Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Thursday, October 6, 2022

اجمل وزیر دس مہینے بعد آڈیو سکینڈل میں بے قصور قرار

 خیبرپختونخوا کے سابق مشیر اطلاعات اجمل خان وزیر ایک میڈیا کمپین سے متعلق آڈیو سکیندل میں بے قصور قرار دیے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اجمل وزیر پرمیڈیا کمپین میں ملوث ہونے کے الزامات حکومتی فرانزک رپورٹ اور تحقیقاتی عمل کے دوران ثابت نہیں کیے جاسکے مشیراطلاعات کامران بنگش کےجاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعلی نے مبینہ آڈیو اسکینڈل کی تحقیقات کے لیے صاحبزادہ محمد سعید کی سربراہی میں انکوائری کمیشن قائم کیا تھا جس کے دوسرے ارکان میں طارق جاوید اور محمد بشیر شامل تھے کمیشن نے اپنی رپورٹ صوبائی حکومت کو پیش کی جس کے بعد قرار پایا کہ اجمل وزیر پر لگائے گئے الزامات میں کوئی صداقت نہیں تھی اس لیے ان کو بے قصور قرار دیا گیا ۔

اطلاعات کے مطابق فرانزک لیبارٹری آڈیوٹیپ کی تصدیق نہ کرسکی جبکہ تحقیقاتی کمیشن نے جن متعلقہ افسران اور ایڈورٹائزنگ ایجنسی کے بیانات قلمبند کیے ان میں بھی اجمل وزیربے قصور قرار پائے جولائی دو ہزار بیس کے دوران اجمل وزیر پر لگائے گئے الزامات کی تحقیقات سے قبل ہی ان کو ان کے عہدے سے الگ کیا گیا اور وزیر اعلی نے تحقیقاتی کمیشن کو ایک ماہ کے اندر رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا تھا تاہم مشکوک طور پر یہ رپورٹ دس ماہ بعد  پبلک کی گئی جس پر سیاسی اور صحافتی حلقوں نے شکوک و شبہات کے علاوہ حیرت کا اظہار کرتے رہے تاہم اجمل وزیر نے اس تمام عرصے کے دوران ڈسپلن اور صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے مکمل خاموشی اختیار کی ۔

اس دوران انکشاف ہوا کہ جس ایڈورٹائزنگ ایجنسی سے کمیشن لینے کے الزام  اجمل وزیر پر لگایا گیا تھا صوبائی حکومت نے ان کو ادائیگی بھی کی اس کے باوجود رپورٹ کو لٹکایا جاتا رہا۔ اجمل وزیر نے رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کو اخلاقی فتح حاصل ہوئی ہے اور یہ دس مہینے  وہ شدید قسم کے ذہنی دباؤ کا شکار رہے۔

ان کے مطابق جو بیوروکریٹس اور دیگر ان کے خلاف اس سازش میں شامل رہے ہیں ان کو نہ صرف یہ کہ سب کے نام معلوم ہیں بلکہ ان کے پاس ٹھوس ثبوت بھی موجود ہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ فی الحال وہ اس بات پر مطمئن ہیں کہ ان کو بے قصور قرار دیا گیا ہے۔

تلخ حقیقت تو یہ ہےکہ اگر اجمل وزیر بے قصور تھے جو کہ رپورٹ میں کہا بھی گیا ہے تو دس ماہ تک ان کو جس اذیت اور دباؤ کا شکار بنایا گیا اس کی تلافی کسے ہو گی اور کون کرے گا؟ صحافتی حلقوں کے مطابق جو لوگ اس سازش کا حصہ رہے ہیں ایک تو ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے اور دوسرا یہ کہ اجمل وزیر کو دوبارہ کابینہ کا حصہ بنا کر ان کے ساتھ کی گئی زیادتی کا ازالہ کیا جائے اور آئندہ کے لیے ایسی کسی اور غلطی سے گریز کیا جائے۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket