Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Friday, October 7, 2022

بیگم نسیم ولی خان کی رحلت ایک عہد کا اختتام

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں مزاحمتی سیاست کی پہلی خاتون سیاستدان، خان عبدالولی خان کی اہلیہ اور اسفندیار ولی خان کی والدہ بیگم نسیم ولی خان گزشتہ روز طویل علالت کے باعث انتقال کر گئیں۔ آرمی چیف سمیت پاکستان،  افغانستان اور بھارت کے حکمرانوں اور سیاستدانوں نے مرحومہ کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرکے جمہوریت کے لیے ان کی خدمات کو ناقابل فراموش قرار دے دیا۔ یوں ایک باجرت، دلیر اور سیاسی جدوجہد سے بھرپور عہد کا اختتام ہوا۔

بیگم نسیم ولی خان ممتاز خدائی خدمتگار امیر محمد خان کی صاحبزادی، اعظم ہوتی مرحوم کی ہمشیرہ اور افندیار ولی خان،  سنگن ولی خان،  ڈاکٹر گلالئی ولی خان کی والدہ تھیں۔  وہ 1933 کو مردان میں پیدا ہوئیں جبکہ 1954 میں ان کی خان عبدالولی خان سے شادی ہوئی۔  ان کی جوڑی کو مثالی قرار دیا جاتا رہا کیونکہ بیگم نسیم ولی خان کی ولی خان اس حوالے سے بھی بہت عزت کرتے تھے کہ بھٹو دور میں جب نیپ پر پابندی لگائی گئی تو تمام قوم پرست لیڈر جیلوں میں ڈالے گئے اور نسیم بی بی نے قومی اتحاد کے قیام میں جہاں بنیادی کردار ادا کیا وہاں انہوں نے این ڈی پی کی بنیاد رکھ کر ولی خان اور دیگر لیڈروں کو ایک موثر پلیٹ فارم بھی فراہم کیا۔

انیس سو ستتر 1977 کے الیکشن میں انہوں نے پارٹی کو لیڈ کیا اور جنرل سیٹ پر صوبے کی پہلی منتخب ہونے والی خاتون کا اعزاز اپنے نام کیا عوامی اتحاد کی تحریک کے دوران وہ بھٹو حکومت کے لیے درد سر بنی رہیں اور ان کی تقاریر کو پورے ملک میں شہرت حاصل رہی ان کو چار مرتبہ صوبائی اسمبلی اور قومی اسمبلی کی نشست جیتنے کا منفرد اعزاز بھی حاصل ہے۔  اس کے علاوہ وہ تین مرتبہ عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی صدر جبکہ اتنی ہی بار پختونخوا اسمبلی کی اپوزیشن لیڈر بھی رہی ہیں۔

ولی خان اور دوسرے لیڈروں کی رہائی میں ان کا مرکزی کردار رہا انہوں نے اس دور میں جہاں زبردست تحریک چلائی وہاں جنرل ضیاء الحق کے ساتھ کامیاب پولیٹیکل ڈیلنگ کرکے بھٹو حکومت کے خاتمے میں اور اسے دباؤ میں لانے کا راستہ ہموار کرنے میں بھی کامیابی حاصل کی جسکے باعث لمبے عرصے تک نئی حکومت اور ولی باغ کے بہتر مراسم بھی رہے۔  تاہم جب 1985 میں ایم آر ڈی کی تحریک چل نکلی تو ولی خان اور بیگم نسیم ولی خان نے ضیاء الحق کی آمریت کے خلاف تاریخی کردار ادا کیا۔

 بیگم نسیم ولی خان کو قدرت نے کمال کی قوت فیصلہ سے نوازا تھا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ انہوں نے جہاں ایک طرف دوبارہ اپنی پارٹی کو حکومتوں سے نکالنے کے فیصلے کئے وہاں انہوں نے پارٹی کے اندر رہ کر اپنے کسی مخالف لیڈر کو بوجوہ ٹکنے بھی نہیں دیا اور غالباً  اسی کا نتیجہ تھا کہ 90 کی دہائی کے آخر میں پارٹی  کے اندر سے ان کے خلاف بغاوت کی گئی اور ان کو گھر تک محدود کردیا گیا۔

پارٹی کے اندر ان کو آئرن لیڈی کا خطاب دیا گیا۔ لمبے عرصے تک ان کے اوراسفند یار ولی خان کے درمیان رابطے اور مراسم منقطع رہے مگر اس دوران دونوں لیڈروں نے احترام اور عزت کے رشتے کو جانے نہیں دیا اور چند برس قبل فیملی کے اندر تعلقات پھر سے بحال کیے گئے۔

 ولی خان کی وفات اور اس کے بعد سنگین ولی خان کی موت نے نسیم بیوی کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور ان کی صحت تیزی سے خراب ہونے لگی تھی۔  ناراضگی کے دوران انہوں نے اے این پی ولی کے نام سے الگ گروپ بھی بنایا مگر ان کی کمزور صحت اور اسفندیار ولی خان کی مضبوط گرفت کے باعث یہ تجربہ کامیاب نہ ہوسکا جس کے بعد انہوں نے عملی سیاست سے لاتعلقی اختیار کر کے ولی باغ تک خود کو محدود کیا اور اپنے نوجوان پوتے لونگین ولی خان کی سیاسی تربیت پر توجہ مرکوز رکھی جو کہ سنگین ولی خان کے صاحبزادے اور ایمل ولی خان کے چچا زاد ہیں۔

ملک خصوصاً پختونخوا کی سیاسی تاریخ میں شاید ہی بیگم نسیم ولی خان سے کوئی طاقتور ، باجرت اور زیرک سیاستدان گزری ہو۔  وہ ایک باوقار، خوش لباس،  تیز گفتار خاتون تھی اور قدرت نے ان کو بہت سی خوبیوں سے نوازا تھا۔  اسی کا نتیجہ ہے کہ ان کی وفات پر قوم پرست حلقوں کے علاوہ ہر طبقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لیڈروں اور لوگوں نے افسوس اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ان کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کی۔

 مرحومہ لمبے عرصے تک ملک کے سیاسی منظر نامے پر کچھ اس  انداز سے چھائی رہیں کہ تاریخ میں ان کے نام اور کردار کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ لمبے عرصے تک نہ صرف یہ  کہ ان کی مثالیں دے کر یاد رکھا جائے گا بلکہ وہ سیاسی کارکنوں بالخصوص خواتین کے لیے ایک سِمبل بنی رہیں گی،  ایک ایسا سمِبل جس کی بنیاد وقار،  جرات، روایت پسندی اور ڈسپلن پر قائم رہی ہے۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket