Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Thursday, December 1, 2022

تعلیمی اداروں کا بنیادی مقصد اور عمران خان کا بیانیہ

تعلیمی اداروں کا بنیادی مقصد اور عمران خان کا بیانیہ

عقیل یوسفزئی

سابق وزیراعظم عمران خان نے گورنمنٹ کالج لاہور کے بعد ایک ہفتے کے اندر ایڈورڈ کالج پشاور میں اسی طرح کا رویہ اور لہجہ استعمال کرکے والدین، اساتذہ اور سیاسی، سماجی حلقوں کی تشویش میں نہ صرف اضافے کا راستہ ہموار کردیا ہے بلکہ ان پر شدید تنقید بھی جاری ہے. سب سے پہلا سوال تو یہ اٹھایا جارہا ہے کہ اس قسم کے تعلیمی اداروں کو سیاسی مہم کے لیے استعمال کرنا انتظامی اور اخلاقی طور پر درست بھی ہے یا نہیں؟ کیونکہ تعلیمی اداروں میں تو ان کے سٹوڈنٹس اور یونینوں کو بھی ایسی سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جارہی حالانکہ ماضی میں ایسا ہوتا آیا ہے اور اس کا ایک پس منظر بھی ہے.
دوسری بات یہ ہے کہ کل کو اگر عمران خان کا کوئی مخالف لیڈر ایسا کرنا چاہے گا تو کیا ان کو ایسی اجازت اور سہولت دی جائے گی؟
تیسری بات یہ ہے کہ جو لہجہ عمران خان نے اپنے مخالفین اور ریاستی اداروں کے خلاف ان دو ایونٹس میں استعمال کیا اور جس طریقے سے دو تین قومی لیڈروں کو جن؛ “القابات” سے کھلے عام مخاطب کیا وہ کس حد تک مناسب اور قابل قبول تھا؟
نئی نسل میں ان کی مقبولیت اپنی جگہ تاہم تعلیمی اداروں میں جاکر ان کو قومی قیادت کو اس طرح مخاطب کرنا اور سٹوڈنٹس کے کچے اور جذباتی ذہنوں میں قومی اداروں کے بارے میں شکوک و شبہات اور نفرت پیدا کرنا اس ملک کی کونسی خدمت ہے جس نے ان کو وزیر اعظم کی کرسی پر بٹھایا اس کا جواب عمران خان اور ان ایونٹس کی اجازت دینے والوں سے طلب کرنا چاہیے۔
یہاں ان سے یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ جس صوبے میں گزشتہ 9 سال سے ان کی حکومت ہے اس صوبے میں انہوں نے تعلیم کے فروغ اور نوجوانوں کے مستقبل کے لئے کیا کچھ کیا ہے؟ حالت تو یہ ہے کہ اس وقت خیبر پختون خوا میں تقریباً 23 ملین بچے آوٹ آف سکولز ہیں. 45 فی صد سٹوڈنٹس سرکاری سکولوں کی بجائے پرائیویٹ سیکٹر میں تعلیم حاصل کررہے ہیں. حال ہی میں اسی حکومت نے 9 اضلاع کے 180 سرکاری سکولوں کو نجی شعبے کی تحویل میں دیا.
تین برسوں سے سرکاری سکولوں کے نتائج تاریخ کی بدترین سطح پر پہنچ گئے ہیں اور 38 فی صد سکولوں کو کتابیں فراہم نہیں کی گئیں۔
صوبے کی جامعات کو بدترین مالی بحران کا 5 سال سے سامنا ہے اور اس کے ملازمین گزشتہ 10 روز سے مطالبات کے حق میں احتجاج کے طور پر ڈیرے ڈال چکے ہیں جن سے کوئی ملنا بھی گوارا نہیں کرتا۔ یہ واحد صوبہ ہے جس کی جامعات کے ملازمین کی تنخواہوں میں گزشتہ کئی سالوں سے ایک روپیہ کا اضافہ نہیں ہوا ہے۔
جس ایڈوڈ کالج میں انہوں نے بچوں کو اپنے خود ساختہ انقلاب میں شرکت کی دعوت دی وہ کئی برسوں سے پرنسپل اور وائس پرنسپل سے محروم رہنے کے علاوہ اس کے باوجود بنیادی سہولیات سے محروم ہے کہ اس کے آدھے سٹوڈنٹس سیلف فنانس کے تحت بھاری رقوم دیکر تعلیم پیسے دیکر “خرید” رہے ہیں. یہی حالت ہر دوسرے کالج، سکول اور یونیورسٹی کی ہے مگر موصوف یا ان کی صوبائی حکومت ان تمام مسائل سے مکمل لاتعلقی کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں.
وہ خود کو نوجوانوں اور خواتین کا لیڈر کہتے ہیں۔کیا وہ یا ان کے چابکدست ترجمان یہ بتانے کی ہمت کرسکتے ہیں کہ اب تک انہوں نے کتنے نوجوانوں یا خواتین کو ملازمتیں دی ہیں یا ان کی یوتھ پالیسی اگر ہے تو کیا ہے؟
تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ پختون خوا اس وقت پاکستان کا واحد صوبہ ہے جس کی کابینہ میں ایک بھی خاتون وزیر نہیں ہیں.
ضرورت اس بات کی ہے کہ عمران خان نے تعلیمی اداروں کو بوجوہ اپنی یکطرفہ سیاسی مہم کے لیے جس تواتر کے ساتھ استعمال کرنا شروع کیا ہے اور ان کو اس ضمن میں جو سہولیات فراہم کی جارہی ہیں اس کا نوٹس لیا جائے کیونکہ یہ نئی نسل کی تعلیم، تربیت اور ذہن سازی کے لیے ایک خطرناک عمل ہے اور ہمارا ملک، معاشرہ جاری صورتحال میں اس تجربے یا روایت کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket