Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Friday, October 7, 2022

ریاستی رٹ کو یقینی بنانے کی ضرورت

اس میں تو دو رائے ہیں ہی نہیں کہ کسی بھی جمہوری معاشرے میں اپنے مطالبات منوانے کے لیے پرامن احتجاج کرنا سب کا بنیادی حق ہوتا ہے تاہم اس بات کی اجازت کسی کو نہیں دی جاسکتی کہ احتجاج کی آڑ میں تشدد کاراستہ اپنا کر شہریوں کو محصور اور ریاست کو مجبور کیا جائے۔ ایک کالعدم تنظیم نے ایک بار پھر جس قسم کی مزاحمت کا راستہ اپنایا ہے اس نے ریاست کو ایک بار پھر سخت اقدامات پر مجبور کر دیا ہے یہ اس گروپ کا ساتواں احتجاج ہے اور ہر احتجاج یا مزاحمت کے دوران جہاں پاکستان کو بطور ریاست سُبکی کا سامنا کرنا پڑا اور درجنوں افراد کی جانیں چلی گئیں وہاں عام شہریوں کو کئی کئی روز تک مختلف قسم کی مشکلات، رکاوٹوں اور خوف کی صورتحال سے گزرنا پڑا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض مغربی ممالک میں جان بوجھ کر مسلمانوں کو اشتعال دلانے کی کوششوں کا شعوری سلسلہ جاری ہے اور اس فہرست یا کوشش میں سب سے نمایاں فرانس ہے کیونکہ فرانس کے موجودہ صدر کا سیاسی پس منظر کافی منفی اور تاریک رہا ہے اور مسلمانوں سے ان کو شدید نفرت ہے تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ گستاخانہ خاکوں کی آڑ میں اپنے ہی ملک کو نقصان پہنچایا جائے اور اس قسم کا تاثر دینے کی کوشش کی جائے کہ خدانخواستہ پاکستان میں حکومت یا سیاسی سطح پر پیغمبر اسلام کی شان میں کسی قسم کی گستاخی کو برداشت کرنے کی کوئی گنجائش موجود ہے۔

حالیہ مزاحمت کو کسی طور نہ اسلام کی خدمت کا نام دیا جاسکتا ہے اور نہ ہی تشدد پر مبنی رویے کو جانبدار قرار دے کر ریاستی رٹ کو داؤ پر لگانے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ جو بھی شخص، گروپ یا پارٹی ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی کوشش کرے بلاامتیاز ایکشن اور جواب طلبی کا راستہ اپنا کر عوام کو تحفظ فراہم کیا جائے کیونکہ پاکستان مزید مہم جوئی اور ایسی حرکتوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
پاکستان کو گزشتہ کئی برسوں سے دوطرفہ انتہاپسندی کا سامنا ہے جبکہ ایک مخصوص طبقہ جاری ہائیبرڈ وار کے ذریعے اس کو ایک خطرناک ملک قرار دینے کے عالمی ایجنڈے کا باقاعدہ حصہ بنا ہوا ہے۔ ایسے میں متعلقہ ریاستی اداروں، سیاسی قوتوں، میڈیااور عوام کو محتاط اور ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔
ایک المیہ یہ بھی ہے کہ حکومت کے بعض اہم عہدیداران حالیہ مسئلہ سمیت قومی سلامتی کے بعض دیگر ایشوز پر بعض ایسے بیانات جاری کرتے ہیں جن کے باعث ریاستی پالیسی یا موقف میں ابہام کا تاثر ابھرتا ہے اور ادارے بھی کنفیوژن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ حالیہ مسئلہ کے بارے میں گذشتہ روز قومی سلامتی کمیٹی کے ایک اہم اجلاس کے دوران جو موقف اپنایا گیا ہے وہ نہ صرف یہ کہ بالکل درست ہے بلکہ وزراء کو چاہیے کہ اسی کو ریاستی بیانیہ سمجھ کر آگے بڑھے اور ابہام پھیلانے کا رویہ ترک کرکے ایک صفحے پرآکرکھیلیں۔ مذاکرات میں کوئی مضائقہ نہیں تاہم اس کے دوران مسائل کا مستقل حل نکالنے پر توجہ دے کر وقتی حل کے رویے سے گریز کیا جائے اور اگر مزاحمت کار ریاستی رٹ اور خارجہ امور، مجبوریوں کی نزاکت کو سمجھ نہیں پا رہے تو سخت ایکشن لیا جائے۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket