Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Monday, September 26, 2022

سیکیورٹی صورتحال، درپیش چیلنجز اور ریاستی اقدامات

خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں اضافہ ہو گیا ہے جبکہ دوسری طرف گزشتہ تین ماہ کے دوران فورسز پر حملوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے جس سے نمٹنے کے لیے فورسز کی کارروائیاں کسی وقفے کے بغیر جاری ہیں۔عسکری حکام کے مطابق افغانستان کی بدلتی صورتحال پر کڑی نظر رکھی جارہی ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ 15 اگست کے بعد جہاں سرحدوں کی نگرانی سخت کردی گئی ہے وہاں داخلی سکیورٹی کے متوقع چیلنجز سے نمٹنے کے لیے انٹلجنس بیسڈ آپریشنز کا سلسلہ بھی جاری رکھا گیا ہے تاکہ امن و امان کی صورتحال کو بحال رکھا جاسکے اور ریاستی رٹ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک رپورٹ کے مطابق رواں برس ٹی ٹی پی نے پاکستان کے مختلف علاقوں خصوصاً خیبرپختونخوا میں ساٹھ حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے جبکہ ایک اور سیکیورٹی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یکم جولائی سے لے کر 30 اگست کے درمیان کیے جانے والے دہشت گرد حملوں کے نتیجے میں 240 افراد شہید ہوئے۔ جن میں اکثریت کا تعلق سیکورٹی فورس سے ہے۔ رپورٹ کے مطابق رواں برس 2020 کے مقابلے میں نہ صرف حملوں کی تعداد میں اضافہ ہوا بلکہ فورسز نے بھی ریکارڈ کارروائیاں کیں اور سینکڑوں مطلوب افراد کو ٹھکانے لگایا جن میں دو درجن اہم کمانڈر بھی شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سال 2020 کے دوران کرائے گئے حملوں میں ہونے والی فورسز اور عوام کی اموات کی تعداد 600 تھی۔ اسی تناسب سے دیکھا جائے تو یکم جون سے 30 اگست تک کی ہونے والی اموات کی شرح کافی زیادہ ہے تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق افغانستان میں ٹی ٹی پی پر پڑنے والے دباؤ کے باعث حملوں کی تعداد بڑھی ہے جو کہ غیر متوقع نہیں ہے کیونکہ افغانستان کی نئی حکومت ان ٹی ٹی پی جنگجوؤں کی سرپرستی نہیں کررہی جنہوں نے ہزاروں کی تعداد میں وہاں پناہ لے کر رکھی تھی یا اب بھی وہاں موجود ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں برس ٹی ٹی پی نے جتنے حملے کرائے ہیں ان کے دوران 70 فیصد کے تناسب سے صوبہ خیبر پختونخواہ کو نشانہ بنایا گیا تاہم فورسز پر بھی سب سے زیادہ حملے پختونخوا کے ان قبائلی اضلاع میں کئے گئے جو کہ ماضی میں انتہا پسندوں کے مراکز رہے ہیں۔اسی کے ردعمل میں فورسز نے بھی اپنی کارروائیوں کا مرکز انہی علاقوں کو بنائے رکھا اور شاید اسی کا نتیجہ ہے کہ جوابی ردعمل میں فورسز اور ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا۔
بیس (20)اکتوبر کی شام کو سی ٹی ڈی نے پشاور کے ایک علاقے شاہ پور میں ایک جھڑپ کے دوران 3 مزاحمت کاروں کو مارڈالا جبکہ تین افراد فرار ہونے میں کامیاب ہوئے اور بعد میں پتا چلا کہ تینوں کا تعلق داعش خراسان سے تھا۔ اس کاروائی کو اعلٰی سیکورٹی حکام نے بہت سنجیدہ لیا اور مختلف علاقوں میں سرچ آپریشنز کر کے متعدد افراد کو حراست میں لے لیا۔ اسی شام کو باجوڑ اور ہنگو میں فورسز پر حملے کرائے گئے جن کے نتیجے میں فورسز کے چھ اہلکا شہید ہوگئے جبکہ بلوچستان میں بھی دو حملے کرائے گئے۔
فاٹا کے سابق سیکرٹری بریگیڈیئر محمود شاہ کے مطابق اس بات کا کوئی خطرہ نہیں ہے کہ خیبر پختونخوا یا پورے ملک میں ماضی جیسی صورتحال پیدا ہوگی۔ انہوں نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ ٹی ٹی پی کی قوت ختم کر دی گئی ہے اور وہ بڑے حملوں کی صلاحیت یا طاقت نہیں رکھتی۔ انہوں نے کہا کہ افغان طالبان کے برسراقتدار آنے کے بعد ٹی ٹی پی کے ان جنگجوؤں کے لیے اب پاکستان کے خلاف کارروائیاں ممکن نہیں رہیں جنہوں نے وہاں پناہ لے کر رکھی ہے اور سابق افغان حکومت، بھارت اور امریکہ کی سرپرستی میں وہ پاکستان پر حملہ کر رہے تھے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اپنی ناکامی کی خفت مٹانے کے لیے ان عناصر کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش ضرور کرے گا اور یہ کہ داعش کی سرپرستی بھی امریکہ اور بھارت جیسے ممالک کر رہے ہیں۔
دوسری طرف سابق ہوم سیکرٹری ڈاکٹر سید اختر علی شاہ کے مطابق پاکستان کو گڈ اور بیڈ کے چکر اور بیانیہ سے نکل کر ہر اس تنظیم یا گروہ کے ساتھ سختی کے ساتھ نمٹنا چاہیے جو کہ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کا سبب ہو۔ ان کے مطابق ہمارے قومی بیانیہ میں اب بھی کافی ابہام ہیں تاہم یہ بات خوش آئند ہے کہ عوام کی اکثریت امن پسند اور جمہوریت پسند ہے اور عوام نے ماضی میں ہر جینوئن آپریشن کے دوران نہ صرف قربانیاں دیں بلکہ ریاست کے ساتھ کھڑے بھی رہے۔ اختر علی شاہ کے مطابق افغانستان کے حالات ہر دور میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال، معاشرت اور سیاست پر اثر انداز ہوتے رہے ہیں اگرچہ اب امید یہ کی جا رہی ہے کہ افغانستان کے حالات امریکی انخلاء کے بعد بہتر ہو جائیں گے تاہم اس تلخ حقیقت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی سمیت بعض دیگر شدت پسند پاکستانی تنظیموں کے درمیان کافی نظریاتی ہم آہنگی پائی جاتی ہے اور اس فیکٹر کو بہرصورت ذہن میں رکھنا چاہیے کہ اب داعش خراسان کی صورت میں ایک نیا چیلنج سامنے آ گیا ہے۔
قبل ازیں 21 اکتوبر کو پشاور میں نیکٹا کے زیراہتمام کاؤنٹر وائلنس پالیسی کے عنوان سے ایک مباحثے کا انعقاد کیا گیا جس میں صحافیوں، اقلیتی رہنما، فورسز اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے اظہار خیال کرتے ہوئے مختلف تجاویز دیں اور اس بات پر اتفاق رائے کا اظہار کیا کہ شدت پسندی کے خاتمے کے لیے فکری اور سماجی شعور اور اجتماعی کوششوں کی اشد ضرورت ہے۔ آئی جی پی پختونخواہ معظم جاہ نے اس موقع پر کہا کہ فورسز کے درمیان مکمل ہم آہنگی اور کوآرڈینیشن ہے اور بدلتے حالات، چیلنجز سے نمٹناجائے گا۔
آئی جی پولیس نے اس موقع پر کہا کہ پشاور سیف سٹی پراجیکٹ انڈر پراسیس ہے تاہم اس میں تاخیر اس لیے ہوئی کہ اس کے لیے مختص 20 ارب کے غیرمعمولی بجٹ پر نظر ثانی کی جائے اور کم بجٹ میں درکار مقاصد حاصل کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور پولیس فورس کو ممکنہ چیلنجز کا پورا ادراک ہے اور ماضی جیسی صورتحال کبھی پیدا نہیں ہو گی۔
اس موقع پر اپنے ریمارکس میں ڈی جی نیکٹا اکبر ناصر خان نے کہا کہ پاکستان کے حالات، پالیسی درست سمت میں جا رہی ہے اور پالیسی میکنگ میں سیاسی اور عوامی حلقوں کی آراء مشاورت اور تجاویز کو بنیادی اہمیت دی جارہی ہے۔ ان کے مطابق ملک کا دفاع کرنا اور چیلنجز سے نمٹنا محض فورسز یا حکومت کی ذمہ داری نہیں ہے اس کے لیے لازمی ہے کہ عوام خصوصاً صاحب الرائے حلقے ان رویوں کی حوصلہ شکنی کریں جو کہ شدت پسندی یا دہشت گردی کا سبب بن رہے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ برداشت، میانہ روی اور اعتدال پسندی کے لئے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket