Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Monday, September 26, 2022

افغانستان کی کشیدہ صورتحال اور پاکستان پر اس کے اثرات

افغانستان میں بدامنی اور کشیدگی بڑھتی جارہی ہے جس کے منفی اثرات حسب توقع اب پاکستان پر بھی پڑنے لگے ہیں۔ جبکہ اس خدشے کا اظہار ہونے لگا ہے کہ اگر افغان حکمرانوں، سیاستدانوں اور ان کے اتحادیوں نے ذمہ داری اور ہوش سے کام نہیں لیا تو 90 کی دہائی کی طرح نہ صرف یہ کہ افغانستان پھر سے خانہ جنگی کی صورتحال سے دوچار ہو جائے گا بلکہ پڑوسی ممالک بھی اپنے خدشات کے تناظر میں خاموش نہیں رہیں گے۔

 ہفتہ رفتہ کے دوران افغان نائب کے بعد صدر اشرف غنی نے بھی ایک مضمون کے دوران حسب سابق جاری حالات کی ذمہ داری دوسروں پر خصوصاً پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اب یہ فیصلہ کرے کہ وہ افغانستان کا دوست ہے یا دشمن؟

پاکستان کے بارے میں اس طرح کا سوال کرنا اس حوالے سے مناسب طرز عمل نہیں کہلایا جا سکتا کہ اشرف غنی سمیت امریکا، افغان متحدہ اور متعدد دوسرے ممالک بھی کچھ عرصہ قبل پاکستان کے مثبت اور

 مصالحانہ کردار کا کئی بار نہ صرف اعتراف کر چکے ہیں بلکہ پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔

اصل مسئلہ افغانوں کا اپنا پیدا کردہ ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ کرسی کی قربانی نہیں دے رہے اور انا پرستی کا شکار ہو کر ایک دوسرے کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کے لئے بیٹھنے کو تیار نہیں ہیں۔ طالبان افغان حکومت کو سرے سے تسلیم نہیں کر رہے اور اب وہ دوحا معاہدہ توڑنے یا اس کی خلاف ورزی پر تلے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف کابل میں متعدد ایسے اہم لوگ حکومت کا حصہ ہیں جو کہ امن کو اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔

ہر مسئلہ اور ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کا فارمولا اور طریقہ شاید اب دنیا کے علاوہ افغان عوام کیلئے بھی قابل قبول نہیں رہا اور غالباً اسی کا نتیجہ ہے کہ افغان پارلیمنٹ اور سینٹ کے درجنوں نمائندوں نے کئی اجلاسوں کے دوران بدامنی اور کشیدگی کی براہ راست ذمہ داری حکومت پر ڈال دی۔

‎  بلوچستان کے علاقے ژوب میں افغان سائیڈ سے پاکستان کی فرنٹیئرکور پر بلااشتعال فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں تقریباً نصف درجن جوان شہید اور زخمی ہوئے جبکہ ایک اور کارروائی کے دوران شمالی وزیرستان میں کیپٹن سمیت 3 جوان شہید اور کئی زخمی ہوئے۔ ٹی ٹی پی کے ‎ حملے کی ذمہ داری ٹی ٹی پی نے قبول کی تقریباً چھ ہزار افراد نے اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان میں پناہ لے رکھی ہے اور بعض افغان ادارے ان کی باقاعدہ سرپرستی اور معاونت کر رہے ہیں۔ ایسے حملے ماضی میں بھی ہوتے رہے ہیں ان سے دو نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں ایک تو یہ کہ افغان فورسز اور حکومت کی اپنے علاقوں میں رٹ عملاً نہ ہونے کے برابر ہے اور دوسرا یہ کہ اگر ایسا نہیں تو پاکستان پر حکومتی سرپرستی میں حملے کرائے جا رہے ہیں۔

یہ صورتحال جہاں دونوں ممالک میں کشیدگی بڑھا رہی ہیں بلکہ اس سے امن کا عمل بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بلیم گیم کی بجائے حقائق کا ادراک کرتے ہوئے کشیدگی، الزام تراشی اور بیان بازی سے گریز کیا جائے۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket