Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Thursday, October 6, 2022

علی وزیر کی گرفتاری اور 2020 کا سب سے بڑا لطیفہ

سندھ پولیس نے وزیرستان سے تعلق رکھنے والے ایم این اے علی وزیر کی سہراب گوٹھ کراچی کی تقریرپر کاٹی گئی ایف آئی آر پر کارروائی کرتے ہوئے پشاور پولیس کے ذریعے گرفتار کرکے کراچی منتقل کردیا ہے جہاں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے پولیس کی درخواست پر ان کا ریمانڈ دے دیا ہے۔  ان کی گرفتاری کےلئے ایف آئی آر اس صوبے میں کاٹی گئی ہے جہاں پی ٹی ایم کی ایک حامی جماعت پیپلز پارٹی کی حکومت ہے۔  اس پارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پی ٹی ایم اور اس کی ٹاپ لیڈرشپ کی نہ صرف بہت بڑے حامی رہے ہیں بلکہ ان کے مشیر خاص فرحت اللہ بابر کے بارے میں مشہور ہے کہ افراسیاب خٹک کی طرح موصوف بھی پی ٹی ایم کی فیصلہ سازی میں اہم کردار ادا کرتے آئے ہیں۔   یک طرفہ تماشا یہ ہے کہ جناب بلاول نے پارٹی سربراہ ہونے کے باوجود علی وزیر کی گرفتاری کی مذمت بھی کی ہے حالانکہ ان کی گرفتاری انہی کی حکومت کی کاٹی گئی پولیس ایف آئی آر کے مطابق عمل میں لائی گئی ہے۔

 پولیس صوبائی حکومت کا ایک ماتحت ادارہ ہے اور اگر علی وزیر پر تشدد ہوتا ہے یا ان کی گرفتاری واقعی غیرقانونی ہے تو اس کی براہ راست ذمہ دار سندھ حکومت ہے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ جناب بلاول نے کس اخلاقی اور قانونی جواز کی بنیاد پر اپنی ہی حکومت کے کرائے گئے اقدام کی مذمت یا مخالفت کی ہے؟  کیا ان کو کسی نے یہ نہیں بتایا کہ اس اقدام کی ذمہ داری ان کی صوبائی حکومت اور انتظامیہ ہی پر عائد ہوتی ہے یا ان کو اب بھی یقین نہیں ہے کہ سندھ میں ان کی پارٹی اور ان کی حکومت قائم ہے؟  ان کے مذمتی بیان نے بہت سے لوگوں کے سر چکرا دیے ہیں اگر بلاول بھٹو کے مزمتی بیان کو سال 2020 کا بہترین لطیفہ اور مذاق قرار دیا جائے تو بے جا نہیں ہوگا۔  ایسے ہی بیانات اور لطیفے چند ماہ قبل پی ٹی ایم کراچی کے اس جلسے کے بعد سننے اور پڑھنے کو ملے تھے جب کیپٹں (ر) محمد صفدر کو گرفتار کیا گیا تھا۔

اس بحث سے قطع نظر کہ پی ٹی ایم کے مقاصد اور طرز عمل پر تبصرہ کیا جائے اس بات پر گفتگو ضرور ہونی چاہیے کہ یہ گروپ پشتونوں کے حقوق کے نام پر جو کچھ کہتا اور کرتا آرہا ہے زمینی حقائق کے تناظر میں اس سے پشتونوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے یا نقصان؟

پی ٹی ایم کی سنجیدہ لیڈر شپ کو اس بات کا بھی جائزہ لینا چاہئے کہ ان کے جذبات اور بعض جائز مطالبات کو بعض وہ حلقے اپنے سیاسی مقاصد کے لئے منفی انداز میں کیوں استعمال کر رہے ہیں جن کو دوسروں کے آلہ کار سمجھ کر اینٹی  پاکستان سمجھا جاتا ہے؟  یہ بات بھی قابل غور ہے کہ عمران خان، سراج الحق اور اسفند یار ولی خان، فضل الرحمن جیسے وہ لیڈر آج پی ٹی ایم سے لاتعلق کیوں ہیں جنہوں نے کارکنوں سمیت اس گروپ کے اسلام آباد دھرنے میں خود شرکت کرکے تقریریں کی تھیں؟ یہ نکتہ بھی قابل بحث ہے کہ جو افغان حکمران اپنے امن کے لیے پاکستان کے محتاج ہیں انہوں نے دوسرے شرکاء کے مقابلے میں جناب اشرف غنی کی تقریب حلف برداری اور اس کے بعد کی تقریبات میں پی ٹی ایم کے لیڈروں کو غیر معمولی پروٹوکول سے کیوں نوازا تھا؟

یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب ملنا اس لیے ضروری ہے کہ بہت سے معتبر حلقے پی ٹی ایم کو بعض بیرونی قوتوں کا آلہ کار سمجھ رہے ہیں اور اس گروپ کے ریاست مخالف بیانیہ کو غیر ملکی ایجنڈا قرار دے رہے ہیں۔  جن مطالبات کی بنیاد پر پی ٹی ایم اٹھی تھی وہ مطالبات برسوں سے نہ صرف یہ کہ بعض دوسری جماعتیں کرتی آ رہی ہیں بلکہ ان میں سے اکثر نکات اور مطالبات وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ریاست نے حل اور تسلیم بھی کیے ہیں۔  بہت سے مسائل بعض دوسرے قومی مسائل کی طرح اب بھی حل طلب ہیں تاہم اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ ریاست کسی مخصوص قومیت یا علاقے کی مخالف ہے غالباً درست رویہ نہیں ہے۔  پی ٹی ایم پارلیمانی اور غیر پارلیمانی سیاست کے ایشو پر دو سے زائد گروپوں میں تقسیم ہے۔  اب تک اس کو عملی طور پر تنظیمی بحران یا ڈھانچے کے فقدان جیسے بنیادی مسئلے کا بھی سامنا ہے یہی وجہ ہے کہ اس گروپ نے مختلف الخیال پارٹیوں اور این جی اوز کے بعض سخت گیر لوگوں کے آماجگاہ یا مرکز کی شکل اختیار کر لی ہے۔  ان میں سے بعض وہ عناصر بھی پیش پیش ہے جو کہ اپنی سرزمین پر محض اس لیے رہنا پسند نہیں کرتے کہ ان کو باہر کے ترقی یافتہ ممالک میں قیام کی سہولت حاصل ہے اور وہ پشتونوں کے اندر رہنا پسماندگی اور اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں ۔

حرف آخر یہ کہ علی وزیر سمیت ہر شخص کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرنا ان کا آئینی اور قانونی حق ہے اس لئے ان کے ساتھ نرمی اور عین قانونی تقاضوں کے مطابق سلوک کیا جائے اور دوسرا یہ کہ پی ٹی ایم اور بعض ایسے گروپوں یا پارٹیوں کو اپنے رویے پر نظرثانی کرنی چاہئے

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket