Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Monday, January 30, 2023

مفتی اعظم پاکستان کا دوٹوک موقف اور ٹی ٹی پی

مفتی اعظم پاکستان کا دوٹوک موقف اور ٹی ٹی پی

عقیل یوسفزئی

مفتی اعظم پاکستان محمد تقی عثمانی نے گزشتہ روز اپنے ایک بیان میں دوٹوک انداز میں تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے پاکستان پر ہونے والے حملوں کو غیر اسلامی، ناجائز اور حرام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اس کے دستور کے مطابق ایک اسلامی ریاست ہے اور اس جیسا اسلامی دستور اور کسی بھی ملک میں نہیں ہے اس لیے اس پر ہونے والے حملے قطعی طور پر حرام ہیں.
وہ تحریک طالبان پاکستان کے امیر مفتی نور ولی محسود کے اس مطالبے یا بیان پر متعدد دوسرے علماء کے ہمراہ اپنا موقف دے رہے تھے جس میں علماء سے پوچھا گیا تھا کہ وہ ٹی ٹی پی کی کارروائیوں اور بیانیہ پر ان کی رہنمائی کریں.
مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ مفتی نور ولی محسود کو ہم بعض افغان قائدین کی موجودگی میں دلائل کی بنیاد پر آمنے سامنے بیٹھ کر بتا چکے ہیں کہ وہ جو کچھ کررہے ہیں وہ خلاف اسلام ہیں اور یہ پاکستان کے علماء کا متفقہ موقف ہے جس کا ہم وقتاً فوقتاً اظہار کرتے آ رہے ہیں. ان کے مطابق تحریک طالبان پاکستان ظلم کی مرتکب ہورہی ہے اور اس کی کارروائیوں سے بے گناہوں کا خون بہایا جارہا ہے.
مفتی اعظم کا واضح موقف جاری صورتحال میں بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ جاری لہر کے دوران تحریک طالبان پاکستان بالخصوص اس کے امیر مفتی نور ولی محسود علماء اور عوام کو بار بار مخاطب کرتے ہوئے نہ صرف پاکستان کے خلاف ان کو استعمال کرنے کی کوشش کررہے ہیں بلکہ بلاواسطہ طور پر ان کو اپنی حمایت پر مجبور کرنے کی پالیسی پر بھی عمل پیرا ہیں.
مفتی اعظم تقی عثمانی نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ وہ پاکستان سے متعلق بیانیہ پر نورولی محسود کو قائل بھی کرچکے تھے. غالباً ان کا اشارہ اس ملاقات کی جانب تھا جو کہ مذاکراتی عمل کے دوران پاکستانی علماء اور تحریک طالبان پاکستان کے قایدین کے درمیان افغانستان میں میں ہوئی تھی اور اس ملاقات میں بعض اہم افغان عہدیدار بھی موجود تھے.
پاکستان میں جہاں ٹی ٹی پی کے حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور کاونٹر ٹیررازم کے اقدامات بھی زور پکڑ چکے ہیں وہاں عوام کا اینٹی طالبان کمپین بھی عروج پر ہے اور روزانہ کی بنیاد پر ملک خصوصاً صوبہ پختون خوا میں عوام اجتماعات اور مظاہروں کے دوران اپنی آواز پہنچاتے دکھائی دے رہے ہیں. شاید اسی دباؤ کا نتیجہ ہے کہ ٹی ٹی پی ابلاغیات اور پروپیگنڈہ کا سہارا لیکر ایک نئی حکمت عملی پر پیرا ہے.
فوج پر حملے چونکہ ٹی ٹی پی کے لیے ممکن نہیں رہے اس لیے وہ سافٹ ٹارگٹ کے طور پر پولیس فورس کو نشانہ بنارہی ہے. اور ساتھ میں سوشل میڈیا کے ذریعے پروپیگنڈہ کو بھی زیرِ استعمال لارہی ہے.
اس صورتحال میں ریاست کے لیے ضروری ہے کہ وہ یکسو اور سنجیدہ ہوکر نہ صرف علماء اور امن پسند حلقوں کو تحفظ فراہم کرے بلکہ ٹی ٹی پی کے بیانیہ اور پروپیگنڈہ کو کاونٹر کرنے کی ایک مربوط حکمت عملی پر بھی توجہ دیں کیونکہ جہاد اور قتال سے متعلق دو سے زیادہ آراء موجود ہیں اور عوام اب بھی کنفیوژن کا شکار ہیں.

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket