Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Monday, September 26, 2022

درپیش چیلنجز، پراکسیز اور پاکستان کی حکمت عملی

حسب توقع افغانستان کے حالات پاکستان پر اثر انداز ہونے لگے ہیں تاہم توقع کی جارہی ہے کہ جیسے ہی وہاں پر گورننس کے معاملات میں بہتری آنی شروع ہوگی پاکستان سمیت خطے کے مجموعی حالات میں اس کے باوجود مثبت تبدیلی رونما ہوگی کہ عالمی پراکسیز کے علاوہ اب داعش بھی کابل کے حالیہ خوفناک حملے کے بعد ایک چیلنج کی شکل اختیار کر گئی ہے۔
یہ تقاضہ کرنا یا تاثر قائم کرنا کہ 20، 40 برسوں کے مسائل چند ہفتوں میں حل ہوں گے یا افغانستان امن کا گہوارہ بن جائے نہ صرف زیادتی ہے بلکہ ایک احمقانہ تصور بھی ہے۔ اس کے باوجود بعض چیلنجز اور خدشات سے دوسروں کے علاوہ افغان طالبان اور پاکستان بھی پریشان ہیں۔ ان خدشات میں سب سے بڑا خدشہ افغانستان اور پاکستان کو بدلتے حالات میں پراکسیز اور سپائلرز کے حملوں سے محفوظ بنانا اور اعتماد سازی کو قائم کرنا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے گزشتہ روز بدلتے حالات اور چلینجز پر کھل کر تفصیل سے پاکستان کا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ ٹی ٹی پی سمیت کسی بھی قوت سے نمٹنے کے لیے درکار اقدامات کیے گئے ہیں اور افغان طالبان بھی یقین دہانی کرا چکے ہیں کہ کسی کو پاکستان کے خلاف کسی کاروائی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاک افغان بارڈر کو ممکنہ حد تک محفوظ بنایا جا چکا ہے اور مہاجرین کی آمد بھی ماضی کی طرح متوقع نہیں ہے جبکہ حالیہ تبدیلی کے بعد بھارت کی پاکستان مخالف سرگرمیوں میں بھی نمایاں کمی واقع ہوگی۔
تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ کابل کے حالیہ حملے سمیت اب تک جو کچھ ہوتا آیا ہے اس کی زیادہ ذمہ داری امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر عائد ہوتی ہے تاہم بعض حلقے اب بھی پرانے بیانیہ سے چمٹے ہوئے ہیں اور اُن کو بدلتے حالات کا ادراک نہیں ہے۔ امریکہ سے محض ایک ایئرپورٹ کو سنبھالا نہیں جا سکا جبکہ اس کے حامی محض دو ہفتوں کے عرصے کے دوران طالبان سے یہ توقع لگائے بیٹھے ہیں کے وہ اتنے چیلنجز اور پراکسیز کے باوجود تمام مسائل حل کر دینگے۔
جو امریکہ کل تک اپنے حامیوں سمیت پاکستان کو گالیاں دے کر ہر مسئلے ذمہ داری اس پر ڈال رہا تھا وہ آج بوجوہ اپنے فوجیوں، کارکنوں اور حامیوں کو نکالنے اور ٹھرانے کے لیے اسی پاکستان کا محتاج ہو گیا ہے اور روزانہ متعدد امریکی عالمی عہدیداران پاکستان کی حکومتی عہدیداران سے رابطے کر کے تعاون طلب کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
شیشے کے گھروں میں بیٹھے افغان اشرافیہ اور ان کے پاکستانی قوم پرست سوشل میڈیا پر یکطرفہ پروپیگنڈا کر رہے ہیں حالانکہ عام افغانی نہ صرف پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں بلکہ ایک بھیڑ نے گزشتہ روز طورخم بارڈر پر ہلہ بول کر پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران بارڈر فورسز کو گولی چلانے پر مجبور کیا کیونکہ ان کے پاس درکار دستاویزات اور تفصیلات نہیں تھیں۔ دوسری طرف وزیرستان سمیت خیبرپختونخوا کے تقریباً چار سرحدی علاقوں پر سرحد پار سے حملے ناکام بنائے گئے اور ان علاقوں کو محفوظ بنانے کے لیے فورسز کے مزید دستے تعینات کیے گئے۔
پاکستان کے لیے اب بھی بڑا چیلنج سرحدی علاقوں کو ٹی ٹی پی اور داعش سمیت دوسرے گروپوں کے حملوں سے نمٹنا اور خود کو بچانا ہے۔ کوشش کی جائے گی کہ بعض حملے کر ا کر نہ صرف پاکستان کو دباؤ میں لایا جائے بلکہ افغان طالبان اور پاکستان کے مثبت اور بہتر تعلقات کو بداعتمادی میں تبدیل کیا جائے۔ اس لیے فریقین کو بہت محتاط اور چوکس رہنے کی ضرورت ہے جبکہ بلوچستان میں بھی بعض مقامی اور غیر مقامی مزاحمت کاروں اور پراکسیز کی کارروائیوں کی اطلاعات ہیں۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو اپنی جغرافیائی اہمیت کے باعث جہاں بعض بنیادی نوعیت کے چیلنجز کا سامنا ہے وہاں ان دو صوبوں کے بعض سیاسی عناصر اور مغرب زدہ حلقے دوطرفہ تعاون کی بجاۓ اپنے کارکنوں اور حامیوں کو پاکستان کے خلاف اُکسانے کی اپنی کوشش سے بھی باز نہیں آرہے اور ان کی کوشش ہے کہ یہ تاثر دے کر لوگوں کو خوفزدہ کیا جائے کہ خطے میں 90 کی دہائی کی طرح صورتحال پیدا ہونے والی ہے۔ حالانکہ زمینی حقائق نہ صرف ماضی کے مقابلے میں یکسر مختلف ہیں بلکہ پاکستان کی ریاستی پالیسی اور اقدامات بھی دوسرے ممالک کے برعکس کافی اطمینان بخش ہیں۔
پاکستان کی عسکری قیادت کئی مہینوں سے جہاں ملک کی تمام سیاسی قیادت اور صاحب الرائے حلقوں کو وقتاً فوقتاً جاری صورتحال سے بریفنگز کے ذریعے آگاہ کر کے اعتماد میں لیتی آئی ہے بلکہ ان سے مشاورت بھی کی جاتی رہی ہے تاہم بعض حلقے اپنے روایتی بیانئیے اور رویے سے باز نہیں آرہے اور ان کی کوشش ہے کہ خوف، بدگمانی اور بد اعتمادی کو فروغ دیا جائے اس رویے سے گریز میں سب کی بہتری ہے اور ایک قومی سوچ سب کے مفاد میں ہے۔ ماضی قریب کی رابطہ کاری کے باوجود پھر بھی اس قسم کی کوششیں جاری رکھنی چاہییں کہ قومی اور علاقائی قیادت کو پھر سے اعتماد میں لیا جائے اور جو چند مٹھی بھر عناصر خوف اور بدگمانی پھیلانے میں مصروف ہیں ان کا راستہ روکا جائے۔رہی بات بعض مغرب زدہ افغانوں کی تو وہ جو ہتھکنڈے اور طریقے باہر جانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں افسوسناک بلکہ شرمناک بھی ہیں۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket