Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Monday, September 26, 2022

سیکھنے کے لیے خیبر پختونخواہ بہترین ماڈل

حال ہی میں وزیراعظم عمران خان نے سینئر صحافیوں کے ساتھ ہونے والی نشست میں اپوزیشن کو گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کی پیشکش کی جس پر پی ڈی ایم نے یہ تبصرہ کر کے منفی رد عمل دیا ہے کہ عمران خان ایسا کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے اور وہ اپوزیشن کے حالیہ دباؤ سے نکلنے کے لیے یہ پیشکش کر رہا ہے۔ قومی مسائل اور خطے خصوصاً پاکستان کو درپیش چیلنجز کا تقاضہ تو یہ ہے کہ تمام تر کشیدگی اور تلخی کے باوجود قومی مسائل پر نتیجہ خیز مقالمے، مشاورت اور دریا دلی سے کام لیا جائے۔  اس مقصد کے لیے قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلیاں اور سینیٹ وہ فورمز ہیں جن سے بہترین کام لیا جا سکتا ہے تاہم یہ بات افسوسناک بلکہ شرمناک رہی ہے کہ اپوزیشن اور حکومت دونوں میں ایسے متعدد افراد اور لیڈر موجود ہیں جو کہ اِن آئینی فورمز میں جوش خطابت اور مخالفت برائے مخالفت میں مکالمہ اور دلائل کی بجائے ایک دوسرے کو سلیکٹڈ، ڈاکو اور چوروں جیسے وہ القابات سے یاد کر کے نہ صرف اپنے اور اِن ایوانوں کا مذاق بناتے بنا دیتے ہیں بلکہ قومی مصالحت کے امکانات کو بھی ختم کر دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر عمران خان کی اس مثبت اور ذمہ دارانہ پیشکش کے صرف تین روز بعد ان کے ایک وفاقی وزیر امین اللہ گنڈاپور نے پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمن کی ذات اور سیاست پر جس بھونڈے انداز میں تبصرہ اور بیان بازی کی وہ افسوسناک رویہّ تھا۔ اسی طرح حکمران جماعت کے بعض لوگوں نے سوشل میڈیا پر مریم نواز کے خلاف جو غیر اخلاقی الفاظ استعمال کیے اس پر تبصرہ کرنا بھی دل گردے کا کام ہے۔ اسی طرح پی ایم ایل این کے بعض افراد نے وزیراعظم کی شریک حیات کے خلاف جس قسم کے ٹرینڈ چلائے وہ بھی قابلِ مذمت ہیں۔

 سیاسی اور پارلیمانی روایات کے مطابق حکومت یا برسراقتدار پارٹی پر معاملات سنبھالنے یا ان کو مزید بھگاڑنے کی زیادہ ذمہ داری انہی پر عائد ہوتی ہے اس لیے ایسے ترجمانوں اور وزراء کو سمجھانے یا لگام دینے کی اشد ضرورت ہے جو کہ حکومت اور اپوزیشن کے مجوزہ  بہتر تعلقات کو مزید خراب کرنا چاہتے ہیں۔

 اس ضمن میں ہم صوبہ خیبر پختونخوا کی مثال دے سکتے ہیں جہاں نہ صرف یہ کہ گزشتہ ساڑھے سات برس سے تحریک انصاف کی حکومت ہے بلکہ اس دوران دو وزرائے اعلیٰ نے اپوزیشن کو بہتر طریقے سے اس کے باوجود ڈیل کیا کہ مضبوط اپوزیشن پارٹیاں اسی صوبے میں پائی جاتی ہیں۔

؁۲۰۱۳کے الیکشن کے بعد جو اسمبلی صوبے میں قائم ہوئی اس کے اپوزیشن لیڈر مولانا لطف الرحمن جو کہ فضل الرحمان صاحب کے بھائی تھے عمران خان اور مولانا صاحب اس عرصہ کے دوران مسلسل ایک دوسرے پر حملہ آورر ہے مگر پرویز خٹک اور ان کی حکومت کے ساتھ لطف الرحمن کے تعلقات بہت بہتر اور برادرانہ ر ہے کیونکہ یہی صوبہ کی وہ روایات رہی ہیں جن پر ہر شہری کو فخر رہا ہے۔

؁۲۰۰۸سے ۲۰۱۳ کے درمیان حیدرخان ہوتی وزیراعلیٰ رہے تو اپوزیشن ان کو حسب اقتدار سے زیادہ اپنا وزیراعلیٰ سمجھتی جارہی اور وہ ان کے بھی پسندیدہ رہے۔

دو ہزار اٹھارہ کے بعد محمود خان کی زیر قیادت صوبے میں پھر سے پی ٹی آئی برسراقتدار آئی تو اس کو اسمبلی میں تاریخی اکثریت حاصل رہی ۔ لیڈر کی کرسی پر مولانا صاحب کے دست راست اکرم دورانی بٹھا ئے گئے مگر ان ڈھائی برسوں میں ان دونوں قائدین کے علاوہ فریقین کے درمیان بھی محبت، عزت اور احترام کا رشتہ قائم رہا اور یہ سیاسی اختلافات کے باوجود نہ صرف اسمبلی کو چلاتے رہے بلکہ ایک دوسرے کی غمی، شادی میں بھی شریک ہوتے رہے۔  یہی رویہ سپیکر قومی اسمبلی کا بھی رہا ۔

حال ہی میں جب خیبر پختونخواہ اسمبلی کی اپوزیشن نے فنڈز کے معاملے پرسی  ایم ہاؤس کے سامنے تین روز تک احتجاجی کیمپ لگایا تو جن لیڈر اور ارکان اسمبلی نے تقریریں کیں ان میں ذاتیات یا سیاسی مخالفت کی بجائے مسائل اور مطالبات پر اُن کا زیادہ زور رہا۔  متاثر کن صورتحال اس وقت پیدا ہوگئی جب وزیر اعلیٰ نے ایک موقع پر ان لیڈروں کے لئے چائے اور دیگر لوازمات بھجوا دیں جبکہ دوسرے دن سپیکر مشتاق غنی نے اپوزیشن ارکان اور لیڈروں کے لئے کھانا بھجوایا۔ اسی رویہ کا نتیجہ تھا کہ بعض اہم صوبائی وزراء تیسرے روز احتجاجی کیمپ میں جرگہ لے کر گئے جنہوں نے وزیر اعلیٰ کی جانب سے ان کو احتجاج ختم کرنے کی درخواست کر کے بائیکاٹ ختم کرنے پر آمادہ کیا اور فریقین نے ایک دوسرے کو پھولوں کے ہار پہنا کر اس نکتے پر اتفاق کیا کہ حلقوں اور عوام کے روزمرہ مسائل کے حل کے لیے سیاسی اختلافات کے باوجود مشترکہ کوششیں کی جائیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ وفاق اور دوسرے صوبے بھی اس مثبت رویے کا مظاہرہ کرکے پختونخواہ سے سبق سیکھ کر اس کی تقلید کریں۔  اس سے نہ صرف کشیدگی کم ہوگی بلکہ ان کی عزت میں اضافہ بھی ہو۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket