Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Thursday, October 6, 2022

صوبے میں بلدیاتی الیکشن کا دوسرا مرحلہ اور متوقع نتائج

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صوبہ خیبر پختونخوا میں مقامی حکومتوں یا بلدیاتی الیکشن کے دوسرے مرحلے کے شیڈول کا باقاعدہ اعلان کردیا ہے جس کے مطابق باقی ماندہ اضلاع میں 27 مارچ کو پولنگ ہوگی جبکہ حتمی نتائج کا سرکاری اعلان یکم اپریل کو کیا جائے گا۔ کمیشن کے جاری کردہ شیڈول کے مطابق کاغذات نامزدگی 7 سے 11 فروری تک جمع کرائے جاسکیں گے جبکہ ان کی جانچ پڑتال 14 سے 16 فروری تک ہوگی۔ 23 فروری کو امیدواروں کی فہرست جاری کی جائے گی جبکہ 28 فروری کو انہیں انتخابی نشانات الاٹ جائیں گے۔
اب کے بار بھی اعلی عدلیہ کے ایک فیصلے کے مطابق بلدیاتی الیکشن جماعتی بنیادوں پر ہوں گے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ تمام پارٹیوں نے اس مرحلے کے لیے پہلے ہی سے اپنی تیاریاں اور سرگرمیاں شروع کر رکھی ہیں کیونکہ پہلے مرحلے کے نتائج نے حکمران جماعت تحریک انصاف کو جو دھچکا لگایا تھا اس نے اپوزیشن کی کامیابی کے امکانات کو دوسرے مرحلے کے دوران مزید بڑھا دیا ہے جبکہ تحریک انصاف کا دعویٰ ہے کہ پہلے مرحلے والی غلطیاں نہیں دہرائی جائیں گی، ٹکٹیں میرٹ کی بنیاد پر مشاورت سے دی جائیگی اور یہ کہ ناراض کارکنوں اور عہدیداروں کو اعتماد میں لیا جائے گا۔دوسری طرف اپوزیشن کا موقف ہے کہ تحریک انصاف اور اس کی حکومت عوامی مقبولیت کھو چکی ہے اس لئے ان کو دوسرے مرحلے کے دوران بھی شکست ہو گی۔
پہلے مرحلے کے دوران صوبے کے 18 اضلاع میں جے یوآئی(ف) اکثریتی پارٹی کے طور پر سامنے آئی تھی جبکہ اے این پی اور پیپلز پارٹی بھی خاصی سیٹیں لینے میں کامیاب ہوگئی تھیں اور اپوزیشن کے مجموعی ووٹ بینک میں اضافہ دیکھنے کو ملا تھا۔ حالت یہ رہی کہ پشاور جیسے شہر میں میئر شپ کی سیٹ جے یو آئی بھاری اکثریت سے لے اڑا اور اے این پی کا امیدوار دوسرے نمبر پر آیا پشاور میں حکمران جماعت کا امیدوار تیسرا نمبر لینے میں کامیاب ہوا جس نے دوسروں کے علاوہ وزیراعظم عمران خان کو بھی سخت مایوس کیا اور انہوں نے نہ صرف ان نتائج کو اپنی پارٹی کی ناکامی کا نام دیا بلکہ انہوں نے ان نتائج کا سخت نوٹس لیتے ہوئے بعض اہم لیڈر، ممبران اسمبلی اور عہدیداران کے خلاف کارروائیاں بھی کرائیں۔
اٹھائیس (28) فروری کو جن علاقوں یا اضلاع میں الیکشن ہوں گے ان میں ہری پور کے بغیر پورا ہزارہ ڈویژن، بونیر کو چھوڑ کر پورا ملاکنڈ ڈویژن جبکہ چار قبائلی اضلاع شامل ہیں۔ اس لیے کہا جاسکتا ہےکہ حکمران جماعت کے لیے یہ علاقے اور اضلاع پہلے مرحلے کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ثابت ہوں گے۔ چار قبائلی اضلاع میں جے یو آئی(ف) کی جیت کے امکانات زیادہ ہیں کیونکہ ان علاقوں میں یہ پارٹی تنظیمی طور پر نہ صرف بہت فعال ہے بلکہ جے یو آئی(ف) کو افغانستان کی بدلتی صورت حال سے بھی فائدہ پہنچے گا۔ ہزارہ ڈویژن میں مسلم لیگ کافی مضبوط ہے اور وہاں کے بٹگرام، مانسہرہ اور بعض دیگر علاقوں میں جے یو آئی(ف) اور پی پی پی بھی کافی ووٹ بینک رکھتی ہے۔
ملاکنڈ ڈویژن میں اگرچہ تحریک انصاف 2018 کے الیکشن میں اکثریت حاصل کر چکی تھی تاہم وہاں مسلم لیگ جے یو آئی(ف) اےاین پی ، جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی کا بھی نہ صرف یہ کہ ہولڈ رہا ہے بلکہ صوبائی اسمبلی میں ان کی نمائندگی بھی موجود ہے اور نتائج 2018 کے الیکشن سے یکسر مختلف بھی ہو سکتے ہیں۔
وزیر اعلےٰ محمود خان اور ان کی ٹیم کے لیے ملاکنڈ ڈویژن خصوصاً سوات کے الیکشن کو جیتنا نہ صرف بہت ضروری ہے بلکہ یہ ان کے لیے بہت بڑا چیلنج بھی ہے کیونکہ سوات کے پاس جہاں سی ایم اور ایک وفاقی وزارت ہے وہاں صوبائی کابینہ میں بھی سوات کی کافی مؤثر نمائندگی موجود ہے اور یہی وجہ ہے کہ وزیر اعلےٰ نے اپنے دور ےاور ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات بڑھا دیے ہیں۔
ماہرین الیکشن کو اگلے عام الیکشن کے متوقع نتائج کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور اسی کا نتیجہ ہے کہ عمران خان اور ان کی حکومت نہ صرف یہ کہ الرٹ ہو کر غیرمعمولی حساسیت سے دو چار نظر آتی ہے بلکہ ان کے لئے غلطی اور ناکامی کی گنجائش بھی بہت کم رہ گئی ہے۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket