Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Tuesday, September 27, 2022

اور امریکہ کے ویتنامی سپورٹرز ہیلی کاپٹر کو اڑتے دیکھتے رہے

امریکہ نے ویتنام میں جنگ کا آغاز کیا تو اس کے حکمرانوں اور میڈیا کا کہنا تھا کہ چند ہی مہینوں میں وہ اس چھوٹے سے ملک کو قبضہ کر لیں گے۔مگر ان کو اس مزاحمت کا اندازہ نہیں تھا جو کہ مقامی قیادت،عوام اور ان کی سرپرستی کرنے والے سوویت بلاک کی جانب سے دیکھنے کو ملی۔امریکہ کے حامی عناصر کی عوام میں کوئی مقبولیت نہیں تھی اور ان کی حمایت محض مفروضوں تک محدود تھی۔امریکہ نے حسب روایت عام لوگوں کو نشانہ بنانا شروع کیا تو عوام کے علاوہ اس کے 50 فیصد حامی بھی اس کے خلاف ہوگئے اور انہوں نے امریکی فوج کے خلاف مزاحمت شروع کردی۔ اس صورتحال سے سوویت بلاک نے بوجوہ فائدہ اٹھا نا شروع کر دیا اور امریکہ کا ویتنام پر قبضہ ایک ڈراؤنا خواب بن کر رہ گیا۔

عوام کے ساتھ اس کا تعلق کار چونکہ ایک فاتح یا جارح قوت کا تھا اس لیے مزاحمت بڑھتی گئی اور امریکیوں کو لینے کے دینے پڑ گئے۔ایک وقت وہ آ گیا جب خواتین اور بچوں نے بھی ان پر حملے شروع کر دیے۔امریکہ کے مقامی حامیوں پر بھی زندگی تنگ ہونے لگی۔وہ بھی قوم پرستوں کے گھیراؤ میں آ نے لگے اورجنگ جیتنے کے لئے ہر حربہ استعمال کیا گیا ۔ ٹروپس اور ہتھیاروں کی تعداد بڑھائی گئی جبکہ اتحادیوں کی ممکنہ حمایت بھی حاصل کی گئی مگر دوسری طرف کی مزاحمت اتنی شدید اور منظم تھی کہ امریکہ کی پوری کوشش اور ساکھ داو پر لگ گئی۔عوامی اتحاد اور مزاحمت کے سامنے کوئی حربہ کامیاب نہ ہو سکا۔اس صورتحال نے امریکی حامیوں کے اوسان خطا کردیے اور ان کو اپنی زندگی کی فکر ہونے لگی۔اہم لوگ پڑوسی ممالک توبھاگ گئے جو رہ گئے انہوں نے امریکی حکام سے ملاقاتیں کیں اور مطالبہ کیا کہ ان کو نکالا جائے۔امریکیوں نے ان کو یقین دہانیاں کرائی کہ جب وہ نکلیں گے تو ان کی وفاداری کے بدلے انہیں بھی ساتھ لے کر جائیں گے۔پھر فہرستیں تیار ہونے لگیں،سب خوش تھے کہ ان کی زندگی بچ جائے گی اور وہ امریکہ میں عیش و آرام کی زندگی گزاریں گے۔مگر ان کو امریکیوں کے مزاج اور تاریخ کا علم نہیں تھا۔

بدترین حالات اور شکست کے بعد امریکی انخلاء کا آ غا ز ہوا تو مقامی حامی بھی نکلنے کی تیاری کر نے لگے۔سب کو بتایا گیا کہ فوج کی واپسی کے بعد ان کو امریکہ منتقل کیا جائے گااور آ خر کار جب ایک ہیلی کاپٹر اپنے ایک اخری سپاہی کو اٹھوانے آیا تو موقع پر موجود امریکہ کے بعض ویتنامی حامیوں نے بھی اس رسی کو پکڑ کر ہیلی کاپٹر میں سوار ہو نے کی کوشش کی ۔

ہیلی کاپٹر کے آپریٹرز نے جیسے ہی اپنے سپاہی کو اپر کھینچ کر بٹھایا انہوں نے رسی کاٹ دی اور ان کے ویتنامی حامی اتنی اونچائی سے گر کر ہلاک ہوگئے۔ڈر ہے کہ کہیں امریکہ ایک پڑوسی ملک کی جاری صورتحال میں ویتنام کا اپنا وہ والا فارمولہ پھر سے استعمال نہ کرے کیونکہ یہ ہر جگہ اور ہر ملک میں امریکیوں کا رویہ اور طریقہ کار رہا ہے۔رہی بات حکمرانوں کی تو ان کےلئے دنیا میں امریکہ کے سب سے بڑے ایجنٹ ایران کےرضا شاہ پہلوی کی مثال کافی ہے جس کے ساتھ امریکہ نے وہی کام کیا جو کہ ہیلی کاپٹر کی رسی پکڑنے والے چند ویتنامیوں کےساتھ کیا گیا تھا۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket