Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Thursday, October 6, 2022

سیاسی کشیدگی میں اداروں کو گھسیٹنے کی کوششیں

عقیل یوسفزئی

یہ بات نہ صرف قابل تشویش بلکہ قابل اعتراض بھی ہے کہ سیاسی جماعتوں کے قائدین اور کارکنان سیاسی مخالفت میں دلائل کی بجائے سر عام انتہائی سطحی اور کھبی کبھار بداخلاقی کے زمرے میں آنیوالی زبان استعمال کررہے ہیں. اس رویے کے باعث معاشرے میں تلخی اور کشیدگی کا جو ماحول فروغ پا چکا ہے اس کے مستقبل میں انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے تاہم قائدین کو ان اثرات کا ادراک نہیں ہورہا جو اور بھی خطرناک بات ہے۔

سیاست میں ذاتیات نہیں ہوتیں بلکہ ایشوز کی بنیاد پر اخلاقیات کے دائرے میں رہ کر مخالفت کی جاتی ہے تاہم چند برسوں سے پاکستان میں ذاتیات کی بنیاد پر سیاست چلنے لگی ہے. مثال کے طور پر ہفتہ رفتہ کے دوران تین اہم پارٹیوں کے قائدین نے ایکدوسرے کے نام لیکر جو القابات دیے وہ قابل تشویش ہے. چارسدہ میں عمران خان نے اپنی تقریر کے دوران مولانا فضل الرحمن اور ایمل ولی خان کو ایسے ناموں سے پکارا جن کو ضبط تحریر میں لانا بھی بداخلاقی کے زمرے میں آتا ہے. اس کے جواب میں مولانا فضل الرحمن اور ایمل ولی خان نے جو لہجہ استعمال کیا اور ایک نے عمران خان کو جس نام سے تشبیہ دی وہ بھی لکھا نہیں جاسکتا. اس سے قبل ایمل ولی خان نے ایک تقریر میں عمران خان کے دورہ چارسدہ کے اعلان پر جو کلمات ادا کئیے وہ بھی ناقابل بیان ہے. بات یہیں پر ختم ہوتی تو شاید نظر انداز کی جاسکتی تحریک انصاف کے بعض مقررین نے چارسدہ کے جلسے میں باچا خان جیسی شخصیت پر بھی رائے زنی کرکے ان کو نہ صرف پاکستان مخالف قرار دیا بلکہ تاریخ کو مسخ کرنے سے بھی گریز نہیں کیا حالانکہ اس صوبے کی یہ روایت رہی ہے کہ یہاں بزرگوں اور مرحومین سے متعلق یا تو اچھے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں یا بات ہی نہیں کی جاتی. یہ بداحتیاطی ایک ضمنی الیکشن کی مہم کے دوران بار بار کی جاتی رہی ہے حالانکہ چاہیے تو یہ تھا کہ عمران خان صاحب چارسدہ کے جلسے میں اپنی صوبائی حکومت کی کارکردگی، سیلاب زدگان کی امداد اور دوسرے اقدامات پر بات کرتے اور جواب میں ایمل ولی خان ایک مخالف امیدوار کے طور پر اپنی پارٹی اور اس کی سابقہ حکومت کی کارکردگی اور منشور پر بحث کرتے. مگر یہاں الزامات اور بدکلامی کا میچ چلتا رہا اور اس میچ میں کارکن بھی کود پڑے جنھوں نے ایک دوسرے کو عجیب و غریب قسم کے ناموں اور القابات سے نوازا۔

اس تمام صورتحال کا ایک اور خطرناک پہلو یہ ہے کہ عمران خان سمیت متعدد دوسرے لیڈر بعض اہم قومی اداروں کو بھی مشکوک اور متنازعہ بنانے کی مسلسل کوشش کرتے نظر آتے ہیں جس سے نہ صرف ان اداروں کی ساکھ اور مورال جیسی چیزیں متاثر ہوتی ہیں بلکہ کشیدگی میں مزید اضافہ کا راستہ بھی ہموار ہوتا ہے اور اس کے اثرات پورے سماج کو اپنی لپیٹ میں لیتے ہیں۔

مثال کے طور پر سوات میں منعقدہ بعض احتجاجی مظاہروں کے دوران بعض عناصر نے پاک فوج کے خلاف غیر ضروری نعرے لگائے حالانکہ سوات سیلاب اور حالیہ بدامنی کے دوران آرمی چیف اور کورکمانڈر پشاور سمیت تمام فوجی اداروں کی دلچسپی اور کارکردگی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر رہی ہیں اور عوام اس کا اعتراف بھی کرتے ہیں. دوسری جانب امن و امان کی زمہ داری بھی سول انتظامیہ کے زمرے میں آتی ہے مگر بعض لوگوں نے اس کے باوجود فوج کو اس میں کھینچنے کی کوشش کی کہ کورکمانڈر خود سوات گئے اور وہاں ایک جرگہ سے خطاب کے دوران انہوں نے سیکورٹی کے لئے تمام درکار اقدامات کی یقین دہانی بھی کرائی۔
اسی طرح نئے آرمی چیف کی تعیناتی کی روٹین کی کارروائی کو بھی غیر ضروری طور پر اچھالنے کی کوشش کرتے ہوئے متنازعہ بنانے کی مہم چلائی گئی اور اس کام میں قومی میڈیا نے بھی اپنا پورا حصہ ڈالا حالانکہ ملک کو سیلاب کے بدترین اثرات اور معاشی بحران جیسے چیلنجز کا سامنا ہے اور اس موقع پر تمام سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں کو ایک پیج پر ہونا چاہیے تھا۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket