Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Monday, September 26, 2022

مداخلت کی من پسند تشریح

متعدد بار پاکستان کی مختلف حکومتوں کا حصہ رہنے والی اے این پی کے قائدین اور کارکنان کافی دنوں سے افغانستان کی حکومت کے ترجمان بنے ہوئے ہیں جس پر دوسروں کے علاوہ افغان باشندے بھی حیرت کا اظہار کررہے ہیں۔اے این پی کا کہنا ہے کہ پاکستان افغانستان میں طالبان کی حمایت کرکے مداخلت کررہا ہے۔تاہم ایسا کہتے وقت یہ پارٹی یہ بھول جاتی ہے کہ وہ افغانستان کے دو فریقوں کے درمیان ایک کا ساتھ دے کر خود ایک اور ملک میں مداخلت کی مرتکب ہورہی ہے۔اسی مداخلت کو ہر افغان حکومت اور حکمران نے خلوتوں اور بعد کی دستاویزات میں نہ صرف نا پسند کیا بلکہ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ کنک ظاہر شاہ نے 70 کے الیکشن میں ولی خان کے خلاف سانحہ بابڑہ کے ذمہ دار قیوم خان کو فنڈنگ بھی کی جس کا ولی خان نے اپنی کتاب میں ذکر بھی کیا ہے۔لر او بر کے نعرے کو نہ صرف محض ایک  نعرہ ہی سمجھا جاتا ہے بلکہ افغانستان کے نان پشتون لیڈرشپ اس کا مذاق اڑایا کرتے ہیں کیونکہ افغانستان میں جہاں 50 فیصد آ بادی ازبکوں،تاجکوں اور ہزارہ قومیتوں کی ہے وہاں یہ لوگ ہر دور میں بااختیار اور طاقتور بھی رہے ہیں۔

اسی تناظر میں اگر پاکستان کے قوم پرستوں کے ایک شاعرانہ نعرے کو بنیاد بنا دیا جائے تو اگر کل کو ازبکوں اور تاجکوں نے ایسے ہی نعرے لگائے تو پھر کیا ہوگا کیونکہ تاجکستان اور ازبکستان معاشی اور سماجی سطح پر افغانستان سے بہت اگے ہیں۔جہاں تک پاکستان کی مبینہ مداخلت کا تعلق ہے اس معاملے کے متعدد اسباب ہیں مگر زیادہ الزامات یا تصورات مبالغے پر مشتمل ہیں۔ افغانستان اگر بھارت،روس ،ایران اور ایسے دیگر ان ممالک کے ساتھ پاکستان کی مخالفت کی بنیاد پر تعلقات رکھے گا اور ان دی ریکارڈ 70 کی دھائی سے اب تک  بلوچ، سندھی اور پشتون قوم پرستوں کو فنڈنگ اور ٹریننگ دیتا رہے گا تو اس کا ردعمل بھی ہوگا جو کہ ہوتا آیا ہے۔ بعض مواقع پر پاکستان نے شاید غیر ضروری مداخلت بھی کی ہو تاہم یہ بیانیہ کیسے درست مان لیا جائے کہ افغانستان کے مسایل کا ذمہ دار پاکستان ہے۔

تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ جب پاکستان بنا ہی نہیں تھا تب بھی افغانستان میں امن نہیں تھا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ 80 فیصد افغان حکمران غیر طبعی اموات کا شکار ہوئے۔چند ماہ قبل افغان اداروں کی سرپرستی میں پی ٹی ایم نامی گروپ کی حمایت میں کابل سمیت بہت سے شہروں میں پاکستان مخالف جلوس نکالے گئے تب اے این پی نے مداخلت کا نوٹس کیوں نہیں لیا جو اب چند عام پاکستانیوں کے ان ریلیوں پر سر اسمان پر اٹھا رکھا ہے جو کہ طالبان وغیرہ کی حمایت میں نکالے گئے۔ رہی بات لاشوں کی پاکستان لانے کے معاملے کی تو  بلوچستان حکومت میں شامل اے این پی اپنے زرایع سے یہ بھی معلوم کرے کہ سرحدی شہر کچلاک میں روزانہ کی بنیاد پر افغان  فوجیوں کی لاشوں اور زخمیوں کو بھی لایا جاتا ہے کیونکہ یہ لوگ 40 برسوں سے ان علاقوں میں رہائش پذیر ہیں اور یہ کوئی نئی یا انہونی بات نہیں ہے۔

جس طریقے سے یہ پارٹی اور بعض دیگر قوتیں پاکستان کی مخالفت میں امن کے نام پر ایک ایسی افغان حکومت کی ترجمان بن کر فریق بننے کی کوشش کررہی ہیں جس سے دوسروں کے علاوہ تین سے پانچ ٹریلین ڈالرز خرچ کرنے والے امریکہ نے بھی ھاتھ اٹھا دیے ہیں وہ نہ صرف قابل حیرت ہے بلکہ اس پارٹی اور دوسرے ہمنواؤں کے لیے خطرناک بھی ہیں کیونکہ ماضی میں یہ لوگ ٹی ٹی پی کے ہاتھوں  جس انداز میں حکومت میں رہتے ہوئے ” مار” کھا چکے ہیں وہ کل ہی کی بات ہے۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket