Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Monday, January 30, 2023

مذاکراتی عمل، اس کی ضرورت اور جاری حالات

مذاکراتی عمل، اس کی ضرورت اور جاری حالات
عقیل یوسفزئی

پاکستانی ریاست اور مختلف کالعدم تنظیموں یا گروپوں کے درمیان مختلف ادوار میں تقریباً دو درجن معاہدے ہوچکے ہیں تاہم دوسری طرف سیکورٹی فورسز نے مختلف علاقوں خصوصاً خیبر پختون خوا میں اتنی ہی تعداد میں چھوٹے بڑے آپریشن بھی کئے ہیں. اب بھی بعض قبائلی علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں تاہم گزشتہ چند برسوں سے حکمت عملی یہ اختیار کی گئی ہے کہ ماضی کے برعکس فوجی کارروائیوں کو ٹارگٹڈ آپریشن تک محدود رکھا جائے تاکہ عام لوگوں کو روزانہ کی نقل و حرکت اور سرگرمیوں میں مشکلات درپیش نہ ہوں۔
وار آن ٹیرر پر مشہور زمانہ امریکی کتاب “وار مشین” کے مطابق امریکہ اور نیٹو کے بعض دوسرے اہم ممالک نے ناین الیون کے بعد افغانستان میں مختلف طالبان گروپوں اور جتھوں کے ساتھ تقریباً 11 غیر اعلانیہ معاہدے کئے جن میں ہلمند کا معاہدہ بھی شامل ہے جو کہ برطانوی فوج اور طالبان کے درمیان ہوا تھا اور اس پر امریکہ نے حیرت کے علاوہ انتہائی ناراضگی کا اظہار بھی کیا تھا. مذکورہ معاہدے میں نہ صرف ہلمند پر طالبان کا کنٹرول تسلیم کیا گیا تھا بلکہ ان کو فنڈز بھی مہیا کیے جاتے تھے. قندھار، ننگرہار، خوست، پکتیا اور متعدد دوسرے صوبوں میں بھی متعدد لوکل لیول کے معاہدے کئے گئے تھے. حالت یہ رہی کہ چین، بھارت اور روس جیسے ممالک بھی جہاں ایسے غیراعلانیہ ڈیلنگ کرتے رہے بلکہ طالبان کو بعض پراجیکٹس کے تحفظ کیلئے بھاری رقوم بھی دیتے رہے.
ایک اور معتبر کتاب “اوباما وارز” کے مطابق یہی پالیسی امریکی اور ایساف فورسز نے متعدد بار عراق اور شام میں بھی استعمال کی.
یہ بہت عجیب بات ہے کہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں داعش کے خلاف جنگیں لڑتا رہا مگر افغانستان میں وہ داعش کی فنڈنگ کرتا رہا ہے کیونکہ وہ اس جنگجو فورس کو طالبان کے علاوہ ایک پریشر گروپ کے طور پر روس، ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے خلاف استعمال کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور اس کا آن دی ریکارڈ ردعمل متعدد بار نہ صرف اشرف غنی کے دور حکومت میں مسلسل احتجاج کی صورت میں سامنے آتا رہا بلکہ پیوٹن نے بذات خود 3 بار دھمکیوں سمیت دوسرے طریقوں سے بھی سخت ردعمل دکھایا۔
کہنا یہ مقصود ہے کہ ہر ملک اور خطے میں جھاں ایک طرف پراکسیز اور گوریلا جنگوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے وہاں آف اور آن دی ریکارڈ فریقین کے درمیان رابطہ کاری اور مذاکرات کا عمل بھی ساتھ ساتھ چلتا رہتا ہے۔اس کی ایک حالیہ مثال دوحہ مذاکراتی عمل کے دوران افغان طالبان اور امریکی حکومت کے درمیان تعلقات کار رہی ہے۔ امریکہ نے نہ صرف حقانیوں سمیت درجنوں دیگر قیدیوں کو رہا کر دیا اور اشرف غنی پر دباؤ ڈال کر سینکڑوں، ہزاروں دوسرے قیدیوں کو رہائی دلائی بلکہ دوسری طرف امریکہ، افغان طالبان اور افغان فورسز کے درمیان ایکدوسرے پر ریکارڈ حملے بھی اس مذاکراتی عمل کے دوران جاری رہے.
اس کا مطلب یہ ہے کہ اس قسم کی تنظیموں اور گروپوں کے ساتھ نمٹنے کیلئے ریاستیں مختلف طریقے استعمال کرتی رہتی ہیں اور یہ ایک ہمہ پہلو مگر مشکل کام سمجھا جاتا ہے.
پاکستان نے بھی متعدد بار یہی فارمولے استعمال کئے. مثال کے طور پر 2009 میں اے این پی اور پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت نے سوات معاہدہ کے نام سے ایسا قدم اٹھایا جس میں ریاست کا فائدہ کم اور طالبان کا فائدہ زیادہ تھا. دوسرے فریق نے سرعام معاہدہ توڑا تو سیاسی اور عسکری قیادت نے متبادل کے طور پر سوات آپریشن کا آغاز کیا. سینکڑوں مارے گئے تو ہزاروں گرفتار کئے گئے جبکہ سینکڑوں افغانستان چلے گئے جن کو وہاں ٹھکانے میسر آئے اور یہی وہ لوگ ہیں جو اب بوجوہ پھر سے پاکستان پر حملہ آور ہونے کی کوشش کررہے ہیں.
دوحہ پراسیس کے دوران پاکستان نے امریکہ اور افغان طالبان کے ساتھ موجودہ خطرے یا ممکنہ صورتحال پر باضابطہ طور پر متعدد بار اپنی تشویش کا کھل کر اظہار کیا تھا اور اسی پس منظر میں پاکستان کا اس وقت ریاستی بیانیہ یہ تھا کہ امریکا نکلنے میں جلدی نہ کرے مگر جس تیزی سے امریکہ نکل گیا اس کو امریکی میڈیا اور کانگریس میں بھاگنے کا نام دیا. اس نے صورتحال کو پر خطر بنادیا. اس دوران بعض اندرونی اختلافات نے امارات اسلامیہ افغانستان اور تحریک طالبان پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لیا جس کا داعش فائدہ اٹھا نے لگی اور پاکستان، روس، چین اور ایران میں بھی خطرے کی گھنٹی بجنی شروع ہوگئی.
یہی وہ مرحلہ تھا جب ریاست پاکستان نے افغانستان کی حکومت کی ثالثی کی پیشکش پر اعلانیہ طور پر ٹی ٹی پی کے ساتھ باظابطہ مذاکرات کا آغاز کیا اور اس عمل میں پہلی بار متاثرہ علاقوں کے عمائدین اور سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو شامل کیا گیا تاکہ تمام معاملات ان کے علم میں ہوں. تاہم شرائط کے تبادلے کے دوران جب طالبان یا ان کے بعض گروپوں نے سوات سمیت بعض دیگر علاقوں میں حملے شروع کئے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ گویا وہ کسی مبینہ ڈیل کے تحت واپس آ کر یہ سب کچھ کرنے لگے ہیں تو معاملہ خراب ہوگیا، عوام امن کے لیے نکل آئے تو دوسری طرف ریاست کے ذمہ داروں نے واضح پیغام دیا کہ نہ تو ایسی کوئی ڈیل ہوئی ہے، نہ ہوگی اور نہ ہی ملک خصوصاً پختون خوا میں 2008.9 جیسے حالات کو پھر آنے دیا جائے گا.
پاکستان میں ماضی کے مقابلے میں سیکیورٹی کے مجموعی حالات بہتر اور قومی بیانیہ کافی واضح ہے تاہم اس تمام صورتحال کو عالمی اور علاقائی تبدیلیوں اور بعض اہم چیلنجز کے وسیع تر تناظر میں دیکھنے کی اشد ضرورت ہے. یہ محض کسی مخصوص علاقے کا مسئلہ نہیں ہے اس لیے اس پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے اور اس بات کی بھی کہ اس پیچیدہ مسئلہ کو سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لیے استعمال کرنے سے قطعی گریز کیا جائے کیونکہ بعض لوگ بہت سطحی اپروچ کا سہارا لیکر نہ صرف ابہام پیدا کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں بلکہ بعض کا ردعمل انتہا پسندوں کا کام آسان کرنے کا ذریعہ بھی بن رہا ہے جو کہ وسیع تر تناظر میں ایک منفی اور خطرناک عمل ہے.

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket