Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Friday, September 30, 2022

سانحہ کے ٹی ایچ عوامی تشویش اور حکومتی ذمہ داری

نظام فطرت ہے کہ انسانوں اور اداروں سے بوجوہ بعض مواقع پر غلطیاں ہوتی رہتی ہیں تاہم ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ غلطیوں کے ذمہ داران اور اسباب کا تعین کر کے دوسروں کو اس بات کا یقین دلایا جائے کہ غلطی کی حقیقی تلافی بھی کی جاسکتی ہے۔

  گزشتہ دنوں خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور میں آکسیجن کمپنی کی جانب سے بروقت سپلائی نہ ہونے کے نتیجے میں چھ مریضوں کے جاں بحق ہونے کے واقعے نے جہاں ہر حساس اور باشعور شہری اور حکومت کو افسردہ کر دیا وہاں صوبہ پختونخوا میں ہسپتالوں اور ہیلتھ ریفارمز کے بارے میں کیے گئے حکومتی اقدامات اور دعوؤں کو بھی اس واقعہ نے سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔ وزیراعلیٰ محمود خان نے اس افسوس ناک واقعے کا سخت نوٹس لے کر تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے کر اسے 48 گھنٹوں میں واقعے کے ذمہ داران کی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے تاہم عوامی صحافتی اور سیاسی حلقوں میں محض انکوائری کو ناکافی قرار دے کر حکومت سے غفلت  برتنے والے افراد کے خلاف سخت ترین ایکشن کا مطالبہ کیا جا رہا ہے اور اس بات کی وضاحت بھی مانگی جارہی ہے کہ اتنے بڑے ہسپتال کو کرونا بحران اور آکسیجن کی غیرمعمولی ضرورت کے باوجود روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی سپلائی کے طریقہ کار پر کیوں چھوڑا گیا تھا؟

 عوام کا ردعمل اس حوالے سے بھی بالکل بجا ہے کہ معاشرے میں ویسے بھی کرونا کیسز اور اس کے نتیجے میں ہونے والی اموات کے بارے میں مختلف قسم کی افواہیں زیر گردش ہیں اور اس واقعہ نے نہ صرف یہ کہ حکومتی اقدامات سے متعلق دعوؤں کو مشکوک بنا دیا ہے بلکہ اِس عوامی تاثر یا خوف کو بھی تقویت دی ہے کہ کرونا متاثرین کی  بروقت اور مناسب دیکھ بھال نہیں کی جارہی۔ سچی بات تو یہ ہے کہ حکومتی ایکشن، معذرت اور انکوائری کے باوجود عوام کا ہیلتھ ریفارمز اور سرکاری ہسپتالوں کی مجموعی کارکردگی پر سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔  اس لیے لازمی ہے کہ عملی ایکشن لے کر عوام کے اعتماد کو بحال کیا جائے۔

کے ٹی ایچ کے ترجمان اور بعض وزراء کی جانب سے جاری کردہ وضاحتوں کو اس لئے ناکافی اور غیر اطمینان بخش قرار دیا جا رہا ہے کہ گیس کی سپلائی کے طریقہ کار کو ان کی اپنی وضاحت کے مطابق بھی کسی طور درست قرار نہیں دیا جاسکتا۔  پہلا کام تو یہ ہونا چاہئے تھا کہ انکوائری سے قبل متعلقہ کمپنی اور ہسپتال کے متعلقہ افسران کے خلاف سخت ایکشن لیا جاتا اور بعد میں اس بات کا جائزہ لیا جاتا کہ متبادل سپلائی کو ممکن بنانے میں تاخیر کیوں کی گئی اور وہ کون سے اسباب تھے جن کے باعث نصف درجن مریضوں کی قیمتی جانیں چلی گئیں۔  بعض متعلقہ حلقے بورڈ آف گورنرز اور ایم ٹی آئی قانون پر بھی شدید اعتراضات کرتے دکھائی دیے۔ ان کے خیال میں ایم ٹی آئی سسٹم پر ازسر نو نظر ثانی کی ضرورت ہے جبکہ ہسپتالوں کے انتظامی معاملات کے لیے اپنائے گئے طریقہ کار میں بھی تبدیلی ناگزیر ہے۔  اپوزیشن نے  اس واقعہ کو بنیاد بنا کر وزیر صحت سے استعفیٰ کا مطالبہ بھی کر دیا ہے جبکہ ڈاکٹروں کی مختلف تنظیموں کی جانب سے بھی ہیلتھ پالیسی اور اس واقعے پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ اس صورت حال کے تناظر میں ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ اور مخالفت برائے مخالفت کی بجائے حکومت کسی قسم کے کمپرومائز سے گریز کر کے سخت اقدامات اور ایکشن کو یقینی بنائے اور اپوزیشن،  ڈاکٹرز اس مد میں حکومت سے تعاون کرے کیونکہ مذکورہ واقعہ نے پورے سسٹم پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔  ایک ایسے وقت میں جبکہ صوبے میں کرونا کے کیسز کی شرح اموات کی تعداد میں تشویشناک اضافہ ہورہا ہے کسی قسم کی نرمی،کمپرومائز یارعایت کے نہ صرف خطرناک نتائج برآمد ہوں گے بلکہ بداعتمادی کی صورتحال کے نتیجے میں مریضوں کی تشویش میں اضافےاور کورونا کے مزید پھیلنے کا راستہ بھی ہموار ہوگا۔  اس لیے لازمی ہے کہ عملی اور دیرپا اقدامات کرکے عوام کا اعتماد بحال کیا جائے۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket