Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Monday, September 26, 2022

احمد فراز کی سالگرہ، تسکین مانیروال کا انتقال

 برصغیر پاک و ہند کے مشہور ترین شاعر احمد فراز 12 جنوری 1931 کو خیبر پختونخوا کے شہر کوہاٹ میں پیدا ہوگئے تھے۔ نقاد اُن کو بیسویں صدی کے مشہور ترین رومانوی شاعر قرار دیتے ہیں جن کی شاعری نے  کئی نسلوں کو اپنی گرفت میں لیے رکھا اور درجنوں شعراء نے ان کے طرز اشعار کو اپنا کر مقبولیت حاصل کی۔  احمد فراز  نہ صرف بہت مقبول شاعر رہے بلکہ وہ ایک بہترین استاد بھی رہے جو کہ لمبے عرصے تک پشاور کے ایک مشہور کالج میں اردو پڑھاتے رہے اور ریڈیو پاکستان پشاور کے ساتھ اسکرپٹ رائٹر کے طور پر بھی منسلک رہے۔

اپنے ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ابتداء  میں انہوں نے پشتو زبان میں شاعری کرنے کا سوچا تاہم  اس ارادے کو عملی جامہ پہنانے میں اس لیے کامیاب نہ ہوسکے کہ اس زمانے میں پشتو ادب میں قلندر مومند، حمزہ شنواری اور اجمل خٹک جیسے بڑے شعراء موجود تھے اور پشتو کے کلاسیکل شعراء کی فہرست بھی کافی لمبی تھی اس لئے انہوں نے اردو زبان میں شاعری کا آغاز کیا۔

احمد فراز نے بھرپور زندگی گزاری۔ وہ رومانوی شاعری کے سیمبل قرار پائے تو انہوں نے دوسری طرف مزاحمتی اور  انقلابی شاعری کو بھی موضوع بحث بنا کر عالمی سطح پر بائیں بازو اور ترقی پسند حلقوں میں بہت اچھی شہرت پائی۔ یہ بات خیبرپختونخوا کے لئے قابل فخر رہی کہ اگر ایک طرف اس خطے نے پشتو زبان کے نامور شعراء،  ادیب اور ڈرامہ رائٹر پیدا کیے تو دوسری طرف اس مٹی نے اردو میں احمد فراز، ایوب صابر، غلام محمد قاصر، محسن احسان، قتیل شفائی ،زیتون بانو، ناصر علی سید، خاطر غزلوی اور رضا ہمدانی سمیت درجنوں دوسرے اہم اور مقبول شغراء بھی پیدا کیے جنہوں نے کمال کی شاعری کی اور ثابت کیا کہ یہ مٹی بڑی زرخیز ہے۔

 احمد فراز 25 اگست 2008 کو ایک کامیاب، مقبول اور شاندار زندگی گزارنے کے بعد شاعری کا ایک انمول اثاثہ چھوڑنے کے باعث انتقال کر گئے جن کو اسلام آباد کی ایک قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔  اردو شاعری میں ان کا نام صدیوں یاد رکھا جائے گا۔

taskeen manerwal

 ہفتہ رفتہ  کے دوران پشتو زبان کے ایک صاحب طرز شاعر تسکین مانیروال انتقال کرگئے جس پر ان کے لاکھوں مداحوں اور ادبی حلقوں نےدلی رنج کا اظہار کرتے ہوئے اسے بڑا ادبی نقصان قرار دے دیا۔  تسکین مانیروال کا تعلق صوابی سے تھا۔  انہوں نے زندگی کے مختلف نشیب و فراز دیکھے۔  تنہائی پسند انسان تھے مگر ان کی شاعری اپنی انفرادیت کے باعث کافی مقبول رہی اور ان کی متعدد نظموں،  رباعیات اور غزلوں نے بہت شہرت پائی۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket