Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Friday, October 7, 2022

منگل باغ کی ہلاکت کراس بارڈر ٹیرریزم اورافغان حکمران

ضلع خیبر خاص کر باڑہ میں کئی برسوں تک انتہا پسندانہ نظریات رکھنے والے شدت پسند کمانڈر اور کالعدم لشکراسلام کے سربراہ حاجی منگل باغ افغانستان کے صوبہ ننگرہارکے ضلع اچین میں اپنی رہائش کے دروازے پر نصب بم پھٹنے سے دیگر دو ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگئے ہیں۔افغان اور پاکستانی سیکیورٹی حکام کے علاوہ طالبان اور ٹی ٹی پی کے اہم ذرائع نے بھی ان کی موت کی تصدیق کر دی ہے اس سے قبل سال 2012 اور سال 2017 کے دوران بھی ان کی ہلاکت کی خبریں آتی رہی ہیں تاہم اب کی بار مختلف متعلقہ ذرائع سے ان کی موت کی تصدیق کی گئی ہے اس لئے بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ وہ اس دنیا میں نہیں رہے۔ 2018 کا دوران ان کا ایک بیٹا بعض دوسرے رشتہ دار اور قریبی ساتھی ننگرہارمیں ایک ڈرون حملے کا نشانہ بنے تھے جب کہ ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ بھی بعض دوطرفہ حملوں کے دوران ماضی قریب میں نشانہ بنتے رہے تاہم اب کی بار وہ بم دھماکے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ایک مقامی آفریدی قبیلے سے تعلق رکھنے والے منگل باغ کو سال دو ہزار پانچ کے دوران اس وقت شہرت ملی جب انھوں نے باڑہ اور دیگر علاقوں میں امن کے قیام کے نام پر سرگرمیاں شروع کیں اوراغوا،منشیات فروشی اور دیگر جرائم کے خلاف اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر کارروائیوں کا آغاز کیا تاہم بعد میں ان کی سرگرمیاں پشاور کوہاٹ پاڑاچنار، نوشہرہ اور چارسدہ تک پہنچنا شروع ہو گئیں انہوں نے نہ صرف نیٹو کی سپلائی لائن پر حملے کیے بلکہ سرکاری افسران و ملازمین اور بزنس کمیونٹی کو اغواء بھی کرتے رہے اور فورسز پر حملے بھی شروع کیے۔ مقامی علاقوں میں سیکیورٹی فورسز نے ان کے خلاف متعدد محدود آپریشن کیئے مگر وہ روپوش ہو کربچتے رہے سال دوہزارچودہ پندرہ کے آپریشن کے نتیجے میں ان کوعلاقے سے بے دخل کیا گیا۔ فورسز کی کاروائیوں کے نتیجے میں وہ افغانستان منتقل ہوگئے جہاں وہ ٹی ٹی پی اور بعض دوسرے پاکستانی طالبان گروپوں کی پناہ میں رہے۔چند ماہ قبل جب ٹی ٹی پی کے امیر مفتی نورولی محسود نے منتشر شدت پسند گروپوں کا اتحاد بنانے کی کوشش شروع کی تو دوسروں کے علاوہ منگل باغ اور ان کی تنظیم بارے میں کہا گیا کہ وہ بھی ٹی ٹی پی میں شامل ہونے جا رہے ہیں مگرجمعرات کا دن ان کی موت کا پیغام لیکرآیا اور یوں ایک اورکمانڈر جان کی بازی ہار گیا۔

منگل باغ کی ہلاکت سے چند اہم باتیں پھر سے سامنے آئی ہیں ایک تو یہ کہ پاکستان کے ایسے کمانڈر، گروپ  اور شدت پسند ایک لمبے عرصے سے نہ صرف یہ کہ افغانستان میں قیام پذیر ہیں بلکہ اس تاثر کو بھی تقویت ملتی ہے کہ افغان ادارے ان عناصر کی غالبا”  سرپرستی بھی کرتے آرہے ہیں اسی کا نتیجہ ہے کہ اقوام متحدہ نے چند ماہ قبل ایک رپورٹ میں انکشاف کیا کہ افغانستان کے مختلف علاقوں میں تقریبا چھ ہزار پاکستانی طالبان موجود ہیں جو کہ وہاں جاکر دہشت گردی کرتے ہیں دوسرا پہلو یہ ہے کہ اب شائد افغان طالبان کے بڑھتے اثر و رسوخ کے باعث وہاں موجود پاکستان مخالف طالبان اور ایسے دوسرے گروپوں کے لیے پہلے کی طرح آسانیاں اور سہولتیں باقی نہیں رہیں کیونکہ افغان طالبان اعلان کر چکے ہیں کہ افغان سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے گزشتہ ایک ماہ کے دوران پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں پانچ اہم کمانڈروں سمیت تقریبا ایک درجن حملہ آوروں کو مار ڈالا اور محدود ٹارگٹڈ آپریشنز کا یہ سلسلہ تاحال جاری ہے کیونکہ 2020 کے آخری مہینوں میں ان دونوں اضلاع میں فورسز کے اہلکاروں ، حکومت کے حامی عمائدین اور شہریوں پر حملوں کا سلسلہ بڑھ گیا تھا اوربعض حملہ آور موقع پا کر پاکستان کے سرحدی علاقوں میں آنا شروع ہوگئے تھے اب صورتحال کافی حد تک قابو میں ہے اور  باڑ لگنے کے باعث سرحدی آمدورفت کی سخت مانیٹرنگ ہورہی ہے دوسری طرف افغانستان کے حالات دن بدن خراب ہوتے جا رہے ہیں اور افغان حکومت کی رہی سہی رِٹ بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ افغان طالبان کی مذاکراتی ٹیم ایران کے دورے پر ہے جبکہ امریکہ کے نئے سیکریٹری خارجہ نے بھی کہا ہے کہ دوحہ معاہدے پر نظرثانی ہو سکتی ہے اسی تناظر میں افغان صدر اشرف غنی کے بھائی حشمت غنی احمد زئی کا وہ حالیہ انٹرویو بھی سیاسی اور صحافتی حلقوں میں زیر بحث ہے جس میں انہوں نے کہا کہ زلمے خلیلزاد ایک سازش کے تحت افغان حکومت گرا کر افغانستان کو طالبان کے حوالے کر رہے ہیں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ افغان حکومت اور سیاست میں شامل بعض اہم لوگ بھی نہیں چاہتے کہ امن قائم ہو اور انٹرا افغان ڈائیلاگ کامیاب ہوسکے ان کے مطابق معاہدے پر اعتماد سازی میں ایک سال لگ سکتا ہے ماہرین کے مطابق فروری کا مہینہ امن ،پاک افغان تعلقات اور مذاکرات کی کوششوں کے حوالے سے ایک اہم مہینہ ثابت ہوسکتا ہے اور بعض غیرمتوقع فیصلے سامنے آسکتے ہیں

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket