Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Monday, September 26, 2022

افغانستان میں کالعدم ٹی ٹی پی کی موجودگی اور درپیش چیلنجز

تحریر: حیات اللہ محسود

طالبان کا افغانستان پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے امیر مفتی نورولی محسود نے بھی افغان طالبان کے ساتھ از سر نو دوبارہ بیعت کرنے کا اعلان کر دیا ۔کالعدم ٹی ٹی پی ا س سے پہلے بھی اسلامی امارت کی بیعت کے دائرے میں کام کرتے رہے تھے لیکن اسلامی امارت کے چند رہنماوں کے ساتھ اختلافات کے باعث انکو اسلامی امارت کی جانب سے کئی مشکلات کا سامنا رہا ہے بلکہ اپریشن راہ نجات کے بعد افغانستان کے مختلف علاقوں میں رہائش پزیر رہے ہیں ۔کالعدم تحریک طالبان کے مفتی نورولی کی جانب سے افغان طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ اور انکے دیگر رہنماوں سمیت افغان طالبان کے نام افغانستان میں امریکہ کو شکست دینے پر مبارکباد سمیت انکے ساتھ تجدید بیعت کے اعلان سے اس بات کی تصدیق ہوگئی کہ افغان طالبان اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان ایک ہیں ۔لیکن افغان طالبان کی جانب سے کالعدم ٹی ٹی پی کے امیر مفتی نورولی کے اعلان پر تاحال کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔
زرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے امیر مفتی نورولی نے اپنے جنگجوں کو یہ حکم جاری کردیا کہ آگے کا لائحہ عمل تیار کرنے تک وہ پاکستان میں کاروائی کرنے سے گریز کریں اب وہ آگے کا کیا لائحہ عمل تیار کررہے ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن ایک بات واضح ہے کہ دوحا مذاکرات میں افغان طالبان نے اس معاہدے پر دستخط کیا تھا کہ وہ اپنی زمین کو کسی کیخلاف استعمال ہونے نہیں دینگے اب اگر افغان طالبان اس مذاکرات کی خلاف ورزی کریں پھر تو یہ انکے کے لیے بھی مشکلات کا باعث بن سکتا ہے لیکن یہ ممکن نہیں ہے کہ چند سو پر مشتمل جنگجوں کے لیے وہ افغانستان کا مستقبل خطرے میں ڈالے لیکن پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انکے ساتھ بیعت شدہ کالعدم تحریک طالبان کو وہ پاکستان میں تخریب کاری سے باز رکھیں گے یا پھر ان سے لاتعلقی کا اظہار کریں گے اگر افغان طالبان پاکستان کے ساتھ مخلص ہیں تو وہ کسی بھی صورت کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے لاتعلقی کا اعلان نہیں کرینگےبلکہ وہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کو اس بات کا پابند کریں گے کہ وہ پاکستان میں تخریب کاری نہ کریں ایسا کرنے کی صورت میں پاکستان میں اور بالخصوص قبائلی اضلاع میں پائیدار امن قائیم ہوجائے گا ۔
لیکن کالعدم تحریک طالبان کوافغان طالبان اس بات کا پابند بنائیں گے کہ وہ پاکستان میں تخریب کاری نہ کریں تو اسکے لیے کالعدم ٹی ٹی پی تو تیار ہے لیکن وہ بھی انکے سامنے شرائط رکھیں گے ۔زرائع کے مطابق افغان طالبان نے جب کالعدم ٹی ٹی پی کو علاقے سے نکلنے کے لیے ایک خط بھیجا تھا جس میں یہ واضح طور پر لکھا تھا کہ وہ افغان سرزمین سے فوری طورپر نکل جائے نہ نکلنے کی صورت میں وہ پاکستان کے خلاف کاروائی کرنے سے باز رہنے سمیت دیگر شرائط بھی اس خط میں لکھی گئی تھیں جسکا جواب کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے امیرنے ایک شاعرانا نظم کے زریعے دیا تھا جس میں انھوں نے افغان طالبان کو وہ دور یاد دلایا تھا جب وہ بے سرو سامانی کی حالت میں اپنا ملک چھوڑ کر پاکستان کے قبائلی علاقوں میں آئے تھے اور وہاں پر کالعدم ٹی ٹی پی نے انھیں پناہ دی تھی ۔
اسکے ساتھ کالعدم ٹی ٹی پی کے حلقوں میں یہ بات زیر گردش تھی کہ افغان طالبان نے پاکستان کے کہنے پر ہمیں یہ خط ارسال کیا ہے اس خط کے بعد کالعدم ٹی ٹی پی کے اکثر جنگجوں افغان سرزمین کو چھوڑ کر پاکستان کے قبائلی علاقوں میں منتقل ہوئے ۔لیکن افغانستان پر طالبان کے کنٹرول کے بعد آہستہ آہستہ ان جنگجوں نے افغانستان کا رخ کیا۔ افغانستان میں کالعدم ٹی ٹی پی کی موجودگی کا اہم ثبوت یہ ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے سابقہ نائب امیر فقیر محمد کی افغان جیل سے رہائی کے بعد افغانستان کی سرزمین پر کالعدم ٹی ٹی پی نے انکا بھرپور استقبال کیا جسکی باقاعدہ ویڈیوز ٹی ٹی پی نے اپنے میڈیا سیل عمر میڈیا سے شئیر کیں ۔ویڈیومیں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی کی ایک بڑی تعداد فقیر محمد کی رہائی کے استقبال میں موجود ہے لیکن حیرانگی کی بات یہ ہے کہ گزشتہ دنوں پریس کانفرنس میں افغان طالبان کے رہنما سے کالعدم ٹی ٹی پی کی افغانستان میں موجودگی کے صحافی کے سوال پر افغان طالبان رہنما نے کالعدم ٹی ٹی پی کے افغانستان میں موجودگی سے انکار کردیا ۔
افغان طالبان کے رہنما نے کالعدم ٹی ٹی پی کی افغانستان میں موجودگی سے انکار کس مصلحت کے تحت کیا یہ تو وہ بہتر جانتے ہیں لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی کی ایک بڑی تعدا ذمہ دار رہنما کے ساتھ افغانستان میں موجود ہے جبکہ زرائع نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ دنوں کالعدم ٹی ٹی پی کے امیر مفتی نورولی کابل میں موجود تھے جہاں پر انھوں نے افغان طالبان کے اہم رہنماوں سے ملاقات بھی کی مفتی نورولی کے ہمراہ ٹی ٹی پی کے دیگر اہم کمانڈر بھی موجود تھے ۔کالعدم ٹی ٹی پی کے ایک جنگجوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاونٹ سے ایک تحریر شئیر کی تھی جس میں انھوں نے لکھا تھا کہ ٹی ٹی پی کا وفد افغانستان میں افغان طالبان کو مبارکباد دینے کے لیے گیا جس پر افغان طالبان نے نہ صرف انکا بھرپور استقبال کیا بلکہ انکے جھنڈے اور ماتھے کو بھی چوماتھا اور افغانستان فتح میں انکی قربانیوں کی تعریف بھی کی تھی ۔ایک زرائع نے یہ بھی دعوہ کیا کہ افغان طالبان نے پکتیکا کے گورنر کو یہ ٹاسک دیا ہے کہ وہ کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کریں جسکے لیے باقاعدہ ایک دو نشست بھی ہوئے ہیں ۔اب دیکھنا یہ ہوگا کہ آنے والے دنوں میں افغان طالبان کالعدم ٹی ٹی پی کے حوالے سے کوئی ٹھوس حل نکالتا ہے یا پھر اسی طرح انکی افغانستان میں موجودگی سے انکار کی پالیسی پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket