیادی وجہ جرمن قوم اور ہٹلر کی یہ سوچ تھی کہ وہ دوسروں سے معتبر اور غیرت مند ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ نے تاریخ کی تین بڑی جنگیں اسی نفسیاتی برتری یا فلسفے کی بنیاد پر ایک دوسرے کے خلاف لڑی کہ ہر فریق خود کو برتر سمجھ رہا تھا۔ بھارت اور سری لنکا کی اکثریت ہندو آبادی ایک ہی مذہب پر مشتمل ہے تاہم بعض دوسری قوموں یا ممالک کی طرح یہ بھی ماضی قریب میں ایک دوسرے کے بدترین مخالف رہے ہیں۔  اس ضمن میں شورش زدہ افغانستان کی مثال بھی دی جاسکتی ہے جہاں ہزارہ،  ازبک اور تاجک اکثریتی قوم یعنی پشتونوں کے ہر دور میں مخالف رہے ہیں اور سال 1980

کےکمیونسٹ انقلاب سے لے کر مجاہدین اور ان سے ہوتے ہوئے طالبان کے دور تک اس ملک میں نسلی مسئلے کو بنیادی ایشو کا درجہ حاصل رہا حالانکہ یہاں کے 97 فیصد لوگ نہ صرف یہ کہ مسلمان ہیں بلکہ یہ اپنی افغانیت پر فخر بھی کرتے ہیں مگر قومیتوں کے مسائل ہر دور میں موجود رہے۔

  یورپ بھی اس مسئلہ کا نہ صرف مختلف ادوار میں شکار رہا ہے بلکہ رواں صدی کے دوران اس مسئلے کی شدت میں پُر تشدد اضافہ ہوا اور مختلف ممالک برطانیہ کے درمیان بعض معاشی مسائل کے علاوہ نسل پرستی کی بنیاد پر تعلقات بہت کشیدہ رہے۔

 اس ضمن میں پاکستان کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے۔ ساٹھ اور ستر کی دہائیوں میں حکمرانوں اور ایلیٹ کلاس کی بعض غلطیوں کے باعث بنگالی مزاحمت اور بغاوت پر اترآئے حالانکہ تحریک پاکستان میں سب سے موثر کردار بنگالیوں کا رہا تھا۔  ایک ہی مذہب اور ملک سے تعلق رکھنے کے باوجود بعض محرومیوں کی آڑ میں انہوں نے نہ صرف مزاحمت کا راستہ اپنایا بلکہ بھارت کی مدد حاصل کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جس کا نتیجہ ان کی علیحدگی کی صورت میں نکل آیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نسل پرستی اور قوم پرستی نہ صرف ماضی کی تلخیوں اور جنگوں کی وجہ رہی ہے بلکہ اب بھی یہ پوری شدت کے ساتھ دنیا کے تقریباً  ہر ملک اور معاشرے میں موجود ہیں۔

 بعض حلقوں کا خیال ہے کہ نائن الیون کے بعد مسلمانوں کے بعض لوگوں نے جو مزاحمت اپنائی وہ ان کی اپنی پیدا کردہ تھی حالانکہ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ فاصلے اور نفرتیں بڑھانے کی بنیاد بعض امریکی اور مغربی حکمرانوں کے علاوہ “تہذیبوں کے تصادم” نامی شرانگیز تھیوری نے رکھی تھی جس نے مسلمانوں کو امریکہ اور یورپ کا دشمن نمبر ون قرار دینے کا آن دی ریکارڈ فارمولا پیش کیا۔

یہ کہنا کہ پاکستان کے بغیر باقی ممالک قوم پرستی کے مسئلے یا ایشو سے بچے ہوئے ہیں زمینی حقائق کے منافی ہے کیونکہ یہ مسئلہ ایک عالمی ایشو تھا ، ہے اور رہے گا۔ پاکستان مقبول عام تصور، تجزیوں کے برعکس متعدد پڑوسی ممالک اور دوسروں سے بہتر اس لیے ہے کہ اس کا سیاسی اور آئینی ڈھانچہ مختلف تجربات ترامیم اور اصلاحات سے گزر کر کافی موثر اور مضبوط ہو چکا ہے جبکہ مختلف نسلوں اور قوموں کے درمیان ایک دوسرے پر موجود انحصار اور سوشل کنٹریکٹ بھی تلخیوں یا شکایات کو دائمی مخالفت یا مزاحمت میں تبدیل نہیں ہونے دے رہے۔  ایک دوسرے پر انحصار مسلسل آمدو رفت اور سیاسی و معاشی ضرورتوں نے پاکستان کے فیڈریشن کو مضبوط بنا کر رکھ دیا ہے ایسے میں ان عناصر یا قوتوں کو کوئی عملی کامیابی نہیں مل پائی جن کی کوشش رہی کہ پاکستان کو نسلی یا قومیت کی بنیاد پر تقسیم یا کمزور کیا جاسکے اس لئے بہتر آپشن یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس کے فیڈریشن کے اندر رہتے ہوئے اسے مضبوط بنایا جائے۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket