Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Friday, October 7, 2022

نئے چیلنجز اور پولیس شہداء

 گزشتہ روز نامعلوم حملہ آوروں نے سینٹرل جیل پشاور کے بالکل سامنے کلاشنکوف سے فائرنگ کردی۔ جیل کے ڈیوٹی انچارج اور سی ٹی ڈی کے افسر انسپکٹر خوشدل خان کو شہید جبکہ ان کے گارڈ کو شدید زخمی کردیا۔ وہ اپنی گاڑی میں بیٹھے تھے کہ ان کو نشانہ بنایا گیا ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تاہم پولیس اور دوسرے ادارے ان کی گرفتاری کے لیے متحرک ہیں اور توقع کی جارہی ہے کہ بہت جلد گرفتار ہوں گے۔ اس کے بعد ہی پتہ چل سکے گا کہ اس حملے کے محرکات کیا تھے تاہم تجزیہ کار اس واقعہ کو دہشت گردی کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں ان کا خیال ہے کہ پشاور کو ایک بار پھر بوجہ نشانہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے سیاسی کارکنوں اعلٰی افسران، تاجروں اور عوام کی طرح خیبرپختونخوا پولیس نے بھی سال   2007 کے بعدامن کی بحالی اور قیام میں ناصرف بنیادی کردار ادا کیا بلکہ بے پناہ قربانیاں بھی دیں ہیں۔

 اعداد و شمار کے مطابق 2008 کے بعد اب تک کے پی پولیس کے 70 افسران سمیت تقریبا ساڑھے سات سو جوانوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانیں قربان کی ہیں جو کہ صوبے کا ایک قابل فخر ریکارڈ ہے۔ 2008 سے لے کر 2013 کے درمیان حکومت نے جہاں اس فورس کو جدید بنیادوں پر ٹریننگ دی  

وہاں اس کی تنخواہ و مراعات اور سہولیات میں بھی بے پناہ اضافہ کیااور اسی کے نتیجے میں اس کو ملک کی بہترین بہترین فورس کہا جاتا ہے۔ کے پی پولیس کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اس کے افسران انتہائی کوالیفائیڈ اور تعلیم یافتہ ہیں غالبا اسی کا نتیجہ ہے کہ اس فورس میں ادارہ جاتی ہے احتساب کا عمل کسی بھی دوسرے ادارے سے زیادہ ہے۔ سابق آئی جی ناصر خان درانی اور صلاح الدین محسود کے ادوار میں ادارہ جاتی ڈسپلن اور اصلاحات پر بھرپورتوجہ دی گی تاہم موجودہ آئی جی ثناء اللہ عباسی اس معاملے میں کچھ زیادہ ہی حساس اور تیز ثابت ہوئے ہیں ان کے دور میں دوران ملازمت  فرائض میں غفلت برتنے والے انسپکٹر،سینکڑوں اہلکاروں اور درجنوں افسران کے خلاف سخت ترین کارروائیاں کی جا چکی ہیں۔ اس ضمن میں عمر تہکالے والے واقعے کے بعد ہونے والی تادیبی کاروائی کی مثال دی جا سکتی ہے۔

جس کے دوران چند ہی دنوں کے اندر پولیس افسران اور اہلکاروں کو برطرف کرنے سمیت دوسرے اقدامات اٹھائے گئے ۔اس وقت ضم شدہ اضلاع میں پولیس کو فحال بنانے پر بھرپور توجہ دی جا رہی ہے اور بعض علاقے ایسے ہیں جہاں مرد اہلکاروں کے علاوہ خواتین بھی فرائض سر انجام دینے میں مصروف ہیں۔

 سکیورٹی فورسز کی طرح صوبے میں قیام امن کےعمل میں پولیس کا کردار بہت اہم رہا ہے اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کو تمام مراعات اور سہولیات دینے کے علاوہ حالیہ دہشتگردی کی لہر کے تناظر میں تحفظ بھی فراہم کیا جائے۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket